عالمی ادارں اور حکومتوں کے ذریعے افراد باہم معذوری کی مدد کیلئے آج سے مہم شروع کی جائے گی

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)سائٹ سیورز پاکستان آج29 جون سے معزور افراد کیلئے ایک مہم کا آغاز کرنے جا رہا ہے جس میں اقوام متحدہ سے افراد باہم معذوری کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اپیل کی جائے گی۔اس عالمی پیٹیشن کو کمیونٹی بیسڈ انکلیثو ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (CBIDN) کی حمایت حاصل ہے جو پاکستان میں معذوری کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔مہم چلانے والوں کے مطابق ، وبائی امراض کے دوران دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے افراد برائے باہم معذوری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے ان افراد کی زندگیوں کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

یہ درخواست سائٹس سیورز کی ’مساوی دنیا’ کی مہم کا ایک حصہ ہے ، جس میں عالمی سطح پر افراد برائے باہم معذوری کی آواز اٹھانے اور ان کے حقوق کے رد کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔CBID نیٹ ورک پاکستان کے کوآرڈینیٹر عاصم ظفر نے کہا: “عام حالات میں بھی ، افراد باہم معذوری کی صحت کی دیکھ بھال ، تعلیم ، روزگار تک رسائی اور معاشرے میں حصہ لینے کے امکانات کم ہیں۔ ان کے غربت میں زندگی بسر کرنے ، تشدد کا سامنا کرنے ، نظرانداز کیے جانے اور بدسلوکی کا شکار ہونے کا زیادہ امکان ہے اور وہ بحران سے متاثر کسی بھی معاشرے میں سب سے پسماندہ افراد میں شامل ہوتے ہیں۔ CoVID-19 نے اس صورتحال کو مزید تقویت بخشی ہے ، جس سے افراد باہم معذوری پر واسطہ اور بلاواسطہ یقینی اثر پڑتا ہے۔

سائٹس سیورزپاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر نے کہا:“ معذور افراد جس امتیازی سلوک کی بات کر رہے ہیں ان میں صحت کی دیکھ بھال کرنے سے محروم رکھا جانا, اہم معلومات کا قابل رسائی فارمیٹ میں نہ ہونا, ضروری ذاتی مدد دینے سے انکار, اداروں میں کوویڈ 19 سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ ،اوران خواتین اور لڑکیوں کے لئے رکاوٹیں جو اپنے جنسی اور تولیدی صحت کے حقوق کا دعوی کرنا چاہتی ہیں، شامل ہیں۔”خواتین باہم معذوری کے قومی فورم کی چیئرپرسن عابیہ اکرم نے کہا: “کوویڈ ۔19 نے افراد باہم معذوری خصوصا خواتین باہم معذوری اور لڑکیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک اور عدم مساوات کو بے نقاب کیا ہے ۔”

مثال کے طور پر ، یہاں ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں ، کہ وہ افراد جو کسی شدید معذوری کا شکار ہیں اور ان کو گھر پر، کسی اٹینڈنٹ کی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ، ان کوانفیکشن لگنے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں روا رکھے جانے والے امتیاز کی وجہ سےCOVID جیسی آفت میں ہم سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور بہت کم مدد پاتے ہیں۔نتاشا کینیڈی، سائٹس سیورز ایکوئل ورلڈ کی کمپین مینیجر، نے کہا:’فی الوقت باہم معذوری کے حقوق کی تحریک اقوام متحدہ پر اثرانداز ہونے کے لئے مضبوط پوزیشن میں ہے۔ باہم معذوری کے حقوق کے اس نئے فریم ورک سے یہ یقینی بن سکتا ہے کہ افراذ باہم معذوری کی ضروریات کو نہ صرف اقوام متحدہ کے پورے نظام میں تسلیم کیا جائے بلکہ صحت کے شعبے میں ایمرجنسی رسپانس میں بھی ان کا خیال رکھا جائے۔

“ہمیں اقوام متحدہ اور ممبر ممالک کی ضرورت ہے کہ وہ اس کو یقینی بنانے کے لئے اپنی کوششیں تیز کریں۔ اسے پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ ہم ایک بین الاقوامی بحران میں مبتلا ہیں اور یہاں ایک ارب تک افراد باہم معذوری موجود ہیں جو اپنی ضرورت کی پہچان اور اس حوالے سے کسی مدد کے بغیر زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”ایکوئل ورلڈ پیٹیشن میں 15جولائی تک دستخط کئے جا سکتے ہیں۔
دستخط کرنے کے لئے اس ویب سائیٹ پر جا سکتے ہیں.
www.sightsavers.org/equalworld

سائٹ سیورز کے بارے میں
1۔ سائٹس سیورز کا وژن ایک ایسی دنیا کا ہے جہاں معذور افراد معاشرے میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ سائٹس سیورزایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو 30 سے ​​زیادہ ترقی پذیر ممالک میں قابل گریز بیماریوں سے بچاؤ، ان کے علاج اورنظرانداز کیے جانے والے ٹراپیکل امراض کے خاتمے اور معذور افراد کے حقوق کے فروغ کے لئے کام کرتی ہے۔

2۔ قیام کے بعد کی سات دہائیوں میں ، سائٹ سیورز نے جنوبی ایشیاء اور افریقہ کے 30 ممالک میں:
نظرانداز کی جانے والی بیماریوں کے علاج کے لئے 1.2 بلین سے بھی زیادہ کی مدد کی
بینائی بحال کرنے کے لئے 7.7 ملین سے زیادہ موتیا کے آپریشن کیے
آنکھوں کے 196 ملین سے زیادہ معائنہ جات کئے
4.6 ملین سے زیادہ عینکیں تقسیم کیں

3۔ پاکستان میں ، سائٹ سیورز نے 1985 میں کام کرنا شروع کیا ، اور کنٹری آفس دسمبر 1998 میں قائم کیا گیا تھا۔ ہمارے پاس شمولیاتی تعلیم ، سماجی شمولیت اور آنکھوں کی صحت کے شعبوں میں نمایاں تجربہ ہے۔ ہمارا کام زندگی میں سب کے لئےسیکھنے کےشمولیاتی اور مساوی مواقع کے اصول پر مشتمل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں