وائس چانلسر پروفیسر ڈاکٹر حمید پیرزادہ نے جامعہ خواتین باغ میں انتظامی اور مالی اصلاحات کا آغازکردیا

باغ (سٹیٹ ویوز)وائس چانسلرویمن یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر باغ پروفیس ڈاکٹرعبدالحمید پیرزادہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہیکہ سال 2014ء میں قائم ہونے والے اس تعلیمی ادارہ میں تین ہزارکے قریب طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ادارہ میں 14 مختلف شعبہ جات میں 35 ڈگری پروگرامز چل رہے ہیں۔ ادارہ معرض و جود میں آتے ہی مختلف مسائل کا شکار رہا، کوا لیفائیڈ فیکلٹی اور بہتر انتظامی تجربہ کار افراد کی سلیکشن نہ ہو نے سے مشکلات بڑھتی گئیں۔مالی مشکلات کے علاوہ انتظامی طور پر بھی بہت سی دُشواریوں کا سامنا رہا ہے۔ نتیجتاَ ادارے کو مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ادارہ میں بی ایس، ایم ایس سی اور ایم فل ڈگری پروگرامز کا اجراء کیا گیا لیکن سینئر فیکلٹی اور مطلوبہ قابلیت کے حامل اساتذہ کی کمی نے بعض پروگرامز کو متاثر کیااس کمی کو فوری طور پر پورا کرنا بہت ضروری ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید پیرزادہ نے کہا کہ طالبات کی کثیر تعداد ادارہ میں زیر تعلیم ہے لیکن تاحال ان کے لیے معیاری تعلیمی انفراسٹریکچر میسر نہیں ہے۔ایچ۔ای۔سی(HEC)کی طرف سے یونیورسٹی تعمیر کے لیے ایک پراجیکٹ سال 2016ء میں منظور کیا گیا لیکن تا حال کنسٹریکشن سائیٹ کے لیے تنازعہ چل رہا ہے اور معاملہ عدالت عظمٰی میں زیر کار ہے جس وجہ سے تعمیر کا کام شروع نہ کیا جا سکا۔ علاوہ ازیں کوئی مناسب جگہ بھی گذشتہ عرصہ میں متعین نہ کی جا سکی۔ ادارہ میں نان ٹیچنگ سٹاف کی غیر متوازن بھرتی اور بہتر منیجمنٹ نہ ہونے سے یونیورسٹی بجٹ میں توازن برقرار نہیں رہا۔

انہوں نے بتایا کہ ادارہ میں آمدن کے بہت محدودزرائع ہیں،سرکاری جامعات کو ملازمین کی تنخواہوں کے ساتھ پنشن کے لیے بھی ہر سال ایک مختص شرح سے پنشن فنڈ میں رقم بھیجنی پڑتی ہے اور ادارہ کے دیگر آپریشنل اخراجات کا بھی بندوبست رکھنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے خود مختار اداروں کو اخراجات کے حوالے سے نہایت ہی احتیاط سے کام لینا ہوتا ہے۔ آمدن اور اخراجات کے اندر رہتے ہوئے سالانہ تخمینہ مرتب کرنا پڑتا ہے اور اس کے مطابق ہی اخراجات کرنا پڑتے ہیں تا کہ مالی خسارہ سے بچا جا سکے۔جس سے ادارہ کا تعلیمی معیار بھی متاثر ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ ادارہ کو بہتری کی طرف لے جانے لے لیے سنجیدہ کاوشوں کی ضرورت ہے جس میں اخراجات کا کنٹرول، آمدن کے مطابق اخراجات کا تخمینہ اور اس پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر حمید پیرزادہ نے بتایا کہ ادارہ کو انتظامی اور مالی اصلاحات کے زریعہ مزید ابتری سے بچا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت وقت،سول سوسائٹی،اساتذہ، ملازمین اور طلباء کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ادارہ میں امن و امان اور معاملات میں یکسوئی، نیک نیتی،محنت اور لگن سے اس بڑے چیلنج سے نمبرد آزما ہونے میں معاون ثابت ہو گی۔ اور اللہ تعالیٰ کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔ادارہ میں بہتری کے لیے ہر ممکنہ کاوش کو بروئے کار لایا جائے گا۔سابقہ مالی خسارہ کو پورا کرنے کے لیے حکومت آزاد کشمیر اور ایچ۔ ای۔سی (HEC)سے فنڈز کے حصول کی درخواست کی گئی ہے۔ اور اس سلسلہ میں مزید سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں۔

زمین کے حصول اور کنسٹریکشن سائٹ کے تنازعہ کے حل کے لیے بھی تگ و دو کی جا رہی ہے اور اس سلسلہ میں حکومت آزاد ریاست جموں و کشمیر بھر پور تعاون کر رہی ہے۔ یہ معاملہ یکسو ہوتے ہی یونیورسٹی تعمیر کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں ایچ۔ ای۔ سی (HEC)کے ساتھ روبط میں تیزی لائی جا رہی ہے۔ صدر ریاست /چانسلر جامعات نے ادارہ میں بہتری لانے کے لیے ہر ممکنہ کاوش کی ہدایت کر رکھی ہے اور اس سلسلہ میں اُن کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ حکومت آزاد کشمیر باالخصوص وزیر اعظم آزاد کشمیر کی طر ف سے ادارہ کو بہترین ریاستی ادارہ بنانے کے لیے ہدایات ہیں اور حکومت بھی معاملات کو یکسو کرنے میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔ اُمید ہے وزیر اعظم آزاد کشمیر مالی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے مکمل تعاون کریں گے۔

کرونا وبا کی وجہ سے ادارہ جات بند ہونے سے تعلیمی نقصان سے بچنے کے لیے آن لائن کلاسز کا آغاز ایچ۔ ای۔سی کی گائیڈ لائن اور چانسلر جامعات کی ہدایت کے مطابق کردیا گیاہے اور آن لائن امتحانات کی بھی تیاری مکمل ہے۔ آن لائن کلاسز کےلیے موجودہ اور آمدہ سمسٹر کا اکیڈمک کلینڈر جاری کر دیا گیاہے۔ وبائی صورتحال اور حکومت کی ہدایات کے مطابق اس پر عملدرآمد ہوگا تا کہ طالبات کا قیمتی سال ضائع ہونے سے بچا جا سکے۔آن لائن روابط کے لیے ویڈیو کانفرنس سہولت ادارہ میں بحال کر دی گئی ہے اور طالبات کے لیے آن لائن ایڈمیشن کی بھی سہولت فراہم کر دی گئی ہے تا کہ دور دراز کی طالبات کو سفری دشواریوں سے بچایا جا سکے۔

وائس چانلسر جامعہ نے بتایا کہ ادارہ میں پرن(PERN)اور سمارٹ یونیورسٹی پراجیکٹ پر کام کا آغاز کر دیا گیاہے اور متعلقہ سیکشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ فوری طور پر ایچ ای سی(HEC)کے ساتھ ایگریمنٹ کے لیے پراسیس کیا جائے تا کہ طالبات اور فیکلٹی ممبرز کو بہتر انٹرنیٹ کی سہولت میسر آئے جس سے نہ صرف ریسرچ کو فروغ ملے گا بلکہ تعلیمی کوالٹی میں بھی بہت بہتری آئے گی۔ یہ سہولت ریاست کی دیگر جامعات میں بھی موجود ہے۔ ادارہ میں زیادہ پی۔ایچ۔ڈی فیکلٹی کی موجودگی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے از بس ضروری ہے۔

اس سلسلہ میں ضروری اقدامات اٹھاے جا رہےہیں تا کہ تعلیمی کوالٹی کو بہتر کیا جا سکے اور زیادہ طالبات ادارہ میں داخل ہونے کے لیے راغب ہو سکیں۔ادارہ میں انتظامی اور مالی منیجمنٹ کو بہتر کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تا کہ نہ صرف مالی خسارہ کو پورا کیا جا سکے بلکہ طلباء اور اساتذہ کی بنیادی ضروریات کو بھی پورا کیا جا سکے۔ اس سے نہ صرف تعلیمی ماحول میں بہتری آئے گی بلکہ ادارہ کی ساکھ کو بھی بہتر کیا جا سکے گا۔ تا کہ والدین
بغیر کسی وسوسہ کے بچیوں کو آزاد کشمیر کے اس واحد خواتین کے لیے مختص ادارہ میں داخلہ لینے کے لیے آمادہ ہو سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں