نوید مسعود ہاشمی

آپ ٹھیک کہتے تھے؟

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کی کوکھ سے برآمد شدہ ”پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ” مستقبل میں عمران خان حکومت کے… خلاف جب کسی ”قیامت” کا پیش خیمہ بنے گی… جب کی جب دیکھی جائے گی، فی الحال تو اپوزیشن کے اپنے اندر کتنی… ڈیمو کریسی ہے اس کو انجوائے کرتے ہیں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے جرات اظہار کو سلام کہ جنہوں نے اپوزیشن قائدین کے بھرے میلے میں یہ بات کہنے میں… کوئی جھجک محسوس نہیں کی کہ ”حکومت تو ہماری آواز پبلک میں جانے سے روکتی ہے، آج اے پی سی نے بھی ہماری آواز کو باہر جانے سے روک دیا، ہم پیپلز پارٹی اور منتظمین سے احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں” مولانا فضل الرحمن کے اس ”فرمان” کے تناظر میں ”پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ” کی مستقبل کی پرواز کو دیکھا جاسکتا ہے۔..

میاں نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کر جو خطاب کیا… اسے سن کر ایسا لگا کہ جیسے پی ٹی ایم کے بیانیئے کی نوک پلک سنوار کراسے پیپلز پارٹی کی میزبانی میں عوام و خواص کے کانوں تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہو۔

پی ٹی ایم کا بیانیہ میں نے اس لئے لکھا …کیونکہ پی ٹی ایم کے ایک لیڈر نے ٹویٹر کے ذریعے متعدد بچوں کی… ایک ایسی تصویر شیئر کی … کہ جن بچوں کے زخمی زخمی وجود پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، پی ٹی ایم کے لیڈر ارشد آفریدی نے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر اس… تصویر کے حوالے سے لکھا کہ ”فلسطین” کے علاقے وزیرستان کے ”شکتوئی” میں بے گناہ خواتین، بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں پر اسرائیلی جارحیت چار دن سے جاری ہے … جوکہ ظلم و بربریت کی انتہا ہے، سچی بات ہے کہ پی ٹی ایم کے لیڈر کے اس انکشاف پر ہر دردمند دل رکھنے والا… پاکستانی دل تھام کر رہ گیا … لیکن پھر جب یہی تصویر وائس آف امریکہ کے ایک ٹویٹر ہینڈل سے پوسٹ کی گئی … تصویر کے ساتھ افغانستان کی وزارت دفاع کا ایک بیان بھی شامل تھا کہ جس میں بتایا گیا تھا کہ افغانستان کے… صوبہ پکتیا میں ایک جھڑپ کے دوران12 بچے زخمی ہوئے، پی ٹی ایم کے موصوف لیڈر کی اس ”چول” کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس نے پاکستانی علاقے وزیرستان کو اسرائیل اور سیکورٹی اداروں کو اسرائیلی فوج سے تشبیہ دے ڈالی۔

نواز شریف کی تقریر ہو … یا پی ٹی ایم کی طرف سے پاک فوج کو بدنام کرنے کے نت نئے ہتھکنڈے، یہ ایجنڈا نہ پاکستانی ہوسکتا ہے اور نہ پاکستانی عوام کا ، ابھی آل پارٹیز کانفرنس سے قبل میاں شہباز شریف، بلاول زرداری سمیت دیگر اپوزیشن رہنمائوں کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگر جرنیلوں سے ملاقات کے… چرچے عام ہوئے تو ایک ن لیگی دوست نے فون پر بڑے دکھ بھرے انداز میں مجھ سے کہاکہ اگر ہمارے قائدین کو خفیہ ملاقاتیں ہی کرنا ہوتی ہیں تو پھر… ایسی تقریریں کیوں کرتے ہیں… کہ جس سے قومی سلامتی کے اداروں کے حوالے سے شکو ک و شبہات جنم لیتے ہیں … میں نے اس دوست سے کہا کہ میرے نزدیک اگر اپوزیشن قائدین پاک فوج کے جرنیلوں سے ملاقات کرتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے، اگر پاکستانی صحافی، سیاست دان، تاجر، دانشور، علماء، غر ضیکہ زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد۔۔۔ آرمی چیف یا آئی ایس آئی کے چیف سے میل ملاقاتیںکرتے ہیں تو یہ کوئی طنزیا یا طعنے کی بات نہیں ہے، اپنے ہی اپنوں سے ملاقاتیں کیا کرتے ہیں۔۔۔ اور اگر میل ملاقاتوں میں بحث مباحثوں اور گفتگو کے ذریعے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟

برائی تو اس وقت پیدا ہوتی ہے کہ جب خفیہ ملاقاتیں کرنے والے کھلی مجالس اور کانفرنسوں میں خلائی مخلوق سے لے کر محکمہ زراعت تک کے پروپیگنڈے کو دوام بخشتے ہیں۔
یہ جب تک اقتدار کے مزے لوٹیں ان کی اولادیں، ان کے خاندان جب تک دولت سمیٹتے رہیں، تب تو سب اچھا ہوتا ہے۔۔۔ لیکن جیسے ہی ”اقتدار” ان سے دور ہوتا ہے … یہ مجنوں بن کر مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نکالا کی صدائیں لگاتے، لگاتے … جیل سے لندن جا پہنچتے ہیں، پی ٹی ایم ہو ، بلوچ علیحدگی پسند ہوں، یا پاک فوج کے خلاف این جی او مارکہ سیکولر شدت پسندوں کی متحرک زبانیں۔۔۔۔ ان میں سے کوئی بھی کبھی اقتدار میں نہیں رہا … نواز شریف تو ملک کے تین بار وزیراعظم رہے … سرزمین لندن سے کی جانے والی ان کی تقریر بھی اگر حسین حقانی، الطاف حسین اور محسن داوڑ کی تقریروں کاچربہ۔۔۔ ہوگی تو پھر قوم کو بھی سوچنا ہوگا کہ ان کی وفاداری ملک سے ہے یا کسی خاص شخصیت سے … نواز شریف کی اے پی سی والی تقریر کے بعد کچھ ”محب وطن” عناصر نے خوشی سے مغلوب ہوکر سوشل میڈیا کے ذریعے عسکری اداروں پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی، میری ان سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی ”ٹھنڈی” کرکے کھائیں اور آگے آگے دیکھیں کہ ہوتا ہے کیا؟

میرے کچھ ن لیگی دوست یقینا مجھ پر ناراض ہوں گے کہ میں نے ان کے قائد کی تقریر کو پی ٹی ایم کے بیانیئے کے ساتھ کیوں جوڑا؟ تو ایسے دوستوں کو جواب میں اسی کالم میں دینا چاہتا ہوں، میں نے جب نواز شریف کی تقریر سنی تو ایسے لگا کہ جیسے ان کی تقریر میں کہی جانے والی بہت سی باتیں سنی سنی… سی ہیں… غور کیا تو فوراً ذہن کی سلیٹ پر پی ٹی ایم کا نام جگمگانے لگا، جب اس خاکسار نے یہ سنا کہ پیپلز پارٹی کی میزبانی میں… اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس ہو رہی ہے تو یہ سننے کے بعد میں بے اختیار ہنس پڑا تھا … دوستوں نے حیران ہوکر ہنسنے کی وجہ پوچھی تو میں نے عرض کیا … زرداری کی پارٹی اور اپوزیشن؟ بہرحال اگر ”مولانا” فرماتے ہیں تو اے پی سی کے انعقاد تک یقین کرلیتے ہیں… اے پی سی میں جس طرح سے مولانا کی آواز کو اندرو اندری دبانے کی کوشش ہوئی تو… انہیں دوستوں کا پھر فون آیا کہ ہاشمی صاحب! آپ ٹھیک کہتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں