لندن میں‌زیرعلاج ہوں،ایف آئی اے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوسکتا، ترین

لاہورـ(سٹیٹ ویوز) شوگر ملز کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے طلبی ، جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ لندن میں زیر علاج ہونے کی وجہ سے جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوسکتا۔

پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی کےسینئر رہنما جہانگیر ترین نے 15 ارب روپے کے کارپوریٹ فراڈ کیس میں خود پیش نہیں ہوئے البتہ ایف آئی اے کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو جواب جمع کروادیا ہے۔

اپنے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے ذاتی طورپر پیش نہیں ہوسکتا میں اس وقت لندن میں زیرعلاج ہوں اور ان سوالات کے جواب کیلئے مناسب وقت درکار ہے۔ جہانگیرترین نے کہا کہ وقت دیا جائے تاکہ تمام سوالات کا جواب مطلوب دستاویزات کے ساتھ دے سکوں۔

تفصیلات کے مطابق شوگر کمیشن کی تحقیقات کے دوران جہانگر ترین کے اپنی شوگر ملز کے ذریعے 15 ارب روپے کا کارپوریٹ فراڈ کرنے شواہد سامنے جن کی بنا پر ایف آئی اے نے انھیں آج طلب کیا اور اپنے لیگل ایڈوائزر کے توسط سے جمع کرا دیا۔

ایف آئی اے کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے جواب وصول کر لیا ہے اب تحقیقاتی کمیشن کے سامنےجہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے جوابات کو سامنے رکھ کر وقت دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ جہانگیر ترین کو شوگر ملز معاملے میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم نے جہانگیرترین کوآج لاہور میں طلب کیا تھا۔ جب کہ ان کے بیٹے علی ترین کو بھی اسی کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں 20 ستمبر کو طلب کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں