حق گوئی و بے باکی /باسط علی

فرسودہ نظام تعلیم کے خلاف اعلانِ بغاوت

البرٹ آئین سٹائن ایک بہت ہی ذہین اورعظیم سائنسدان تھے۔ آپ ۱۴ مارچ ۱۸۷۹ کو جرمنی کے شہر اولم میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حرمن آئین سٹائن ایک انجینئر اور سیلز مین تھے۔ آئین سٹائن کاسر باقی جسامت کے مقابلے میں تھوڑا بڑا تھا۔ عموما ایک بچہ ڈیڑھ دو سال میں بولنا شروع کر دیتا ہے۔ مگر البرٹ نے چار سال کی عمر میں لکنت سے اور نو سال کی عمر میں صیح تواتر سےبولنا شروع کیا۔ آپ بچپن سے ہی عام بچوں سے کافی منفرد تھے۔ آپ عام بچوں الگ تھلگ رہتے اور ان کی طرح شوخ اور شرارتی نہیں تھے۔اپنی عمر کے بچوں کے ساتھ کھیلنا بھی آپ کو بلکل ناپسند تھا۔ آپ کی اس اب نارملٹی کی وجہ سے آپ کے والدین بے حد فکر مند رہتے تھے۔آپ کو ہمیشہ اتوار کا انتظار رہتا تھا، کیونکہ اس کو ان کے والد انہیں کسی پر فضا مقام پہ سیرکرنے لے جاتے تھے۔جہاں بیٹھ کر وہ فطرت اور دنیا کے بارے میں بڑے سکون سے سوچتے تھے۔

ایک سوال ہمیشہ ان کے دماغ میں رہتا تھا کہ یہ دنیا کیسے چلتی ہے۔ اپنی معذوری اور دیر سے بولنے کے باعث انہیں دس سال کی عمر میں سکول میں داخل کروایا گیا۔ انہیں سکول ایک جیل کی ماند لگتا تھا، ان کے نزدیک سکول ایک ایسی جگہ ہے جہاں کوئی بھی آدمی آزاد نہیں ہے۔ وہ اپنے اساتذہ کی باتوں کو آسانی سے تسلیم نہیں کر سکتے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ اساتذہ سے عجیب طرح کے سوالات کیا کرتے تھے۔ اساتذہ ان سوالات کی وجہ سے اس طالب علم سے ہمیشہ نالاں رہتے اور انہیں سنکی اور پاگل کہا کرتے۔ اساتذہ کے بار بار پاگل کہے جانے کی وجہ سے آئین سٹائن سچ مچ اپنے آپ کو پاگل سمجھنے لگے۔ انہوں نے ایک دن اپنے ایک استاد سے پوچھا کہ جناب میں اپنے دماغ کو کیسے طاقتور بنا سکتا ہوں ؟

استاد نے جواب دیا ،بیٹا سوچ ہی ایسی چیز ہے جس کی بدولت انسان کامیابی کی منزل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ آپ نے اپنے استاد کی اس نصیحت کو سنجیدہ لیا اور تحیہ کر لیا کہ میں اپنی سوچ کی بدولت دنیا میں نام میں اپنی منفرد حثیت بناوں گا۔اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ آئین سٹائن نے اپنی سوچ ہی کی بدولت فزکس اور میتھ کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کی۔ سائنس کی دنیا میں آئین سٹائن کے لازوال کارنامے ہیں۔ آئین سٹائن اپنے فارمولوں اور بے مثال تحقیق کی وجہ سے رہتی دنیا تک لوگوں کے دل و دماغ میں زندہ رہیں گے۔ ان کا مشہور فارمولا انرجی اور ماس کی مساوات E=mc^2ہے، جس کا اطلاق ایٹم بم پہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کوانٹم فزکس میں فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ، تھوری آف جنرل اینڈ سپیشل ریکٹویٹی جوماڈرن فزکس کا انتہائی اہم ستون ہے ،کے نظریات پیش کئے۔

فزکس اور سائنس کی دنیا میں ان کے لاجواب کام کی بدولت ان کو۱۹۲۱ میں انہیں فزکس کے نوبل پرائز سے نوازا گیا تھا۔ البرٹ آئین سٹائن کو اسرائیل کے صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا، مگر آپ نے یہ اعزاز لینے سے انکار کردیا۔ امریکی حکومت آئین سٹائن کی تخلیقی ذہانت اور ایجادات سے اتنی گھبرا گئی تھی کہ ایک امریکی جاسوس ان کے ساتھ ساتھ رہتا ۔ تاکہ کوئی ان کی تحقیق کا استعمال کر کے امریکی سیکیورٹی کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ ان کے تحقیقی کام سے متاثر ہو کر ایک اننسفالوجسٹ نے ان کے سو سالہ جشن کے دوران ان کے جسد خاکی سے ان کا دماغ چرا لیا تھا ،تاکہ ان کی ذہانت پر تحقیق کی جا سکے۔ آئین سٹائن نے اپنی پوری زندگی انسانیت اور سائنس کی خدمت کے لئے وقف کر دی تھی۔ آپ نے ۸ اپریل ۱۹۵۵ کو اس دنیا کو خیر آباد کہا۔ دنیا میں جب تک سائنس اور میتھ پڑھی جاتی رہے گی آئین سٹائن کا نام زندہ رہے گا۔

ہمارے ایک معروف نوجوان سیاستدان اپنی الیکشن کمپین کے دوران اپنے جیالوں کی خلاف میرٹ تقرریوں کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جس میں انہوں نے آئین سٹائن کی مثال دے کر وضاحت کی کہ سکول کی زندگی میں توآئین سٹائن بھی کوئی قابل طالب علم نہیں تھے۔سوشل میڈیا پر عقیدت مندوں نے اپنے قائد کے اقوال کا بھر پور پرچار کیا اور ان کی سوچ اور خطابت کو بھر پور دادِ تحسین پیش کیا۔ جناب کی خدمت میں عرض کرتا چلوں کہ آئین سٹائن رسمی نظام تعلیم کے سخت خلاف تھے، ان کے نزدیک سکول طالب علم کے لئے ایک جیل کی ماند ہے۔ سکول میں بچوں کو سکھانے کے بجائے سدھایا جاتا ہے، یہاں بچوں کو تخلیقی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے بجائےان سے رٹہ لگانے والی مشینوں کا کام لیا جاتا ہے۔ اس نظام تعلیم کےتحت نہ تو کو ئی البرٹ آئین سٹائن پیدا ہوا ہے اور نہ ہی کوئی ائیزک نیوٹن ۔

اسی وجہ سے مغربی ممالک میں جدید نظام تعلیم متعارف کروایا گیاہے۔ جس کے تحت تعلیمی اداروں میں بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے نت نئی تکنیکیں متعارف کروائی گئی ہیں۔ ایک مشہور ایم ایل اے جب پہلی دفعہ وزیر تعلیم بنے تو انہوں نے اپنے میٹرک اور ایف اے باس ہوٹلوں پہ کام کرنے والے، ڈرائیور ،کنڈکٹر جیالوں کو پکڑ کر استاد بھرتی کر دیا۔ ان اساتذہ کا اگر ریکارڈ اور تعلیمی نتائج کا مطالعہ کیا جائے تو نظام تعلیم کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ ایم ایل اے صاحب نے اگلے بیس تیس سال تک اپنی سیاسی پوزیشن تو مستحکم کر لی لیکن آنے والی نسلوں کا بیڑہ غرق کر دیا۔ یہ لوگ اس فرسودہ نظام تعلیم کو اس لئے سدھار نہیں رہے کیونکہ ان کا نظریہ ہے کہ اگر نظام تعلیم بہتر کیا گیا اور یہ قوم پڑھ لکھ کر باشعور ہوگئی تو ہماری حکمرانی ا ور اجارہ داری ختم ہو جائیگی۔جناب اپنے جیالوں کی تقرریوں کو ٖجائز ثابت کرنے کے بجائے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ اس ملک میں کئی ذہین لوگ ہیں مگر تخلیقی اور تحقیقی ماحول کی عدم دستیابی کے باعث یہ نظام اس قوم کو کوئی قابل ستائش ایجاد نہ دے سکا۔ ہم آج اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی قائد اعظم کے چودہ نکات سے آگے نہیں بڑھے۔ میں اس فرسودہ اور ناکارہ تعلیمی نظام کے خلاف اعلانِ بغاوت کرتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں