نقطہ نظر/سردار سیاب سلیم

غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی اٹھارویں‌برسی

تحریک آزادی کشمیر کے نامور ہیرو، مجاہد اعظم اور غازی جو کشمیر ہی نہیں بلکہ پاکستان کی سطح کی ایک عظیم اور ہمہ جہت شخصیت بھی ہیں جہنوں نے نہ صرف عسکری میدان میں کارہاۓ نمایاں سر انجام دیے بلکہ سیاسی اور سفارتی محاذ میں بھی وہ اپنا بھر پور کردار ادا کرتے رہے. آج آزادی کی فضا میں سانس لینے والوں کو شاید غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی جدوجہد کا اندازہ نہ ہو سکےکہ اس بطل حریت نے کس طرح ایک عظیم الشان جدوجہد اور کھٹن مراحل طے کرنے کے بعد اس دیس کو آزادی سے ہمکنار کیا .

کیونکہ ایک دور جبر ناروا ، ظلم او استبداد کا دور تھا. جس میں شخصی آزادی کا تصور بھی ممکن نہیں تھا. جہاں بے جا قسم کے مالیہ نما ٹیکسز نے عوام کا جینا حرام کر رکھا تھا ان میں جانوروں پر ٹیکس، چولہے پر ٹیکس حتی کہ ہر قسم کی اشیاء جس سے انسان کو امن و سکون میسر آتا اس پر ٹیکس لگا دیا جاتا. ایسے حالات میں “خان بابا کرنل خان محمد خان” کی نظر انتحاب سردار محمد ابراہیم خان جیسے کردار پر پڑی جس طرح علامہ اقبال کی نظر قائداعظم محمد علی جناح پر پڑی تھی، اس طرح خان بابا کی مدبرانہ نگاہ نے اندازہ لگا لیا تھا کہ سردار ابراہیم ہی اس پرسان حال قوم کا مسیحا بن سکتا ہے.

اس لیے سردار محمد ابراھیم خان کو پڑھنے کے لیے منتخب کیا، چونکہ سردار محمد ابراہیم خان ۱۹۳۳ میں پونچھ شہر کے ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد۱۹۳۸ میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی-اے کر چکے تھے اور اسی عرصے میں کرنل خان محمد خان مہاراجہ کی اسمبلی ھر جا سبھا کے الیکشن منعقدہ ۱۹۳۴ میں پونچھ کی نشست سے کامیاب ہوے، اس اسمبلی کی مدت ۳ برس جو کہ ۳۱ دسمبر ۱۹۳۷ کو ختم ہوئ تو مہاراجہ ہری سنگھ نے ممبران اسمبلی کی مشاورت کے ساتھ چند ماہ کے لیے مدت میں اضافہ کر لیا چنانچہ نئی اسمبلی کا انتخاب ۳۱ مئی ۱۹۳۸ کو ہوا اور یہاں بھی پونچھ کی نشست سے کرنل خان محمد خان منتخب ہوے لیکن اس بار ان کو اس بات کا شدت کے ساتھ احساس ھو چکا تھا کہ ہماری قیادت پڑھے لکھے ہاتھوں میں ہو، چنانچہ ۱۹۴۰ میں ریاستی حکومت نے سردار محمد ابراہیم خان کا تعلیمی وظیفہ مقرر کر دیا اور وہ بار ایٹ لا کے لیے انگلستان چلے گے.

۱۹۴۲ میں جب وہ بیرسٹری کا امتحان پاس کر کہ واپس لوٹے تو انہیں میر پور میں پبلک پراسیکیوٹر (پی پی) تعینات کر دیا گیا، اور کچھ ہی عرصہ میں آپکو ترقیاب کر کہ بطور اسسٹینٹ ایڈووکیٹ جنرل جموں میں تعینات کر دیا گیا، لیکن اس وقت خطہ کشمیر کے سیاسی اور معاشرتی حالات دیکھ کرسردارمحمد ابراھیم خان نے مہاراجہ ہری سنگھ جیسے سفاک اور ظالم شخصی حکمران کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں انہوں نے ملازمت کو ٹھوکر مار کر عوام کے حقوق کی جدوجہد کے لیے میدان سیاست میں قدم رکھا او اسسٹینٹ ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے سے مستعفی ہو کر آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار کر لی ، انکا سیاست میں آنا یکدم فیصلہ نہ تھا بلکہ اس کے پیچھے خان بابا کرنل خان محمد خان کی وہ منصوبہ بندی تھی جس کے لیے سردار محمد ابراہیم خان کو چنا گیا تھا.

کیونکہ جب وہ دو مرتبہ مہاراجہ کی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو چکے تھے اور اب ان کو کسی پڑھے لکھے اور با صلاحیت انسان کی تلاش تھی جو مہاراجہ کی اسمبلی میں جا کر کشمیر کے اندر بسنے والے انسان جو مہاراجہ کے ظلم وستم کا شکار تھے ان کے حقوق کے تحفظ کی بات کر سکے اور اسی وجہ سے پونچھ کے حلقہ انتخاب سے ریاستی اسمبلی ھر جا سبھا کے لیے خان بابا نے مسلم کانفرنس کاٹکٹ سردار ابرھیم خان کو دیا اور خان بابا نے بھرپور انتحابی مہم چلای اور بالآخر جنوری ۱۹۴۷کو سردار ابراھیم خان کشمیر اسمبلی کی نشست پر منتحب ہوے اور ہر جا سبھا اسمبلی میں جا کر اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی اپنا کردار ادر کرتے ہوئے ۱۹جولائی ۱۹۴۷ بمقام سری نگر محلہ آبی گزر کے مقام پر جب دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ تھا اور کوئی بھی شخص دو سے ذیادہ لوگوں کی میٹنگ نہیں کر سکتا تھا اس وقت انہوں نے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر اپنی ذاتی رہائش گاہ پر کشمیری قیادت کا اجلاس طلب کر کے پاکستان بننے سے ۲۴ دن قبل کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کر کے کسی بھی پاکستانی سے پہلے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیا اور کشمیر کے مستقبل کی سمت کا تعین کیا.

تقسیم ھندوستان کے وقت جب حالات بہت خراب ھو گئے تو ۲۵ اگست ۱۹۴۷ کو سردار ابراھیم خان سرینگر سے نکل کرمظفرآباد کے راستے ایبٹ آباد پہنچے اور آزادی کی اس جہد مسلسل میں بیوی بچوں کی پرواہ بھی نہ کی کیونکہ ان کے سامنے ایک بڑا مقصد کشمیر کی آزادی تھا اور اس مقصد کے حصول کیلئے انہوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف لوگوں کو منظم کرنا شروع کردیا اور ان میں شعور بیدار کرنے کے لیے اپنی تمام تر سرگرمیاں مرکوز کر لی اور اس کے ساتھ ساتھ سابق برطانوی فوجیوں کو بھی منظم کیا اور مہاراجہ کے خلاف مسلح جدوجہد کے لیے بھی لوگوں کو تیار کیا.

ان تمام حالات میں کرنل خان محمد خان کی سرپرستی ان کو حاصل رہی اور اس مسلح جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ مہاراجہ کو آزاد کشمیر چھوڑ کے بھاگنا پڑا اور کشمیر کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا ڈوگرہ فوجیوں سے خالی ہو گیا اور بالآخر ۲۴ اکتوبر ۱۹۴۷ کو سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت اور سربراہی میں آزاد انقلابی حکومت بنائ گئ جس کا دارلحکومت جونجال ھل پلندری تھا.
۱۹۴۸ کو سردار ابراہیم خان اقوام متحدہ میں بھیجا گیا تاکہ وہ سلامتی کونسل میں کشمیریوں کی نمائندگی کر سکیں لیکن اس وقت پاکستان کہ وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے انہیں سلامتی کونسل کے سامنے پیش ہونےاور اپنا موقف پیش کرنے سے منع کر دیا.

چنانچہ سردار ابراہیم خان نے اپنی تحاریر، تقاریر پر اور پریس کانفرنس کے ذریعے مسلہ کشمیر دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا.۱۹۴۷ ھی میں جب چوھدری غلام عباس اور مسلم کانفرنس کے دیگر رہنما رہا ہو کر آزاد کشمیر آے تو سردار ابراہیم خان نے بطور صدر انہیں خوش آمدید کہا لیکن بدقسمتی سے تحریک آزادی کا بیس کیمپ جس کو آزاد کشمیر کہا جاتا ہےوہ اقتدار کا ریس کیمپ بن گیا اور تھوڑے ہی وقت میں مسلم کانفرنس کے ان رہنماؤں سے سردار ابراہیم خان کے اختلافات پیدا ہو گے جن کا بنیادی سبب جماعتی قیادت اور کرسی صدارت تھی اور اس وجہ سے مسلم کانفرنس دن بدن اختلافات کا شکار ھوتی چلی گئی اور بالآخر دھڑوں میں تقسیم ہو گئی جن میں چوہدری غلام عباس اور میر واعظ گروپ نمایاں تھے.

مئی ۱۹۵۰ کو سردار ابراہیم خان کو کرسی صدارت سے الگ کر دیا گیا اور ان کی جگہ کرنل علی احمد شاہ کو صدر بنایا گیا.۱۹۵۷ میں سردار ابراہیم خان دوسری بار آزاد کشمیر کے صدر نامزد ہوئے اور ۱۹۵۹ تک اس منصب پر فائز رھے، پھر ۵ جون ۱۹۷۵ سے ۳۰ اکتوبر ۱۹۷۸ تک وہ آزاد کشمیر کے تیسری بار صدر رھے اور چوتھی اور آخری بار ۲۳ اگست ۱۹۹۶ سے ۲۴ اگست ۲۰۰۱ تک وہ اس منصب پر فائز رھے.سردار ابراہیم خان نے میدان سیاست کے علاوہ قلمی محاذ پر بھی اپنی خدمات سرانجام دیں ان کی خود نوشت سوانح عمری”متاح زندگی” کے علاوہ “کشمیر کی جنگ آزادی” اور پھر انگریزی زبان میں مسلہ کشمیر کے حوالے سے(KASHMIR SAGA) لکھی گی.

۳۱ جولائی ۲۰۰۳ کو وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور انکو آبائی گاوں کوٹ متی خان میں سپرد خاک کیا گیا جہاں انہوں نے اپنی قبر اپنی زندگی ھی میں تیار کروائی تھی۔۔!
ھمارا رب اپنے بندے کی نیکیوں کی بہت قدر کرتا ھے اور چھوٹی چھوٹی نیکیوں پر بڑے اجر عطا فرماتا ھے، دعا ھیکہ اللہ رب العزت غازی ملت سردار ابراہیم خان کی نیکیوں کو اپنی جناب میں قبول فرمائے، اس خطہ آزادی میں آزادی کی شمع جلانے والے اس مجاہد اور غازی کی قبر کو فراخی عطا ہو اور یہ جنت کہ باغوں میں سے ایک باغ بن جاے۔۔۔!
آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں