حقیقت /سرمد شمریز

آزاد کشمیر میں نئے تعلیمی بورڈز کا قیام وقت کی ضرورت

آزاد جموں و کشمیر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپور کا قیام 1973ء میں آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر نے ایک آرڈیننس کے ذریعے عمل میں لایا ۔ آزاد کشمیر کا یہ پہلا تعلیمی بورڈ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں قائم کیا گیا ۔ تعلیمی بورڈ میرپور کے قیام سے قبل آزاد کشمیر کے تمام تعلیمی اداروں کا الحاق بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کے ساتھ تھا ۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور ہی آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں کے طلباء وطالبات کے لئے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا انعقاد اور نتائج کا اعلان کرتا تھا ۔

آزاد جموں و کشمیر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپور نے اپنے قیام کے بعد پہلے امتحان کا انعقاد 1974ء میں کیا جس میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے 6161 امیدواران نے شرکت کی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ تعلیمی بورڈ میرپور کی سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع ہوتا گیا اور ہر سال امتحانات میں شرکت کرنے والے طلباء وطالبات کی تعداد بھی بڑھتی رہی ۔ اس وقت آزاد کشمیر میں ہر سال میٹرک اور انٹرمیڈیٹ ( پارٹ اول و دوم ) کے تقریباً 2 لاکھ سے زائد طلباء وطالبات تعلیمی بورڈ کے زیرِ اہتمام امتحانات میں شرکت کرتے ہیں ۔ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ 1974ء میں جب امتحانات میں شرکت کرنے والے طلباء وطالبات کی تعداد 6 ہزار کے لگ بھگ تھی تب بھی آزاد کشمیر میں ایک تعلیمی بورڈ میرپور کام کر رہا تھا اور آج جب طلباء وطالبات کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے تب بھی آزاد کشمیر میں صرف ایک تعلیمی بورڈ موجود ہے ۔

تعلیمی بورڈ میرپور کے قیام کے وقت آزاد کشمیر کی آبادی قریباً 15 لاکھ نفوس پر مشتمل تھی اور آج آزاد کشمیر کی آبادی 42 لاکھ افراد سے تجاوز کر چکی ہے ۔ 1973ء میں تعلیمی بورڈ میرپور کے قیام کے وقت آزاد کشمیر انتظامی طور پر ایک ڈویژن تھا اور آج آزاد کشمیر کے تین ڈویژنز مظفرآباد ، میرپور اور پونچھ موجود ہیں ۔ پنجاب بھر میں ڈویژنز کی سطح پر تعلیمی بورڈز قائم ہیں ۔ آبادی اور ہر سال امتحانات میں شرکت کرنے والے امیدواران کی تعداد میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد کشمیر میں ڈویژنز کی سطح پر تعلیمی بورڈز قائم کیے جانے چاہئیں ۔ طلباء وطالبات کی تعداد میں ایک بڑے اضافے کے باعث تعلیمی بورڈ میرپور شدید انتظامی بحران کا شکار ہو چکا ہے ۔

سالانہ امتحانات کے انعقاد سے لے کر پیپرز مارکنگ کے نظام تک تمام معاملات بد انتظامی کا شکار ہیں ۔ ہر سال طلباء وطالبات کی ایک بڑی تعداد تعلیمی بورڈ میرپور کے پیپرز مارکنگ کے ناقص نظام پر شدید احتجاج کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ پیپرز کی ری چیکینگ اور دیگر معاملات کے لیے آزاد کشمیر کے کونے کونے سے طلباوطالبات کو میرپور جانا پڑتا ہے جو ان کے لئے مشکلات کا باعث بنتا ہے ۔ علاوہ ازیں ، گزشتہ کئی سالوں سے تعلیمی بورڈ میرپور کے چیئرمین سیاسی بنیادوں پر میرپور ڈویژن سے ہی تعینات کیے جا رہے ہیں جو علاقائی ازم کی بد ترین مثال ہے ۔ اصولاً ، محکمہ تعلیم کے سینیئر افسران میں سے کسی ایک کو سینیارٹی کی بنیاد پر ہی تعلیمی بورڈ میرپور کا چیئرمین تعینات کیا جانا چاہیے.

لیکن خلافِ میرٹ ، پسند اور نا پسند کی بنیاد پر حکومتوں کی جانب سے ہر دور میں سیاسی چیئرمین تعینات کیے جاتے رہے ہیں ۔ تعلیمی بورڈ میرپور کسی ایک ضلع یا شہر کی میراث نہیں بلکہ ریاست کی پراپرٹی ہے ۔ تعلیمی بورڈ میرپور کی چیئرمین شپ اور دیگر ملازمتوں پر آزاد کشمیر کے تمام اضلاع کے باشندوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ضلع میرپور کے شہریوں کا ہے ۔ حال ہی میں جب وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی جانب سے مظفرآباد اور راولاکوٹ میں نئے تعلیمی بورڈز کے قیام کا اعلان کیا گیا تو ایک منظم سازش کے تحت نئے تعلیمی بورڈز کے قیام کے خلاف پروپیگنڈہ مہم شروع کر دی گئی ۔

یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ تعلیمی بورڈ میرپور کو تقسیم کیا جا رہا ہے ۔ مہم جوئی کرنے والے عناصر کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ تعلیمی بورڈ میرپور کو نہ تو ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی تقسیم بلکہ آزاد کشمیر کے باقی دو ڈویژنز مظفرآباد اور پونچھ میں نئے تعلیمی بورڈز قائم کر کے ان دو ڈویژنز کے طلباوطالبات کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں گی ۔ مظفرآباد اور راولاکوٹ میں نئے تعلیمی بورڈز کے قیام سے نہ صرف تعلیمی بورڈ میرپور پر پڑنے والا اضافی انتظامی بوجھ کم ہو گا بلکہ تعلیمی بورڈ میرپور بھی میرپور ڈویژن کے طلباوطالبات کے امتحانات کا منظم انعقاد ، فیئر پیپرز مارکنگ اور بروقت نتائج کا اعلان کر سکے گا ۔

اسی طرح مظفرآباد اور پونچھ تعلیمی بورڈز بھی اپنی اپنی ڈویژنز کے طلباوطالبات کے لیے امتحانات کا منظم انعقاد اور بروقت نتائج کا اعلان کریں گے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ڈویژنز کی سطح پر تعلیمی بورڈز کے قیام سے مرکزی سطح پر ہونے والے بد انتظامی کے بعض معاملات ڈویژنز کی سطح پر منتقل ہو جائیں گے لیکن ان تعلیمی بورڈز کے قیام سے طلباوطالبات کے تحفظات بھی کافی حد تک دور ہوں گے اور ان کی مشکلات میں کمی واقع ہو گی ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مظفرآباد اور راولاکوٹ میں نئے تعلیمی بورڈز کے قیام کے لئے حکومت کو کوئی خاطر خواہ اضافی فنڈز فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ تعلیمی بورڈز اپنے اخراجات فیسز اور دیگر چارجز کے ذریعے خود ہی پورے کریں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں