نقطہ نظر/ڈاکٹرنذیرگیلانی

ایک ملاقات اور چنار کا درخت

سردار محمد عبد القیوم خان بلند کردار، نیک طبیعت، نیک اوصاف، خوش اخلاقی کی ایک منفرد مثال تھے۔ ہمیشہ نئئ بات سننے اور نیا لفظ سیکھنے کی ایک منفرد خواہش کے مالک بھی۔

علم کا مطالعہ اور جستجو ان کی طبیعت کا پائیدار جز تھے۔ مرحوم مسعود کشفی سے کشمیری زبان سیکھنے کی کوشش کی، تاکہ ایک بار ریڈیو مظفرآباد سے وادی کے لوگوں کو کشمیری زبان میں خطاب کرتے۔

غصہ اور ناراضگی بھی ان کی طبیعت کا حصہ تھے- سیاسی مخالفین کا لحاظ اور احترام کرتے تھے۔ مرتے دم تک جب انہیں میری آمد کی اطلاع ہوئی، ناشتے پر بلایا اور دل کھول کر اظہار کرتے تھے۔

ناشتے کی ایک ملاقات میں، 6 صفحا ت کا ایک حلقے کا خط اور سردار عتیق احمد خان کی ممکنہ گرفتاری زیر بحث آئی۔ جس کا توڑ ہم نے سردار عتیق احمد خان کو جنیوا ہیومن رائیٹس کمیشن میں، مدعو کرکے، خطاب کی صورت میں نکالا۔ ناشتے کی ایک ملاقات میں، لبریشن فرنٹ کے سینئیررہنما اور میرے دوست سردار قدیر احمد خان بھی موجود تھے۔

مرحوم جسٹس جاویداقبال، مرحوم نظامی اور نوائے وقت کے ساتھ تحریری اور علمی جنگ میں، میں نے اور مرحوم زاہد ملک نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ہم جنگ جیت گئے۔ بلکہ ہم نے اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل میں ان تینوں کی صلاح بھی کرادی۔ یہ جنگ قومی سطح پر دو نظریاتی اورمزہبی کیمپوں میں بدل گئی تھی۔

میں نے اور زاہد ملک نے دو بڑے سرداروں کی ایک اور معاملے میں بھی صلح کرائی۔ سردار صاحب اکثرچاپلوسوں کے ایک گینگ کے نرغے میں رہتے تھے۔ سب جانتے تھے اور نظر انداز کرتے تھے۔

ایک بار جب وہ وزیراعظم تھے اور پروفیسر مقصود جعفری ان کے مشیر تھے مجھے بھی بلاوا بھیجا اور کہا آپ مقصود جعفری کے ساتھ بیٹھ کر پوپ کے نام کشمیر میں ہونے والے ظلم پر ایک خط تیار کریں ۔

ہم دونوں خط ڈرافٹ کرنے میں جٹ گئے۔ سردار صاحب کے آتے جاتے ہم دونوں، احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ دو بار ایسا ہوا۔ سردار صاحب آخر بول پڑے،”میں نے تم دونوں کو پوپ کے نام خط تیار کرنے کی زحمت دی ہے۔ اٹھک بیٹھک کے لۓ نہیں بلایا ہے”-

اتنے میں مشہور صحافی سعود ساحر بھی آئے۔ اور باتوں باتوں میں سردار صاحب سے پوچھا، ” سردار صاحب کیا وجہ ہے کہ چنار کا درخت اپنے ارد گرد کسی دوسرے درخت کو اگنے نہیں دیتا” اور میں یہی صورت مودودی صاحب اور آپ کو دیکھ کر محسوس کرتا ہوں۔ سردار صاحب نے روحانی سلسلے کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ اس کا بیان یہاں ممکن نہیں۔

سردار صاحب جب لندن سردار خلیق احمد خان کی بیماری کے دوران تشریف لائے اور مجھ سے انہیں ملنے میں تاخیر ہوئی۔ اپنے معتمد خاص سید نظیرالحسن گیلانی، جو سعودیہ سے ملاقات کے لئے آئے تھے، سے میری غیر حاضری پر سخت شکوہ کیا۔

سید نظیرالحسن گیلانی مجھ سے خفاء ہوئے اور میں نے دوسرے دن پھولوں کا گلدستہ ہسپتال بھیجا اور خود بھی ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ سردار صاحب بولے کھانا کب کھلاو گے۔ افطاری طے ہوئی۔

اس عظیم شخصیت کے انداز ہی نرالے تھے۔ کمرے میں موجود بلند آواز میں کہا، میں بیٹی کے گھر افطاری کے لئے جا رہا ہوں اور میرے ساتھ صرف سید نظیرالحسن گیلانی اور تین آدمی جائیں گے ۔

“عتیق” اور دو اور آدمیوں کا کھانا میں ٹفن میں ساتھ لے آؤں گا۔ جب ہم گھر پہنچے تو 10-12 بندے بھی پہنچ گئے۔ ان لوگوں کو کھانے والے کمرے میں چھوڑ کر، مجھے کہا، “نذیر” دوسرے کمرے میں بیٹھ جاتے ہیں، کچھ باتیں کرنی ہیں۔ ہم دوسرے کمرے میں چلے گئے اور بہت باتیں کی۔ اچانک بول اٹھے عتیق کے لئے کھانا پیک کیا ہے۔

میں نے سردار صاحب کو طبقل ہوٹل کاسا بلانکا، مراکش میں، دسمبر 1994اسلامک سمٹ کے دوران قریب سے ایک مختلف شخصیت کی شکل میں دیکھا۔ مراکش کی حکومت نے سردار صاحب اور سردار سکندر حیات خان صاحب کو ہوٹل میں نظربند کردیا تھا اور سمٹ کے اختتام تک باہر آنے پر پابندی تھی۔

میں نے اور ڈاکٹر سید غلام نبی فائی نے بڑی محنت اور تگ ودو کے بعد ان پر لگائی پابندی ختم کروائی، ان کے پاس بنواۓ اور دونوں، بڑے سرداروں نے، اسلامک سمٹ میں، شرکت کی اور بھر پور کردار ادا کیا۔

اسلامک سمٹ میں، دو سردار صاحبان، میرواعظ عمر فاروق، مولانا عباس انصاری، ڈاکٹر سید غلام نبی فائی اور میں (ڈاکٹر سید نزیر گیلانی) کشمیر کے وفد میں شامل تھے۔ بہت قیمتی یادیں وابستہ ہہں۔

علم، نسب اور انسانی قدروں کا بہت لحاظ اور احترام کرتے تھے۔ ہماری ریاست اور سیاست کا وقار تھے۔اللہ درجات بلند فرماۓ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں