نقطہ نظر/سید شاہد گردیزی

بیٹی ہی کیوں؟

آج پاکستان میں خواتین کے مسائل کا سن کر جہاں افسوس ہوا، وہی عقل ۱۵۰۰ سال پرانے معاشرے پہ جا ٹھہری، اور اندازہ ہوا کہ جو جہالت اسلام سے قبل تھی وہ آج بھی پائی جاتی ہے۔
اگر ۱۵۰۰ سال قبل عورت کو زندہ درگور کیا جاتا تھا تو آج اسے روحانی اور نفسیاتی طور پر زندہ درگور کیا جاتا ہے۔جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اعلان نبوت کیا اور اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو جہلاءاور مشرکین نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ابتر / بے اولاد کے طعنے دینا شروع کر دیے، کیونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بیٹوں کا اس دنیا میں آنے کے کچھ عرصہ بعد ہی وصال ہو گیا تھا۔

لیکن اس کے باوجود اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کوثر کی خوشخبری سنائی اور فرمایا کہ “بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی۔پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔ بے شک آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے.۔دشمن طعنہ دیتا ہے بے اولاد ہونے کا، اور اللہ تعالی خوشخبری دیتے ہیں اور شکرانے کا حکم دیتے ہیں، اور یہ کہ دشمن ہی ابتر رہے گا۔

اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بیٹی بی بی فاطمہ الزہرہ سلام اللہ علیہ سے نوازا اور انہیں وہ مقام عطا فرمایا، جو اس سے قبل یا بعد کسی کو حاصل نہ ہوا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آل / اولاد بھی بی بی فاطمہ الزہرہ سلام اللہ علیہا سے ہے۔کیا یہ محض اتفاق ہے؟میں سمجھتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو صرف بیٹی عطا کرنے میں جو اللہ تعالی کی حکمت دکھائی دیتی ہے .

وہ یہ ہےکہ اسلام سے قبل جاہل / مشرک اپنے بیٹوں کو نہ صرف اہم سمجھتے تھے بلکہ بیٹی کو اتنا برا شمار کرتے ہیے کہ بیٹی کو زندہ درگور کر دیتے تھے.ایسے میں اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بیٹی عطا فرما کر مسلمانوں کے لئے وہ اسوہ فراہم کیا کہ آج سے بیٹی کا احترام بھی کرو، اس کی تعظیم بھی کرو، اسے اپنی جان سے ذیادہ عزیز رکھو ، پیار دو اور پھر وراثت میں حصہ بھی دو۔

جو سلوک حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اپنی بیٹی کے لئے ہے، وہ سلوک روا رکھنے کا حکم قیامت تک کے ہر باپ کے لئے ہے۔ہمارے معاشرے میں بیٹی کو / عورت کو وہ مقام نہیں ملا.شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے مشرکین کے کلچر کو دوبارہ سے اپنا لیا۔ہمیں زمانہ جہالت سے نکلنا ہو گا اور صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسوہ پر عمل کرنا ہو گا۔
بیٹی کو / عورت کو اس کا حقیقی مقام دینا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں