نقطہ نظر/پروفیسر خالد اکبر

اختلاف رائے کے ثمرات اور معاشرہ

اختلاف رائے کو کارزار سیاست اور Social Discourse میں ایک خاص مقام حاصل ہے ۔۔خصو صاً اُن ممالک میں جہاں جمہوریت رائج ہے اور اپنی گہری جڑیں پیوست کر چکی ہے۔تاہم وہ ممالک جن میں یہ نظام حکومت ابھی تک نامو لود ہے اور پنپ رہا ہے وہاں مخالف رائے کا احترام ہنوز نا پختہ بلکہ نا قا بل برداشت ہے۔وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اختلاف رائے کو برداشت کرنے ،اسے مثبت خیال کرنے اور ماننے والا یہ نظام حکومت جسے جمہوریت کہا جاتا ہے،مستقبل میں کرہ ارض میں بسنے والے ا نسانوں کے لئے مکمل رہائی ، خوشحالی اور امن و سکوں کا آئینہ دار ہوگا۔

بشرطیکہ اگر اس کے ساتھ ساتھ تمام انسانوں کو بلا رنگ و نسل اور زبان معیاری تعلیم، معاشی عدل اور مساوات فراہم کر دی گئی۔ تاریخی طور پر دیکھا جا ئے تو پتا چلتا ہے کہ اختلاف رائے کو سب سے زیادہ مذاہب نے محدود رکھا ۔ ایک غالب رائے کے مطا بق مذاہب کو ماننے کے لئے زیادہ تر عقل و دانش کے بجائے اندھا یقین ضروری ہو تا ہے۔ مذاہب کے حوالے سے اب تک Sociology of Religion یعنی مذہب کا سماج کے ساتھ تعلق پر بہت کم معروضی مبا حث ہو ئے ہیں .خصوصاً اس کا اجتماعی سطع کے معاملات میں مکمل بے لاگ تجزیہ اورمعرو ضی تنقیدی جا ئزہ نہیں لیا جا سکا۔

اسکی وجہ صا ف اورواضح ہے کہ مذہب ایک مقدس چیز ہے اور اس کا تنقیدی تجزیہ ایک انتہائی نا پسند یدہ عمل۔۔بلکہ گناہ ہ سمجھا جاتاہے۔ تاریخ انسانیت میں عیسائیت ہی وہ واحد مذہب ہے جس کا بے لاگ تنقیدی جائزہ لے کر ایک بے لاگ رائے قائم کی گئی جو مذہب سے بیگانگی یا احتراز نہیں تھا بلکہ مذہب کے مقام کو ایک صحت مند اور درست سطح پر متعین کرتا تھا ۔ قصہ مختصراً یہ کہ عدم برداشت کے فروغ اور اختلاف رائے کے صحت مندا نہ روایہ کا گلا گھونٹنے میں روایاتی مذاہب کا کلیدی کردار رہاہے۔مطلق العنان حکمرانوں اوربا دشاہوں نے بھی اختلاف رائے کا گلہ گھونٹا ہے اور معاشروں میں مکالمے کے کلچر اور تنقیدی تجربات کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

تاریخ انسانیت اس طرح عدم برداشت اور مکالمے کے کلچر کی حوصلہ شکنی کی روایات سے عبارت ہے۔مطلق العنان اور شخصی حکمرانوں کی حکومتیں کوئی مقبول عام نہیں ہوتیں۔۔لہذا ان کو ڈر لگا رہتا ہے کہ کئی تنقیداور اختلاف رائے سے ان کی خا میاں آشکار نہ ہو جائیں اور وہ حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے سا تھ سا تھ ریا ستی سطع پر دی جا نے والی تعلیم بھی ایک حد تک اس عد م رواداری اور تنگ نظری کی عکا س ہوتی ہے .ہر ملک کی اپنی قو می ترجیحات اور مقا صد ہو تے ہیں۔جس کے سبب وہ تعلیمی نظام کو اُن خطوط پر استوار کرتے ہیں جس میں یہ status quo بحال رہے۔

اسا تذہ کرام کا کردار قوم کے معمار کے طور پر اس حوالے سے انتہائی اہم اور کلیدی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے. خصوصاً کا لجز اوریونیو رسٹیز کے پرو فیسرز کا مگر اکثر افر یقی اور ایشیا ئی ممالک میں یہ اسا تذہ کرام مروجہ نظام تعلیم کے سبب ایک مخصو ص حدود سے با ہر نہیں جا سکتے۔ حقیقت حال یہ کہ وہ خود بھی اسی نظام کی پیداوار ہو تے ہیں جس کی وجہ سے اُن کی بڑی اکثریت تنگ نظری اور معروضی طر ز فکر سے کو سوں دور ہوتی ہے۔ اس رویہ کی ہلکی سی جھلک ہمارے ہاں صرف اسا تذہ کی محدود اور یکساں مقا صد کے لیے بنا ئی گئی ٹریڈ یو نینز کی عدم راواداری اور اختلاف رائے کی عدم قبولیت کی سیاست ۔۔بلکہ ذاتیا ت اور ایک دوسر ے کی گھر یلو اور نجی زند گیو ں تک کو اُچھا لنے کی نا منا سب ریت اور روش کو دیکھ کر آسانی سے لگا ئی جا سکتی ہے ۔

اختلاف رائے یا تضاد جدلیات کا ایک سائنسی قانون ہے۔ جس کا مغز یہ ہے کہ فطرت کا ارتفا ء اور چیزوں کی نشوونما تضاد سے جنم لیتی ہے۔فطرت اورمادہ کا یہ تضاد ایک سائنسی عمل ہے جسکے سبب چیزیں بہتر سے بہترین کی طرف گامزان رہتی ہیں۔اور حیات نو کا باعث بنتیں ہیں۔تاہم تضاد کا یہ قانون معاشرتی ارتقاء میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے؛ اور اس کے قوانین کا سما جی ارتقا ء میں بھی یکسا ں طور پر اطلاق ہوتا ہے ۔مختصر اًیہ کہ اختلاف اور تضاد فطرت اور سما ج میں چیزوں کی نشوونما اور رو یو ں کی بہتری کا ایک بنیادی اصول ہے ۔اس ضمن میں ، ایک صحت مند سماج کے قیام کے لئے ہمارے ایسے تنگ نظر معا شرہ میں، انفرادی اور اجتماعی رویوں میں توازن اور اعتدال پیدا کر نے کے لئے اسے ایک بڑی قدر کے طور پر فروغ دینے کی جتنی ضرورت آج ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔

اختلافات کی قدر کیوں نا گزیر ہے۔ کیونکہ لوگوں کی ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی ہیبت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ۔بقول کسی مفکر کے اختلافات کی قدر اس لیے بھی ضروری ہے چونکہ ہر فرد دنیا کو اپنی عینک سے دیکھتا ہے وہ اسکو ایسے نہیں دیکھتا جیسے وہ ہے بلکہ ایسے دیکھتا ہے جیسے کہ وہ خود ہے ۔ یہ حقیقت اس بات کی دلالت کر تی ہے کہ اختلاف و تضاد انسانی سا خت اور فطرت کے اندر سمویا ہوا ہے۔اختلافات کی قدر کرنے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایسا رویہ علم ، معلومات اور معروضی انداز فکر کی نمو کے لئے بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

جب ہم صرف اپنے تجربات پر بھروسہ کرتے ہیں تو ہمارا نقطہ نظر یک طرفہ اور محدود ہو جاتا ہے۔ یہ بات غیر فطری ہے کہ دو لوگ کسی مسئلہ پر مخالفانہ رائے رکھتے ہوں اور دونوں صیح ہوں ۔۔یہ ہو سکتا ہے کہ دو لوگ ایک تصویر کو دیکھتے ہوں ،ایک کے نزدیک تصویر میں جو ان اور دوسرے کے نزدیک ایک بوڑھی عورت ہو۔۔ یہ ہماری اپنی تشریح ہوتی ہے۔۔ ہم مختلف تشریح کیوں کرتے ہیں؟؟ ۔۔ چونکہ ہماری conditioning – مخصوص تربیت- مختلف حالات اور ماحول کی پیداوار ہوتی ہے ۔جب تک ہم اس جہت کو نہیں سمجھتے ہم مشروطیت کی حدو د سے نہیں نکل سکتے اور یہ تصور نہیں کر سکتے کہ کوئی بہتر حا لت بھی موجود ہے ۔

سیاست میں اختلاف رائے اور تنقید کا نتیجہ یہ ہوتا ہے حکومت اور اس کے کل پرزے ،عوام کے سامنے احتساب کے لئے تیار رہتے ہیں ۔یوں انکے اپنے اعمال اور کردار کی تہطیر ہوتی رہتی ہے۔ ہمارے ملک کی طر ح جن ملکوں میں جمہوری رویے نا پختہ اورادارے مضبوط نہیں ہوتے وہاں پر اختلاف رائے رکھنے والوں اور معروف بیانیہ سے ہٹ کر رائے اور خیال پیش کرنے والوں کو آسانی کے ساتھ غیر ملکی ایجنٹ، ملک دشمن ، دہشت گرد اور غدار قرار دیا جاتا ہے۔

پس اس ڈر سے کئی عالی اور فطین دما غوں کے زریں خیالات ، فائدہ مند اور حیات افزاء افکار معا شرہ میںپنپ نہیں سکتے ۔۔ وہ اس خوف سے یا تو مکمل چپ سادہ لیتے ہیں یا گوشہ عافیت احتیار کر لیتے ہیں۔ نتیجتاً ایسے معاشرے جمعود کا شکار رہتے ہیں اور ترقی نہیں کرپاتے۔جن ملکوں میں حقیقی جمہوری روایات ، رواداری اور اعتدال پسندی کو فروغ ملا وہ تاریخی طور پر اختلاف رائے اور تنقید کو صحت مندانہ انداز سے قبول کرنے کے سبب ہی ایسا ممکن ہوا۔ہما رے ہاں پا کستا ن اور ہند وستا ن کے در میان دیرینہ مسا ئل کے حل میںکئی پر اثر بیا نیے، مفید خیالات اور ٹھوس کا وشیں اسی تنگ نظری اور متعصبا نہ مائنڈ سیٹ کی وجہ سے ظفر یا ب نہ ہو سکیں ۔

ممتاز دانشور ڈاکڑ مبارک علی ایک جگہ بیان کرتے ہیں کہ فرانس میں ڈیگال کے زمانے میں جب الجزائر کا مسئلہ پیش آتاہے تو وہاں کے دانشوروں اور سیاسی کارکنوں نے الجزائر کو آزاد کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ۔مگر کسی نے انہیں ملک دشمن اور غدار نہیں ٹھہرایا۔ویت نام کی جنگ کی سب سے زیادہ مخالفت امریکہ سے ہوئی اورحکومت کو مجبور کیا گیاکہ وہ اس جنگ سے دستکش ہو جائے۔مہذ ب دنیا کی تا ریخ ایسی متعدد مثا لو ں سے بھری پڑی ہے۔

ایک مشہور مفکر کے مطابق کسی مسئلے پر آپ کی اپنی رائے ہونا بہت اچھی بات ہے ۔لیکن عقل مندی یہ ہے کہ دوسرے کی رائے کو بھی تسلیم کیا جائے۔ کسی فرد میں پختگی ااور اعتدال اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ دوسرے کی رائے کے ساتھ co- existکرنا سیکھ جاتا ہے۔کسی بھی سماج کی تہطیر اور ترقی کے لیے اختلاف رائے اور تنقید اہم ہیں۔چونکہ اس طرح معاشرہ کا سیاسی، سماجی اور معاشی نظام آگے بڑھتا رہتا ہے اور نئی روایات کی داغ بیل ڈھلتی رہتی ہے۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ مناظرہ اور منا قشات کے بجائے اختلاف رائے کے تہیں ر واداری اور مکالمہ کے کلچر کو آگے بڑھایا جائے۔

بد قسمتی سے ،ہمارے ہاں ٹاک شوز اور مباحث میں مکالمے کے بجائے بلند آواز اور دبنگ اندازِ بیان تقویت اور مقبولیت پا رہا ہے۔ شرکا ء محفل کا پورا زور اپنے مخالفین کو دبانا اور اپنے موقف کو ہر حال میں غالب کرنا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ جمعود ، عدم رواداری ا ور کد و رت کی شکلوں میں ہمارے سامنے ہے۔ حاصل کلام یہ کہ اگر ہم نے سماج کو ترقی دینی ہے۔۔اور آگے بڑھنا ہے تو ہمیں اختلاف رائے اور مکالمے کے کلچرکو بڑھانا ہوگا ۔ ہمیں چھوٹی سطع سے لے کر لیکر اقتدار کے ایوانوں تک اپنے روایہ کو بدلنا ہوگا۔اختلاف رائے کے ساتھ جینے کے آداب سیکھنے ہوں گے ۔جدلیات اور فطرت کا یہی قانون ہے اور اسی میں ہماری اور ہماری نسلوں کی بقا ہے.
پختہ تر ہے گردش پہیم سے جام زندگی
ہے یہی اے بے خبر راز دوام ِ زندگی

اپنا تبصرہ بھیجیں