افادات/ڈاکٹر پیر علی رضا بخاری۔ -ایم ایل اے

ایمنسٹی انٹرنیشنل پر بھارتی پابندی

ہندوستان کی انتہا پسند حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کے طویل فوجی محاصرے اور کشمیری کے ماورائے عدالت قتل عام کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کے لئے پہلے مرحلے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی نہیں دی اور اس کے باوجود جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم دنیا کی آنکھوں سے اوجھل نہ رہ سکے تو ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے عالمی شہرت کے حامل ادارے کے دفاتر کو ہندوستان سے بند کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ حکم دراصل ہندوستان کی پسپائی کا منہ بولتا ثبوت ہے
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیم ’اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘ کی جانب سے حملوں کے خطرے کے پیش نظر بھارت کے مختلف شہروں میں اپنے دفاتر بند کیےہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گذشتہ دنوں بنگلور، ممبئی، چنائی، پونے اور نئی دہلی کے دفاتر بند رہے۔ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے طلباء کے ونگ ’اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘ نے بنگلور میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف ایک ریلی نکالی۔بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کو کشمیر کے معاملے پر غداری کے الزامات کا سامنا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے طلباء کی یہ تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف پولیس کو اپنی شکایت بھی درج کروا چکی ۔ اس تنظیم نے بنگلور میں ایمنسٹی کی جانب سے منعقدہ ایک سیمینار میں کچھ کشمیری شرکاء کی طرف سے کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے جانے پر ایمنسٹی کی بھارتی شاخ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کروایا تھا۔

رواں سال اگست میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک برس مکمل ہونے پر ایمنسٹی نے انڈین حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ جموں کشمیر سے حراست میں لیے گئے تمام سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور صحافیوں کو رہا کرے اور خطے میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت کو بحال کرے۔سنہ 2019 میں ایمنسٹی نے جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق سے متعلق امریکی خارجہ امور کی کمیٹی میں ایک سماعت کے دوران مقبوضہ کشمیر میں طاقت اور تشدد کے بےتحاشہ استعمال اور جبری نظر بندیوں کے حوالے سے اپنی فائنڈنگز (نتائج) پر روشنی ڈالی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں پر پابندیوں کے نتیجے میں بھارتی حکومت نے کشمیر میں انڈین آرمی کی تعداد میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور انڈین حکومتی اداروں نے کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے نہتے ،مجبور و مظلوم کشمیریوں پہ ظلم و ستم کی انتہاء کر دی ہے۔یہ کرفیو سوا چار سو روز سے جاری ہے۔ انڈین آرمی بلا اجازت گھروں میں داخل ہو کر جسے چاہتی ہے اٹھا لیتی ہے۔خاص طور پر جوان بچوں کو حریت پسند کہہ کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے اور پھر چند دن کے بعد ان کی تشدد شدہ لاشیں کسی اور علاقے سے ملتی ہیں ،اسی طرح مسلم عورتوں کو بھی گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے اور عصمت دری کے بعد یا تو مار دیا جاتا ہے یا پھر انتہائی بری حالت میں یہ مجبور خواتین کسی علاقے میں پھینک دی جاتی ہیں۔

یہی نہیں کسی بھی گھر کو آگ لگانا گھر سے سامان لے جانا اور توڑ پھوڑ کرنا تو روز کا معمول بن گیا ہے ۔۔۔ستم بالائے ستم کہ بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر سے اول تودور رکھا جا رہا ہے یا اگر اجازت دی بھی جا رہی ہے تو چند مخصوص علاقوں تک ہی میڈیا کی رسائی ہے ، ان علاقوں تک جانے ہی نہیں دیا جا رہا جہاں یہ سفاک گورنمنٹ اپنی فوج کے ساتھ آگ و خون کا کھیل کھیل رہی ہے ۔ اس وقت ان مظلوم کشمیریوں کی داد رسی کرنے والا یا مددگار کوئی نہیں سوائے خدا کی ذات کے۔ ہزاروں گھرانے بے یارو مدد گار ایک اللہ اور پاکستانیوں کی مدد کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔

ہندوستان کے انسانی حقوق کی تنظیموں پر پابندی جیسے اقدامات کے بعد بڑی طاقتوں سمیت پوری عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کروانے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالیں اور اسے بامقصد مذاکرات کی میزتک لانے میں مثبت کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں