سید اسماعیل شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں پھنسی سینکڑوں خواتین کیلئے آواز بلند کر دی

نیویارک(سٹیٹ ویوز )پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر ویلی 4 راولپنڈی کے سینئر نائب صدر سید اسماعیل شاہ نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پھنسی 350 سے زائد خواتین اور بچوں کے لیے دنیا کے کونے کونے میں آواز پہنچانے کیلئے تمام کشمیری و پاکستانیوں سے اپیل کر دی۔

پاکستان اور آزاد کشمیر کی مقبوضہ کشمیر میں پھنسی خواتین نے اور ان کے خاندانوں نے اسماعیل شاہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور بتایا کہ پاکستان سے شادی ہو کر جموں و کشمیر آئے ہوئے دس سال کا عرصہ ہو گیا لیکن بھارتی گورنمنٹ نے شہریت نہیں دی ۔ بھارت کا رویہ بلکل درست نہیں ۔

بھارت کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر کشمیری نوجوان پاکستان آ گئے اور پاکستان کے مختلف شہروں میں رہائش رکھ لی اور کافی عرصہ رہنے کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں شادی کر لی ۔2010ء میں عمر عبداللہ کی گورنمنٹ نے یہ اعلان کیا تھا کہ کشمیری جوان جو پاکستان چلے گئے تھے ان کے لیئے یہ پالیسی بنائی گئ ہے کے ان کو معاف کیا جائے گا وہ اپنی فیملیز کے ساتھ نیپال کے راستے انڈیا آ جائیں ان کی فیملیز کو انڈیا کی شہریت،شناختی کارڈ ، پاسپورٹ دیئے جائیں گے لیکن دس سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کوئی سہولت نہیں دی گئی ۔

بھارت نے آئین میں ترمیم کی کہ ان سب فیملیز کو شہریت نہیں مل سکتی ۔ اگر ان فیملیز کو واپس پاکستان نہیں بھیجا جاتا یا تو ان سب بے گناہ خواتین اور بچوں کو جیل میں ڈال دیا جائے گا یا پھر مار دیا جائے گا ۔ انہوں نے حکومت پاکستان و آزادکشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان خواتین کو واپس پاکستان لانے میں کردار ادا کریں ، اس مسئلہ کو اجاگر کریں، اقوام عالم سے کردار ادا کرنے کی اپیل کریں تا کہ یہ اپنی فیملیز سے مل سکیں۔ اور باعزت زندگی گزار سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں