فضل الرحمٰن کیخلاف تحقیقات شروع، نیب طلب،ڈرنے والے نہیں،پارلیمنٹ سے استعفے جلد آئیں گے، سربراہ جے یوآئی

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

ذرائع کے مطابق نیب ہیڈکوارٹرز کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے خلاف تحقیقات کے لیے نیب خیبر پختونخوا کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں، مولانا فضل الرحمن سے آمدن سے زائد اثاثوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی۔

نیب ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نیب ہیڈکوارٹرز سے مولانا فضل الرحمن سے آمدن سے زائد اثاثے رکھے جانے رکھنے پر تحقیقات کی جائیں گی۔مولانا فضل الرحمن کے بھائی ضیاء الرحمن کے خلاف بھی نیب تحقیقات کر رہا ہے۔

نیب کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو یکم اکتوبر کو حیات آباد میں واقع آفس میں صبح 11بجے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرانے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نیب کے پاس کیس میں مولانا فضل الرحمن کے خلاف شواہد اور معلومات ہیں۔ پیش نہ ہونے کی صورت میں نیب قانون کے تحت کارروائی ہوگی۔

دوسری جانب جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ بتائیں کہ اس حکومت کو لانے کے لیے کون کون سرگرم رہے۔پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے مرکزی رہنمااورجمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ انضمام کے نام پرفاٹا کے ساتھ جوکچھ ہوا ہے گلگت والے اس سے سبق سیکھیں۔

اپوزیشن اس بات پرمتفق ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ہرحال میں انتخابی عمل سے باہر کرناہے،آئندہ دو روز میں مزید اچھے فیصلے قوم کے سامنے آئیں گے، استعفوں کے معاملے پر بیٹھک کل ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ نیب کا نوٹس ملا ہے نہ پتہ ہے ان نوٹسز سے ڈرتے نہیں، یہ ایک مچھر کی بھن بھناہٹ کے سوا کچھ نہیں، زرادری اور نواز شریف کا سیاست میں اپنی حیثیت اور اپنا وزن ہے۔

ملاقاتوں کو خفیہ رکھنا سیاستدانوں کی نہیں اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری ہے، ملاقات کے ایجنڈے میں صرف گلگت بلتستان کا معاملہ شامل تھا،ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ بتائیں کہ اس حکومت کو لانے کے لیے کون کون سرگرم رہے۔

انھوں نے کہاکہ عوام کی آہ و بکا آسمان سن رہا ہے لیکن حکمرانوں کو قوم کے کرب کا کوئی احساس نہیں، ملک میں ریاستی سطح پر فرقہ ورانہ فساد کی کوشش کی جارہی ہے.

فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان بحثیت ریاست اپنی بقاکی جنگ لڑرہا ہے،سقوطِ کشمیر نے قومی غیرت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ایف ٹی ایف کی شرائط پر قانونی سازی کرکے وطن عزیز کی آزادی کو بیچا جارہا ہے.

ملاقاتوں کو خفیہ رکھنا سیاستدانوں کی نہیں اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری ہے، انھوں نے واضح کیا کہ ملاقات سیاستدانوں کے نہیں ان کے بلانے پر پارلیمانی رہنماؤں نے ملاقات کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں