73واں یوم آزادی پاکستان

تحریر(خواجہ تنزیل)
مسلمانوں کی لازوال قربانیوں کے عوض ازاد ہونے والے ملک پاکستان کو عملی طور پر آزادی مل گئی مگر ملک پاکستان کس مقصد کے لئے بنا اور کس طرح بنا یہ آج کی نسل کو معلوم نہیں۔ جس کی بڑی وجہ تاریخ سے دوری ہے اور حکومت پاکستان کی جانب سے ایسا کوئی مواد لازم نہیں کیا گیا جس سے موجودہ و آنے والی نسل کو پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہو۔

پاکستان لاالہ الااللہ کی بنیاد پر بننے والا واحد و پہلا ملک ہے جس کےلئے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے خواب دیکھا اور قائد اعظم محمد علی جناح نےپاکستان کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ تکمیل پاکستان میں کس نے کیا کردار ادا کیا مگر نواب آف بہاولپور نے پاکستان کے لیے کیا کیا آئیے آج اس پر نظر ڈالتے ہیں محسن پاکستان نواب سر صادق خان عباسی پنجم وہ ہستی ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان میں غائبانہ طور پر اہم کردار ادا کیا جس میں تحریک پاکستان کی مالی و معاشی مدد سمیت افواج بہاولپور بھی تحریک پاکستان کے حوالے کر دیئے جانا شامل ہیں .

نواب سر صادق خان عباسی پنجم وہ نواب تھے جنہوں نے بے خوف خطر قائد اعظم محمد علی جناح کا ساتھ دیا.تحریک پاکستان میں مایوسی کا ایک ایسا موڑ بھی آیا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح مایوسی کے عالم میں نواب سر صادق خان عباسی پنجم کے پاس آئے تو نواب صادق خان عباسی نے کہا کہ کوئی بات نہیں اگر خدا نخواستہ پاکستان پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا تو آپ میری ریاست بہاولپور کو پاکستان کا نام دے کر اس کے پہلے گورنر جنرل بن جائے گا مگر قائد اعظم نے کہا کہ آخری سانس تک کوشش ضرور کروں گااور پھر جب پاکستان بن گیا

اور قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے پاس پہلے گورنر جنرل کا حلف اٹھانے جا رہے تھے اس وقت قائد اعظم کے پاس اپنی سواری بھی موجود نہ تھی تب نواب سر صادق خان عباسی پنجم نے اپنی ذاتی استعمال کی گاڑیاں رولس رائل نہ صرف قائد اعظم کو تحفتاً پیش کی بلکہ ایک گاڑی محترمہ فاطمہ جناح کو بھی تحفتاً دی کراچی میں موجود اپنا ذاتی محل (القمر پیلیس) بھی قائد اعظم محمد علی جناح کے نام کر دیا اور ملک پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد ایک سال تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سمیت مملکت خداداد پاکستان کے تمام شعبہ جات کے اخراجات بھی نواب سر صادق خان عباسی پنجم نے ریاست بہاولپور کے خزانے سے ادا کیے یہاں بات ختم نہیں ہوئی پاکستان کی کرنسی کو پرنٹ کرانے کے لیے ریاست بہاولپور کے خزانے سے کئی من ہیرے جواہرات بھیجے تاکہ پاکستان کسی غیر کی جانب ہاتھ نہ پھیلائے اور جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو گاندھی کی طرف سے نواب سر صادق خان عباسی پنجم کو پیشکش کی گئی کہ بھارت میں شامل ہوجائیں


جس کے عوض ریاست بہاولپور کی توسیع بھی ہو گی اور ان گنت خزانے بھی تحفتاً دئیے جائیں گے تو نواب سر صادق خان عباسی پنجم نے جواب دیا کہ ریاست بہاولپور میرا گھر ہے اور اچھے انسان اپنے گھر کی سامنے کی چوکھٹ سے گھر میں داخل ہوتے ہیں گھر کی پچھلی طرف سے نہیں۔ میرے گھر کا دروازہ پاکستان کی طرف کھلتا ہے تو میں پاکستان میں شامل ہونے کو ترجیح دوں گا اور پھر پاکستان میں سب سے پہلے زم ہونے والی ریاست کا اعزاز بہاولپور ملا۔

یاد رہے قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال وہ شخصیات ہیں جنہیں دنیا جانتی و مانتی ہے مگر جس شخصیت و ریاست کے وظائف سے یہ شخصیات دنیا میں اپنا مقام و نام پیدا کر سکیں انہیں پاکستان نے ہی نظر انداز کر رکھا ہے ریاست بہاولپور کو پہلے صوبائی حیثیت دی گئی بعد ازاں ون یونٹ کے تحت صوبائی حیثیت بھی ختم کر دی گئی اور اب پاکستان کے پسماندہ ترین ڈویژنز میں بہاولپور سر فہرست ہے
علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کےا یک خط کے ذریعے ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ علامہ اقبال کے نزدیک محسن پاکستان اور ریاست بہاولپور کی کیا اہمیت تھی

ہم حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ بہاولپور کو اس کے معیار کے مطابق سازگار ماحول مہیا کیا جائے تاکہ بہاولپور اپنے جاہ و جلال کے ساتھ دنیا میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کر سکے اور آزادی پاکستان کے نام سے ویڈیو ڈاکومنٹری بنائی جائیں جو آنے والی نسلوں کے لئے مفید ثابت ہوں
اللّٰہ پاک پاکستان کو تاقیامت اور سلامت رکھے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں