سیکرٹریٹ صحت عامہ کی مظفرآباد میڈیکل کالج میں خالی آسامیاں مشتہرکرنےکی ہدایت

اسلام آباد(کاشف میر/سٹیٹ ویوز) آزاد جموں کشمیر میڈیکل کالج مظفرآباد کے قائم مقام پرنسپل ڈاکٹر سروش کی طرف سے سینئر پروفیسرز سمیت 6افراد کے کنٹریکٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد انکی مدت ملازمت میں توسیع کی غیر قانونی تجویز کو سیکرٹریٹ صحت عامہ نے مسترد کر دیا۔سیکرٹریٹ نے میڈیکل کالج کو ان اسامیوں پر بھرتی کیلیے اخبار میں اشتہار دینے کی ہدایت کر دی۔

28جولائی 2020ء کو جب حکومت نے مظفرآباد میڈیکل کالج کے پرنسپل کیلیے خالی اسامی کا اشتہار سامنے لایا تو اسی دن قایم مقام پرنسپل ڈاکٹر سروش نے اپنی اہلیہ سمیت دیگر افراد کو نوازنے کیلیے ایک غیر قانونی تجویز تیار کی جس میں 6افراد کی مدت ملازمت میں توسیع کیلیے وزیر صحت عامہ سے رجوع کیا گیا تھا۔ ان چھ افراد میں پروفیسر ڈاکٹر ہمایوں، پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب، پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر،اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نصیر احمد شیخ، ڈاکٹر عائشہ ممتاز اور ڈاکٹر شگفتہ منظور شامل ہیں۔

قایم مقام پرنسپل نے جن ملازمین کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری بھیحی ہے ان میں سے پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر کے کنٹریکٹ کی مدت 25 ستمبر 2020 کو ختم ہو گی جبکہ باقی تمام چھ ملازمین کے کنٹریکٹ کی مدت پہلے ہی ختم ہو چکی۔ قائم مقام پرنسپل کی اہلیہ عائشہ ممتاز کے کنٹریکٹ کی مدت تو 1 نومبر 2019ء کو ختم ہو گئی تھی لیکن پرنسپل نے انہیں باقی چار ملازمین کی طرح غیر قانونی طریقے سے تعینات رکھا ہے اور انہیں تنخواہیں اور مراعات دی ہیں۔

وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی نے میڈیکل کالج کی طرف سے بھیجی گئی تجویز کو سیکرٹریٹ صحت عامہ بھیحا تاکہ قانونی آراء لی جا سکیں۔سیکرٹریٹ صحت نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ پی ایم ڈی سی کے قوانین کے مطابق پبلک سیکٹر میڈیکل کالجز میں ملازمت کیلیے بالائی حد حکومت کی نافذ کردہ پالیسی کے مطابق ہو گی اور حکومت آزادکشمیر نے سول سرونٹ ایکٹ 1976کی سیکشن 22 میں قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی بالائی حد 60سال ہے اور میڈیکل کالج کے جن ملازمین کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز بھیجی گئی ہے ان کی عمریں 65سال یا اس سے زاید ہیں اس لیے ان چھ ملازمین کی مدت ملازمت میں مزید توسیع کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

دوسری جانب صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پرنسپل سمیت ان تمام کنٹریکٹ ملازمین جن کی مدت ملازمت مکمل ہو چکی ہے ان خالی اسامیوں پر بذریعہ اشتہار ٹیسٹ انٹرویو کے اہل لوگ بھرتی ہونے چاہیئے۔ پرنسپل اس سے قبل خود بھی دو سال تک ایکٹنگ چارج پر رہے اور غیرقانونی طریقے سے اہلیہ جو لیکچرر کے برار اہلیت رکھتی تھیں ان کو اسسٹنٹ پروفیسر کی اسامی کے خلاف تعینات کر کے تنخواہ اور مراعات دی جاتی رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان چھ ملازمین حو اب بوڑھے ہو چکے انہیں خود ہی ادارے سے الگ ہو جانا چاہیئے تھا کیونکہ درجنوں ایسے اہل افراد باہر بیٹھے انتظار کر رہے ہیں جن کی اہلیت پروفیسر کی پرنسپل کی ہے لیکن سیاسی طور پر کنٹریکٹ لینے والے افراد انکی راہ میں رکاوٹ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں