مرزا غالب کے فلسفے پر مبنی کتاب”تھاؤسنڈز آف ڈیزائرز”کی اسلام آباد میں تقریب رونمائی

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)ملک میں کتابوں کی اشاعت کے معروف ادارے داستان پبلشرز کی جانب سے نامور شاعر مرزا غالب کی فلاسفی پر مبنی کتاب “تھاؤسنڈز آف ڈیزائرز” کی تقریب رونمائی اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں منعقد ہوئی ،تقریب میں نامور خواجہ سرا سماجی کارکن مس علیشا اور نایاب علی، کتاب کے مصنف علی شیخ قلب، نامور فنکار ڈاکٹر عروج ظفر، کنول کھوسٹ، پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ ایوب بھٹی، عالیہ نصیر فاروق سمیت فن و ادب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

انگریزی زبان میں لکھی گئی نئی کتاب “تھاؤسنڈز آف ڈیزائرز” کے مصنف علی شیخ قلب کا کہنا ہے کہ اس کتاب کو بنیادی طور پر مرزا غالب کی شاعری کے تناظر میں لکھا گیا ہے اور دراصل اس کتاب میں پاکستانی معاشرے میں موجود خواجہ سرا کمیونٹی کو درپیش مسائل ، سماجی ناہمواریوں سمیت دیگر امور پر روشنی ڈالی گئی ہے، اس کتاب میں خواجہ سراہ کمیونٹی کے ساتھ معاشرے کے رویے کے حوالے سے روشنی ڈالی گئی ہے اور اس بات کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کہ خواجہ سراہ بھی اس سماج کا باعزت طبقہ ہیں۔

نامور خواجہ سرا سماجی کارکن نایاب علی اور علیشا کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کتب کا مارکیٹ میں آنا بے حد ضروری ہے تاکہ معاشرے میں خواجہ سرا کمیونٹی کے بارے میں موجودغلط فہمیوں کا ختم کیا جا سکے ۔ نایاب علی کا کہنا تھا ایسی کتب کی اشاعت سے سماج کو خواجہ سرا کمیونٹی کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل ہو گی اور یہ بے حد ضروری ہے۔

فاطمہ جناح یونیورسٹی کی پروفیسر شاہینہ ایوب بھٹی کا کہنا تھا کہ اس طرح کےمنصوبے حوصلہ افزاء ہیں جہاں ایسی کتب کی اشاعت ممکن ہوتی ہے جن میں ان کہئ ان سنی کہانیاں تحریر کی صورت میں منظر عام پر لائی جاتی ہیں ،یہ اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ ہے جس میں اک بہترین کتاب کی اشاعت سامنے آئی اور اس کتاب کے مصنف نے انتہائی کم عمری میں اس حساس اور اہم موضوع پر بہترین کتاب تحریر کی ہے۔کتاب کو پبلش کرنے والے ادارے داستان کے بانی عمر امیر نے پاکستانی لکھاریوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس گلوبل ویلج میں لکھاری کے نقطہ نظر کو دنیا کے ہر کونے تک پہنچانا اب آسان ہو گیا ہے۔

تقریب میں شریک ہونے والی فن و ادب سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے منفرد موضوع پر مصنف علی شخ کی اس کاوش کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسی کتب کی اشاعت میں نہ صرف وہ اپنا کردار ادا کریں گے بلکہ ایسی کتب کی مارکیٹ میں موجودگی سے سماج میں موجود خواجہ سرا کمیونٹی کے بارے میں کئی تحفظات ختم ہوں گے اور یہ طبقہ بھی باعزت انداز سے زندگی گزارے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں