پورے کشمیر کا الحاق پاکستان سے چاہتے ہیں، سردار مسعود خان

راولاکوٹ( سٹاف رپورٹر) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کوئی اثر پڑے یا مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام کا موقف کمزور ہو۔ ہم پورے کشمیر کا الحاق پاکستان سے چاہتے ہیں اور اس کا فیصلہ جموں و کشمیر کے لوگ مل کر کریں گے۔ گلگت بلتستان کے مستقبل کے بارے وہاں کے عوام اور وہاں کی اہم سیاسی جماعتوں کا موقف مختلف ہے جن سے بات چیت کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولاکوٹ کے نواحی گاؤں بیڑی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سابق سپیکر قانون ساز اسمبلی سردار سیاب خالد کی صدارت میں ہونے والے جلسہ سے مسلم لیگ ن کے رہنما سردار عاشق، بیرسٹر دانش ریاض، سردار توصیف عزیز، سردار سید حسین خان، ڈاکٹر محمد علی، لالہ محمد صغیر، تاجر راہنما حمید شیخ، طاہر محمود، شاہد خلیل، عاصم اختر اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بیڑی اور پونچھ کے بہادر اور غیور عوام خوش قسمت ہیں کہ وہ ان شہدا، غازیوں اور مجاہدوں کی اولاد ہیں جنہوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کر کے اس خطہ کو آزاد کرایا جہاں ہم امن و سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیڑی اور آزاد خطہ کے لوگوں نے آزادی اور پاکستان کا حصہ بننے کے لیے اپنا خون دیا تھا لیکن ان کا مشن ابھی ادھورا ہے جس کو آپ نے مکمل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کشمیر کے ٹکڑے ٹکڑے پاکستان نہیں بلکہ بھارت کر رہا ہے جس نے 31 اکتوبر 2019 کو پہلے کشمیر کو لداخ اور جموں و کشمیر میں تقسیم کر کے اسے بھارتی یونین کا حصہ قرار دیا اور پھر اگلے دن یکم نومبر کو ایسے جعلی نقشے جاری کیے جن میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیر کی تحریک آزادی جس نازک دور سے گزر رہی ہے دنیا میں صرف پاکستان ایک واحد ملک ہے جو پوری جرات اور استقامت کے ساتھ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس لیے ہم نے پاکستان کے ساتھ اپنے رشتہ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ مختلف سیاسی جماعتوں میں بٹے رہنے اور سیاسی اختلافات کے باوجود آزاد خطہ کی سیاسی قائدین کشمیر کے مسئلہ پر یک زبان ہیں اور ساری سیاسی قیادت اس بات پر یکسو ہے کہ ہم نے بھارت سے آزادی اور اپنا حق خود ارادیت حاصل کرنا ہے۔ صدرسردار مسعود خان نے کہا کہ اس وقت اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم سب متحد ہو کر دشمن کو پیغام دیں کہ اس نے ایک غیور قوم کو للکار ہے جو اس کے جرائم کا حساب لینے کے لیے پر عذم ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کو اپنے جسم و جان کا حصہ قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ حصہ کے ہمارے بھائی اور بہنیں آج جس تکلیف اور کرب سے گزر رہے ہیں وہ ہماری تکلیف اور کرب ہے اور پاک فوج کے ساتھ مل کر انہیں اس کرب سے نکالنا ہماری قومی، دینی اور انسانی ذمہ داری ہے۔

عوام علاقہ کے مسائل اور تکالیف کا تذکرہ کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ بیڑی، ہورنہ میرا، پاچھیوٹ کے عوام کے مسائل ضرورحل ہونے چاہیے اور انشاء اللہ ہم حل کریں گے لیکن ہمیں اپنی سوچ کا کینوس وسیع کر کے باغ، مظفرآباد، میرپور، کوٹلی کے عوام کے مسائل پر بھی سوچنا ہو گا کیوں کہ یہ سب علاقے اسی ایک ریاست کا حصہ ہیں اور ان کے مسائل بھی ہمارے مسائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ راولاکوٹ، بیڑی، پاچھیوٹ اور تمام ملحقہ علاقے قدرت کا حسین تحفہ ہیں جنکی ہمیں قدر کرنی چاہیے اور ان علاقوں کو ترقی دے کر سیاحت کا مرکز بنائیں تاکہ لوگوں کے معاشی حالات میں بہتری آئے، ان کا معیار زندگی بدلے اور علاقے میں بے روزگاری کا خاتمہ ہو۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ایک جمہوری معاشرے میں عوام کو حکمرانوں اور اپنے منتخب نمائندوں کے پیچھے پھرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ منتخب نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کے پاس جا کر ان کے مسائل معلوم کریں اور انہیں حل کریں۔

قبل ازیں اپنے خطاب میں مختلف مقررین نے صدر آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ بیڑی کے شہدائے آزادی کی یاد میں ایک یادگار تعمیر کی جائے، بیڑی میں بنیادی مرکز صحت دیا جائے اور گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کو کالج کا درجہ دینے کے علاوہ سکول میں امتحانی ہال تعمیر کیا جائے تاکہ طلبہ کی مشکلات کو کم کیا جائے۔ عوامی نمائندگان نے صدر سردار مسعود خان کو مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کو دنیا کے مختلف فورمز پراٹھانے کی مسلسل اور انتھک کوششوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ صدر مسعود حکومت میں رہیں یا نہ رہیں لیکن تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے جب مذاکرات کی میز بچھے گی تو وہ اس میز پر ضرور موجود ہوں گے۔

بعد ازاں سردار توصیف عزیز اور انجمن تاجران مجاہد آباد کی دعوت پر صدر سردار مسعود خان نے مجاہد آباد کا دورہ بھی کیا جہاں تاجروں کی طرف سے ممتاز حسین اور سردار جاوید صادق نے انہیں تاجروں اور عوام کے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بینک آف آزاد کشمیر کی مقامی برانچ منتقل ہونے کی وجہ سے عوام خاص طور پر تاجر برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجروں نے مجاہد آباد کی جامع مسجد کی تعمیر میں امداد اور دیگر مسائل صدر ریاست کے نوٹس میں لائے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مجاہد آباد سے ان کی پرانی یادیں وابستہ ہیں اور ان کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ اس علاقے میں بار بار آئیں اور یہاں کے لوگوں کے ساتھ مل بیٹھیں انہوں ے نے کہا کہ ہم سب کی سوچ ایک سمت میں ہونی چاہیے تاکہ ہم مل جل کر اس علاقے کو ترقی دیں اور تحریک آزادی کشمیر میں وہی کردار ادا کریں جو ہمارے بزرگوں نے 1947 میں ادا کیا تھا۔

صدر آزد کشمیر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے بارے میں آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں، کل جماعتی حریت کانفرنس اور گلگت کی دو سیاسی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کا ایک موقف ہے جبکہ گلگت بلتستان کی دوسری جماعتوں کا ایک مختلف موقف ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر گلگت بلتستان کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں۔

بعد ازاں صدر آزاد کشمیر سے یونیورسٹی آف پونچھ کے طلبہ کے ایک وفد نے ملاقات کی اور انہیں طلبہ کے مختلف مسائل سے آگاہ کیا۔ طلبہ نے مطالبہ کیا کہ کرونا وائرس کے عرصے کی فیس میں کمی، طلبہ کی رہائشی سہولتوں کی فراہمی اور یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں کے پی اور فاٹا کے طلبہ کے لیے مختص نشستوں میں اضافہ کیا جائے۔ صدر آزاد کشمیر نے طلبہ کو یقین دلایا کہ ان کے تمام جائز مطالبات پر ہمدردانہ غور اور حل کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں