زیادتی کیس : ملزم کا حلیہ تبدیل، 6 خاکے تیار : پولیس کی ٹیمیں پختونخوا، سندھ روانہ

لاہور،ننکانہ(سپیشل رپورٹر)گجرپورہ زیادتی کیس کے مرکزی ملزم نے اپنا حلیہ تبدیل کرلیا، پولیس نے مختلف روپ میں 6خاکے تیارکر لئے جبکہ پولیس ٹیمیں پختونخوا اور سندھ بھی روانہ کردی گئیں۔

ایک روز قبل ننکانہ میں ہونے والے آپریشن کے بارے میں پتا چلا کہ اس وقت عابد اپنی سالی کشور سے ملنے رائے بلار بھٹی پارک پہنچا تھا اور اس سے اپنی بیوی بشریٰ کے بارے میں پوچھ گچھ کررہا تھا۔۔

اہل محلہ نے 15پر کال کردی، اطلاع کے باوجود پولیس 25سے 30منٹ تاخیر سے پہنچی،عینی شاہدین کا کہناہے کہ ایس ایچ او تھانہ سٹی ننکانہ عبدالخالق صرف تین پولیس اہلکاروں کے ہمراہ جب وہاں پہنچاتو کالر نے ایس ایچ او کو بتایا کہ وہ عابد علی ہے ،پولیس کودیکھتے ہی عابد بھاگ نکلا ۔

حالانکہ پولیس اور ملزم کا درمیانی فاصلہ صرف دس فٹ کا تھا جبکہ تھانہ سٹی اور رائے بلار بھٹی پارک کا درمیانی راستہ صرف پانچ منٹ کا ہے ، بعدازاں پولیس نے ملزم عابد علی کی سالی کشور بی بی اس کے دو سالوں اور کالر کو حراست میں لیا اور مزید پوچھ گچھ کے بعد انہیں چھوڑ دیا۔

ادھر عابد کی سالی کشور نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پولیس کو ملزم کی موجودگی کی اطلاع دی تھی لیکن پولیس 30منٹ کی تاخیر سے پہنچی،اس وقت عابد پارک میں ہی تھا،اہلکاروں نے جیسے ہی اس پر ہاتھ ڈالا وہ دھکا دے کر فرار ہوگیا،اس نے مزید کہا عابد علی نے اپنا حلیہ مکمل طور پر تبدیل اورکلین شیو کر لی ہے ۔

وہ میری شادی شدہ بہن بشریٰ بی بی جوچار بچوں کا ماں ہے کو اغوا کر کے لے گیاتھاوہ ہمارا مخالف ہے ،اب ہمیں بھی جان کا خطرہ ہے اس لئے پولیس سکیورٹی فراہم کرے ، پولیس نے ملزم عابد کے مختلف روپ میں 6خاکے تیار کر کے جاری کردئیے ، کسی میں بال ہٹائے ہیں تو کسی میں کلین شیودکھایاگیا ہے جبکہ کسی میں مونچھیں ہیں تو کسی میں فرنچ کٹ داڑھی دکھائی گئی ہے ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ان تمام خاکوں میں سے کسی بھی روپ کو دھار سکتا ہے ،دریں اثنا ملزم عابد کی گرفتاری کیلئے بہاولنگر میں بھی چھاپے مارے گئے ، ذرائع کے مطابق عابدکے بہنوئی عارف علی اور اس کے بھائی صابر علی کو فورٹ عباس کے گائوں338 نائن آر سے گرفتار کر لیا گیا۔

اہل علاقہ کے مطابق ملزم عابد کے بہنوئی عارف علی اور اس کے بیٹے بھی اچھی شہرت کے حامل نہیں ،دو سال قبل ملزم عابد کا بہنوئی فیملی سمیت فورٹ عباس چھوڑ کر لاہور کے قریب منتقل ہوگیا تھا،ملزم عابد پر کچھی والا اور فورٹ عباس میں 8 مقدمات درج ہیں۔

جبکہ کل مقدمات 12 ہیں،پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم سندھ اور خیبرپختونخواکے علاقوں میں بھی آتا جاتا رہاہے ،جہاں اس نے جام شورو، بونیر اور ہنگو میں قیام بھی کیا، اس لئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ٹیمیں سندھ اور خیبرپختونخوا بھی روانہ کر دی گئی ہیں،علاوہ ازیں ملزم عابد کی تصویر اورمعلومات لیک ہونے کے معاملے پر ابتدائی رپورٹ ایوان وزیراعلیٰ کو بھجوادی گئی،

رپورٹ کے مطابق تصویر پولیس ڈیپارٹمنٹ سے لیک نہیں ہوئی بلکہ فرانزک ڈیپارٹمنٹ سے لیک ہوئی، رپورٹ لیک کرنے والے متعلقہ شخص کی بھی نشاندہی کرلی گئی ہے ،حتمی رپورٹ وزیراعلیٰ کو دورہ جنوبی پنجاب سے واپسی پر پیش کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں