رات کی تاریکی میں منظور کی جانیوالی ایسی ترمیم، جس نے کئی منتخب وزراء شکار کئے

اسلام آباد(رپورٹ سٹیٹ ویوز)ڈاکٹر فاروق حسن کہتے ہیں کہ ’صدر ضیا الحق نے مجھے بتایا کہ آٹھویں ترمیم کا مشورہ انھیں سری لنکا کے صدر جے وردھنے نے دیا تھا‘
سنہ 1985 کے عام انتخابات کے بعد سنہ 1973 کے آئین کی بحالی کا حکم نامہ، یعنی ریوائیول آف کانسٹیٹیوشن آرڈر (آر سی او)، جاری کرتے ہوئے صدر پاکستان جنرل محمد ضیا الحق کی سوچ کیا تھی، اس کا اظہار ماہرِ قانون ڈاکٹر فاروق حسن کے اُس مضمون سے ہوتا ہے جو انھوں نے روزنامہ جنگ کی 24 فروری 1993 کی اشاعتِ خاص میں لکھا تھا۔

ڈاکٹر فاروق حسن لکھتے ہیں کہ ’آٹھویں ترمیم کا مسودہ ابتدائی طور پر صدارتی حکم نمبر 14 برائے 1985 میں درج ہے، راقم الحروف (فاروق حسن) کو اس وقت جنرل ضیا الحق نے مشورے کے لیے امریکہ سے اسلام آباد بلایا تھا، انھوں نے مجھے مارشل لا کا تحریر شدہ ضابطہ دکھایا، میرے استفسار پر کہ مذکورہ تحریر تو درحقیقت نظام کی تبدیلی کے مترادف ہے، مرحوم ضیا الحق نے فرمایا کہ ’میرا یہی خیال تھا‘۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’پھر جنرل ضیا الحق نے کہا کہ ’میں نے بڑی مشکل سے اپنے سینے پر پارلیمانی طرز حکومت کا پتھر رکھا ہوا ہے، لوگ اس کے نام پر جاتے ہیں، میں بھی انھیں یہ نام دے دوں گا، میں ایسا وزیر اعظم چاہتا ہوں جو میرے چھڑی ہلانے سے لائن حاضر ہو جائے۔‘

سنہ 1993 میں لکھے گئے اسی مضمون میں ڈاکٹر فاروق حسن نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ’صدر ضیا الحق نے مجھے بتایا کہ آٹھویں ترمیم کا مشورہ انھیں سری لنکا کے صدر جے وردھنے نے دیا تھا۔‘

پاکستان کی سیاسی تاریخ روز اول سے اُتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی وفات کے بعد خواجہ ناظم الدین اور پھر غلام محمد گورنر جنرل بنے، لیکن جب آئین کی تشکیل ہوئی تو عوام کی اکثریت نے پارلیمانی نظام کو ہی پاکستان کے لیے پسند کیا۔

سنہ 1956 کا آئین مکمل طور پر پارلیمانی آئین تھا جس میں صدر مملکت اور وزیر اعظم کے اختیارات میں خاصی حد تک توازن پیدا کیا گیا تھا۔ جنرل یحییٰ خان کے اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی رہنماؤں نے سنہ 1956 کے اسی آئین کی بحالی کا مطالبہ کیا لیکن سنہ 1970 کے عام انتخابات کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مغربی حصے میں قائم ہونے والی حکومت کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو نے سنہ 1956 کے دستور میں حاصل اختیارات کو اپنے لیے ناکافی سمجھا۔

یہی وجہ تھی کہ انھوں نے ایک ایسا آئین بنوایا جس کے نفاذ کے بعد ’صدر فضل الہٰی کو رہا کرو‘ کے نعرے بھی لگائے گئے اور انھی کے دور میں صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن کی بات کی جانے لگی۔

آئین میں ’سیفٹی والو‘ کی ضرورت

سنہ 1977 کے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان قومی اتحاد کے نام سے اکٹھی نو جماعتی اپوزیشن نے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تو بتدریج حالات کنٹرول سے باہر ہو گئے لیکن وزیر اعظم نہ تو نئے انتخابات کے لیے تیار ہوئے، نہ ہی خود مستعفی ہونے پر تیار ہوئے۔ بدامنی اور خون خرابہ انتہا کو پہنچا جس کو جواز بنا کر مسلح افواج نے مداخلت کی۔

اس موقع پر بعض ماہرین کی یہ رائے تھی کہ اگر صدر مملکت کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے یا وزیر اعظم کو رخصت کرنے کا کوئی اختیار ہوتا تو آئین سے ماورا ایسے اقدام سے بچا جا سکتا تھا۔ ایسے کسی اختیار کو آئینی ماہرین نے ’سیفٹی والو‘ کا نام دیا۔

فروری 1985 کے عام انتخابات کے بعد منتخب ہو کر آنے والی پارلیمنٹ کو اقتدار منتقل کرنے سے بہت پہلے ہی جنرل ضیا الحق نے اشارہ دے دیا تھا کہ وہ آئین میں بڑے پیمانے پر ترامیم کریں گے جن میں وہ اپنی سوچ اور عزائم کے مطابق صدر مملکت اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن پیدا کریں گے۔

صدر ضیا الحق کی سوچ یہ تھی کہ وہ مستقبل کے وزیر اعظم کو صدر مملکت کے ہاتھوں میں اس انداز میں یرغمال بنا دیں گے کہ وہ صدر مملکت کی خوشنودی کو اپنی کابینہ بلکہ پارلیمنٹ سے بھی بڑھ کر مقدم رکھے۔

دوسری جانب وہ مسلح افواج کے لیے کاروبار مملکت میں آئینی کردار متعین کرنے کے لیے ذہن بنا چکے تھے کہ انھیں کیا کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے آئین کی بحالی کے حکم یعنی آر سی او کو استعمال کر کے سنہ 1973 کے آئین سے چھیڑخانی کی۔

اس میں سب سے بڑے دو عوامل نمایاں ہوئے: پہلا صدر مملکت کا قومی اسمبلی توڑنے کا صوابدیدی اختیار اور دوسرا تینوں مسلح افواج کی نمائندگی کے ساتھ نیشنل سکیورٹی کونسل کا قیام۔

جنرل ضیا الحق کو اپنے ان عزائم کو پورا کرنے کے لیے پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت درکار تھی اور آٹھ سال تک جنرل ضیا الحق کے وعدوں اور ان پر عملدرآمد کے تناسب کا حساب رکھنے والے سیاست کار بھی ہوشیار ہو چکے تھے کہ جنرل ضیا الحق کو قابو میں لانا آسان نہ تھا۔

جنرل ضیا الحق نے حتمی اعلان کیسے کیا؟
12 اگست 1983 کو جنرل ضیا الحق نے مجلس شوریٰ سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 31 مارچ 1985 تک عام انتخابات منعقد کروا دیے جائیں گے، یہ انتخابات حسب پروگرام قومی اسمبلی کے لیے 25 فروری اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے 28 فروری کو منعقد ہوئے۔

عام انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد جنرل ضیا الحق نے دو مارچ 1985 کو آئین کی بحالی کا حکم یعنی ریوائیول آف کانسٹیٹیوشن آرڈر جاری کیا، جسے آر سی او یا ’صدارتی حکم نمبر 14‘ کہتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے اس وقت کے قائد حاجی محمد سیف اللہ خان کے ساتھ آٹھویں آئینی ترمیم پر اس تحریر کے مصنف (ظفر ملک) کا طویل انٹرویو ہے جو ان کی زندگی میں لیا گیا۔

اُس انٹرویو میں حاجی سیف اللہ نے بتایا تھا کہ ’آر سی او کے ذریعے جنرل ضیا الحق نے 1973 کے آئین کا پورا ڈھانچہ تبدیل کر دیا۔ ان کے اس ایک حکم سے پاکستان کے آئین کی روح پارلیمانی کے بجائے صدارتی شکل اختیار کر گئی۔‘

حاجی سیف اللہ نے بتایا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ آر سی او کا نفاذ اس قوم کے لیے ایک سانحے سے کم نہ تھا کیونکہ اگر جنرل صاحب کا ارادہ اسی طریقے سے آئین کی ترمیم کرنے کا تھا تو ان کے لیے لازم تھا کہ وہ انتخابات سے قبل اس کا اظہار کرتے تاکہ عوام اور ان کے نمائندے سوچ سکتے کہ اس صورتحال میں وہ انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں کہ نہیں، مگر عام انتخابات کے فوری بعد انھوں نے آر سی او کے ذریعے آئین کو پارلیمانی سے تبدیل کر کے صدارتی شکل دے دی۔‘

قائد حزب اختلاف حاجی سیف اللہ کی رائے تھی ’آئین میں وزیر اعظم کی حیثیت صدر مملکت کے ایک مشیر کی سی تھی اور ان کا نامزد کردہ قرار دے دیا گیا اور یہ صدر کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ وزیر اعظم کا مشورہ تسلیم کرے یا نہ کرے، اسی طرح صوبوں میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت گورنر کے مشیر کی سی رکھی گئی تھی۔‘

آئین توڑ تو سکتے ہیں ترمیم نہیں کر سکتے؟

آر سی او کے تحت آئین میں ترمیم کے لیے جنرل ضیا الحق نے جو طریقہ تجویز کیا تھا اس کے لیے ضروری تھا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی دو تہائی اکثریت اور چاروں صوبائی اسمبلیاں ترمیم پر اتفاق کریں اور اگر کوئی ایک صوبائی اسمبلی بھی اس ترمیم کو مسترد کر دے تو وہ کالعدم تصور ہو گی یعنی کسی بھی ایک صوبائی اسمبلی کو آئین میں ترمیم کے خلاف ویٹو کا اختیار حاصل تھا۔

آئینی ترمیم کے اس طریق کار کے بارے میں حاجی سیف اللہ کی رائے تھی کہ ’اس طرح آئین توڑنے کی ہی گنجائش رہ جاتی ہے اس میں ترمیم تو نہیں کی جا سکتی۔‘

ہر ایم این اے کے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ دس ہزار روپے

قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس سے قبل جبکہ نو منتخب ارکان نے حلف بھی نہیں اٹھایا تھا، ارکان قومی اسمبلی کو وزارت خزانہ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا جس میں ان کو اطلاع دی گئی تھی کہ اُن کے ذاتی اکاؤنٹ میں ایک لاکھ دس ہزار روپے بھجوا دیے گئے ہیں جسے وہ اپنی صوابدید پر پانچ ہزار روپے فی کس کے حساب سے کسی کو بھی قرض حسنہ کے طور پر دے سکتے ہیں۔

ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کر دی گئی تھی کہ یہ ایک ایسا قرضہ نہیں ہے جو قابل وصول ہو بلکہ ناقابل واپسی قرضہ ہے اور واپس نہ کرنے پر کوئی باز پرس نہیں ہو گی۔ حاجی سیف اللہ کہتے ہیں کہ اس کا مقصد ارکان اسمبلی کی زبان بند کرنا تھا کیونکہ آر سی او اسمبلی میں زیر بحث آنے سے قبل ہی یہ انتظام کیا گیا تھا۔

آٹھویں آئینی ترمیم کا بل بغیر ایجنڈے کے پیش کیا گیا

قومی اسمبلی کا تیسرا اجلاس آٹھ ستمبر 1985 کی شام طلب کیا گیا، جس کا کوئی ایجنڈا اجلاس سے قبل جاری نہیں کیا گیا۔ وقفہ سوالات اور تحاریک نمٹا دی گئیں لیکن ایجنڈے کا کہیں کوئی وجود نہ تھا، نماز مغرب کا وقفہ ہو گیا اور اس کے فوری بعد اجلاس شروع ہوتے ہی وفاقی وزیر قانون اقبال احمد خان کھڑے ہوئے اور آئین میں آٹھویں ترمیم کا بل پیش کرنے کی تحریک پیش کر دی، جس کے ساتھ ہی انھوں نے قواعد کی معطلی کی تحریکیں بھی پیش کر دیں تاکہ ترمیمی بل فوری طور پر زیربحث لایا جا سکے۔

اپوزیشن کی طرف سے اعتراض اٹھایا گیا کہ بل کی کاپیاں تقسیم کیے بغیر کیسے ایوان میں کارروائی شروع کر دی گئی کیونکہ یہ پارلیمانی روایات کی صریح خلاف ورزی تھی۔ حاجی سیف اللہ نے بتایا کہ اس بل کا لب لباب یہ تھا کہ ’پانچ جولائی 1977 سے لے کر اس تاریخ تک جو اقدامات مارشل لا کی جانب سے ہوئے ان سب کی ہم توثیق کرتے ہیں اور جب تک مارشل لا اٹھایا نہ جائے، جس کی کہ کوئی تاریخ نہیں تھی، اس وقت تک بھی مارشل لا کے تحت جو کچھ ہوتا رہے گا ہم اس کی بھی توثیق کرتے ہیں۔‘

حاجی سیف اللہ خان نے پے در پے نکات اٹھا کر وہ بل اس روز پیش ہی نہ ہونے دیا حالانکہ اجلاس رات 11 بجے تک جاری رہا۔

دوسری صبح انھوں نے بل رائے عامہ کے لیے مشتہر کرنے کی تحریک پیش کر دی۔ آئینی اور قانونی نکات پر مشتمل ان کی رکاوٹیں اتنی کارگر ثابت ہوئیں کہ حکومت نے اجلاس 20 دن کے لیے ملتوی کر دیا۔

اس وقفے کے دوران حکومت کی طرف سے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ بل پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے، اس وقت تک حکومتی پارٹی او پی جی (آفیشل پارلیمانی گروپ) اور اپوزیشن آئی پی جی (انڈیپینڈینٹ پارلیمانی گروپ) کہلاتی تھیں۔

مشترکہ کمیٹی میں حکومت کی طرف سے خواجہ محمد صفدر، میاں یٰسین وٹو، اقبال احمد خان، بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد اصغر، یونس الٰہی سیٹھی، اور عبدالحمید جتوئی تھے جبکہ آزاد پارلیمانی گروپ کی طرف سے حاجی سیف اللہ خان، ڈاکٹر شیرافگن، نصرت علی شاہ، سید اسعد گیلانی، لیاقت بلوچ اور ڈاکٹر شفیق چوہدری شامل تھے۔ کمیٹی میں صدر مملکت کی نمائندگی اٹارنی جنرل عزیز اے منشی کر رہے تھے۔

یہاں ذرا رک کر دوسری جانب یعنی حکومت اور وزیر قانون کا مؤقف بھی جان لیتے ہیں کہ یہ سارا پلان کیسے بنا اور آٹھویں ترمیم کا اصل مسودہ جو ایوان میں پیش ہوا وہ کہاں سے آیا۔اس حوالے سے اس وقت کے وزیر قانون اقبال احمد خان سے تفصیلی گفتگو کے صرف متعلقہ حصے یہاں منقول کیے جا رہے ہیں تاکہ معاملے کے دوسرے پہلو کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔

آٹھویں ترمیم کیوں ضروری تھی؟
جونیجو حکومت کے وزیر قانون اقبال احمد خان کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں یہی قانون ہے کہ آئین سے بالاتر اقدامات اگر ایک دفعہ کر لیے جائیں تو پھر بعد میں ان کو تحفظ دینے کے لیے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کی جاتی ہے۔

اسی طرح جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کو بھی ’انڈیمنٹی‘ یعنی تحفظ دینا ضروری تھا کیونکہ اس کے بغیر مارشل لا ختم نہیں ہو سکتا تھا۔ ’ہماری سب سے پہلی ترجیح یہ تھی کہ جلد از جلد مارشل لا کے دور کو تحفظ دے دیں تا کہ اس کے خاتمے کی راہ ہموار کر کے آئین مکمل طور پر بحال کیا جائے۔‘

’یہی وجہ ہے کہ پہلا مسودہ جو میں نے ایوان میں پیش کیا اس میں کم و بیش صرف مارشل لا کے اقدامات کے تحفظ کی شقیں ہی شامل تھی لیکن اس وقت کی اپوزیشن آزاد پارلیمانی گروپ کی رائے یہ تھی کہ اس مرحلے پر آئین میں کچھ اور ترامیم بھی کر لی جائیں، اس میں ان ترامیم کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی جنھیں آر سی او یعنی آئین کی بحالی کے حکم کے ذریعے آئین کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔‘

’ان میں خاص طور پر صدر کے اختیارات پر ان کی توجہ تھی کہ صدر جب چاہیں وزیر اعظم کو فارغ کر دیں اور اسمبلی توڑنے کا اختیار بھی صدر کو دے دیا گیا تھا، ہمارا خیال تھا کہ ان شقوں کو ہم فوری تبدیل کر لیں، باقی بعد میں دیکھا جائے گا۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ آٹھ ستمبر 1985 کو آئینی ترمیم کا جو مسودہ آپ نے ایوان میں پیش کیا، وہ آپ کو کہاں سے ملا؟ اقبال احمد خان نے جواب دیا کہ ’یہ مسودہ مجھے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے دیا تھا، آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو کہاں سے ملا ہو گا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آٹھویں ترمیم کا جو مسودہ حتمی طور پر ایوان میں پیش ہو کر منظور ہوا وہ کس نے تیار کیا تھا تو اقبال احمد خان نے جواب دیا کہ وزارت قانون کے ڈرافٹسمین مسودہ تیار کرتے ہیں جو وزیر قانون ایوان میں پیش کرتے ہیں، اس طرح میں نے جو حتمی مسودہ پیش کیا تھا اور وہ منظور کیا گیا تھا اسے وزارت قانون کے ڈرافٹسمین میر محمد علی نے تیار کیا تھا۔

قائد حزب اختلاف کی جنرل ضیا الحق سے ملاقات
حاجی سیف اللہ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کمیٹی میں بل کے مسودے پر غور جاری تھا کہ ’ایک شام مجھے آرمی ہاؤس سے ٹیلی فون موصول ہوا کہ صدر ضیا الحق رات آٹھ بجے ملنا چاہتے ہیں، میں نے اپنے گروپ کے دوستوں سے مشورہ کیا، سب نے ملاقات کرنے کا مشورہ دیا، جنرل ضیا الحق سے میں راولپنڈی کے آرمی ہاؤس میں ملا، ان کے ساتھ جنرل رفاقت بھی موجود تھے۔‘

’سینٹر ٹیبل پر بہت سے کتابیں پڑی تھیِں، میرے جاتے ہی جنرل ضیا الحق نے سوال کیا کہ آپ لوگ آٹھویں آئینی ترمیم کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ جبکہ دنیا کے تمام جمہوری ملکوں میں یہی طریقہ رائج ہے کہ جو میں نے آر سی او کے ذریعے نافذ کیا ہے۔‘

’میں نے صدر ضیا الحق سے کہا کہ وہ اپنے مشیروں کو بلا لیں تا کہ کھل کر بات ہو سکے، مجھے ایسے مناسب نہیں لگتا کہ میں صدر مملکت سے بحث کروں لیکن صدر ضیا الحق نے مجھے بات کرنے کے لیے کہا اور اس پر اصرار کیا۔‘

جنرل ضیا الحق نے انڈیا کا آئین پڑھنا شروع کر دیا
حاجی سیف اللہ نے کہا کہ انھوں نے جنرل ضیا الحق سے کہا کہ آپ نے سنہ 1973 کے پورے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور پارلیمانی نظام کو ختم کر کے صدارتی نطام نافذ کرنے کی کوشش کی ہے جو کسی صورت قوم کے لیے قابل قبول نہیں۔

’اس پر جنرل ضیا الحق نے میز پر رکھا انڈیا کا آئین اٹھا کر پیرے پڑھنے شروع کر دیے اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انھوں نے انڈیا کے آئین کے مطابق پاکستان کے آئین میں ترامیم کی ہیں، لیکن انھیں میں نے بتایا کہ انڈیا کے آئین میں آرٹیکل 74 بالکل واضح ہے جس کے تحت تمام اختیارات کابینہ کے پاس ہیں اور صدر مملکت اپنے فرائض منصبی کابینہ کے مشورے سے ہی انجام دے سکتے ہیں، اس پر انھوں نے انڈیا کا آئین واپس رکھ دیا۔‘

انڈیا کا آئین میز پر رکھنے کے بعد جنرل ضیا الحق نے دو ٹوک الفاظ میں کہا، میں دو امور پر ہرگز مصالحت کے لیے تیار نہیں، ایک اسمبلی توڑنے کا غیر مشروط اختیار اور دوسرا قومی سلامتی کونسل کا قیام۔

میں نے بھی جواباً واضح انداز میں ان کو بتایا کہ ’ہم لوگ کسی قیمت پر صدر مملکت کو اسمبلی توڑنے کا اختیار دینے پر تیار نہیں ہیں کیونکہ پارلیمانی نظام میں یہ اختیار صرف وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے۔ جنرل ضیا الحق نے کہا کہ آپ لوگ مزید سوچیں اور پھر اس بارے میں غور کیا جائے گا۔‘

قومی اسمبلی کا اجلاس جو ملتوی کیا جا چکا تھا 20 دن کے وقفے کے بعد 16 اکتوبر کو دوبارہ شروع ہوا جس میں حکومت نے پہلا آئینی مسودہ واپس لے کر ایک دوسرا مسودہ ایوان میں پیش کر دیا لیکن تشویش کی بات یہ تھی کہ متنازع دفعات دوسرے بل میں بھی شامل تھیں، جو کہ معاہدے کی سراسر خلاف ورزی تھی۔

عام بحث کے بعد شق وار بحث شروع ہوئی اور اسمبلی توڑنے تک کی شقیں حکومت منظور کرواتی چلی گئی۔
جنرل ضیا الحق نے کیا دھمکی دی؟
’صدر کو اسمبلی توڑنے کا اختیار دینے کی شق پیش ہوتے ہی ہم نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا، یہ شام کا وقت تھا۔ اسی اثنا میں اٹارنی جنرل اور ڈاکٹر محبوب الحق جنرل ضیا کا پیغام لے کر آئے۔ جنرل ضیا الحق کا کہنا تھا کہ آٹھویں ترمیم کا بل آج رات منظور نہ ہوا تو پھر نتائج کی ذمہ داری آپ لوگوں پر ہو گی پھر اس کا ذمہ دار میں نہیں ہوں گا۔‘

حاجی سیف اللہ نے کہا کہ ’ہم لوگ بدستور اپنے مطالبے پر قائم رہے اور دھمکی کی پرواہ نہیں کی۔ رات تین بجے تک معاملہ چلتا رہا، تین بجے جنرل ضیا الحق رضامند ہوئے کہ اسمبلی توڑنے کا اختیار صوابدیدی نہیں ہوگا بلکہ 48 (2) کے تحت حاصل اختیار پر عدلیہ کو مکمل اختیار ہوگا کہ وہ اس اقدام پر اپنا فیصلہ صادر کر سکے۔ اس کے لیے انھیں آمادہ کیا گیا کہ آئین میں یہ جملہ لکھ دیا جائے کہ ‘اگر حکومت کے لیے آئین کے تابع کام چلانا ممکن ہی نہ رہے۔‘

یہ بات بھی آرٹیکل 270 الف میں لکھ دی گئی کہ 30 ستمبر 1985 کے بعد مارشل لا کا کوئی ضابطہ سوائے مارشل لا اٹھانے کے جاری نہیں ہو گا، اس طرح عملی طور پر مارشل لا ہم نے اس رات ختم کر دیا۔

اس رات پونے چار بجے آٹھویں آئینی ترمیم کا بل منظور ہوا اور اس کے ساتھ یہ شرط بھی طے کی گئی کہ بل منظور ہونے کے اگلے روز صدر مملکت قومی اسمبلی سے خطاب کریں گے اور مارشل لا کے خاتمے کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔

یہ تحریری معاہدہ تھا جو آزاد پارلیمانی گروپ اور جنرل صاحب کی ٹیم اٹارنی جنرل عزیز اے منشی، ڈاکٹر محبوب الحق اور خاقان عباسی کے درمیان طے پایا۔

صدر ضیا الحق نے وعدہ خلافی کر دی
اگلی صبح یعنی 17 اکتوبر کو صدر جنرل ضیا الحق نے ایوان سے خطاب کیا، پورے خطاب میں وہ مارشل لا کی تعریف کرتے رہے لیکن مارشل لا اٹھانے کی تاریخ کا کہیں ذکر نہیں تھا، جس پر ڈاکٹر محبوب الحق اپنی نشست سے اٹھے اور ایک چٹ لکھ کر وزیر اعظم جونیجو کو دی، وزیر اعظم نے اس چٹ پر دستخط کیے اور تقریر کے دوران ہی ڈاکٹر محبوب الحق نے وہ چٹ جنرل ضیا الحق کے سامنے رکھ دی۔

جنرل ضیاء الحق نے چٹ پڑھی اور شیروانی کی سامنے والی جیب میں رکھ لی اور تھوڑی دیر میں تقریر ختم کر کے چلے گئے۔ یہ صورتحال پریشان کن تھی، ڈاکٹر محبوب الحق کو تلاش کیا گیا تو وہ بھی غائب ہو چکے تھے۔

سیف اللہ خان بتاتے ہیں کہ اسی شام مولانا معین الدین لکھوی کی جنرل ضیا الحق سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے میری پریشانی سے ان کو آگاہ کیا، بقول ان کے جنرل ضیا الحق نے کہا کہ میں اپنے وعدے پر قائم ہوں کہ 31 دسمبر 1985 سے قبل مارشل لا اٹھا لوں گا لیکن کوئی مجبوری تھی جس کی وجہ سے اعلان نہیں کر سکا۔

آٹھویں آئینی ترمیم کے تحت ہی بینظیر بھٹو کی حکومت کو فارغ کیا گیا

ڈاکٹر محبوب الحق کا استعفیٰ
حاجی سیف اللہ کہتے ہیں کہ ’دوسری صبح آٹھ بجے میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی، ڈاکٹر محبوب الحق سامنے کھڑے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ سے ازحد شرمندہ ہوں کیونکہ میں نے جنرل ضیا کی طرف سے آپ لوگوں سے معاہدہ کیا تھا لیکن میری یاد دہانی کے باوجود وہ چٹ جیب میں ڈال کر چلے گئے۔ اس لیے گذشتہ رات میں نے اپنا استعفیٰ انھیں بھجوا دیا، اس کے بعد صدر مملکت نے مجھے بلایا اور کچھ مجبوریاں بیان کرنے کے بعد مارشل لا کے خاتمے کا آرڈر ٹائپ کروا کے میرے حوالے کر دیا۔ میں نے ڈاکٹر محبوب الحق سے وہ حکمنامہ لے کے پڑھا اس پر مارشل اٹھانے کی تاریخ 25 دسمبر 1985 لکھی تھی اور اس پر جنرل ضیا الحق کے دستخط تھے۔‘

وزیر قانون اقبال احمد خان مصر تھے کہ آر سی او ایک مجبوری تھی جس کے بغیر مارشل لا کا خاتمہ ممکن نہیں تھا اور آر سی او کے ذریعے 1973 کے آئین میں صدارتی اختیارات کو بڑھانے کے لیے جو چھیڑخانی کی گئی، جو بعد ازاں جو 58 (2) بی شکل میں آئین کا حصہ بن گئی، اس کے باوجود یہ آئین پارلیمانی ہی ہے اور 58 (2) بی کی موجودگی کے باوجود پارلیمنٹ ہی بالادست ہے۔

اور یہ سب اس لیے کہ پارلیمنٹ میں قائد ایوان وزیر اعظم کے اختیارات کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا جبکہ صدر کے اختیار کے استعمال کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور پھر پارلیمانی نظام کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ مقتدر ہو اور جب آئین میں ترمیم کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے تو اس نظام کو پارلیمانی ہی کہا جائے گا کیونکہ جب چاہے پارلیمنٹ آئینی طریق کار کے مطابق صدر کے اختیارات میں ترمیم کر سکتی ہے۔

آزاد پارلیمانی گروپ کے رہنماؤں نے کوئی ڈیل کر لی تھی؟
آٹھویں آئینی ترمیم کی پارلیمنٹ میں ڈٹ کر مخالفت کرنے والے اور صدر ضیا الحق کو بے پناہ اختیارات کے حصول کے عزائم کو ناکام بنانے والے آزاد پارلیمانی گروپ میں ممتاز تارڑ ایک متحرک رکن تھے جنھوں نے تیسری خواندگی تک آٹھویں ترمیم میں دییے جانے صدارتی اختیارات کی مخالفت کی۔

حالیہ گفتگو میں ممتاز تارڑ نے بتایا کہ میری رائے ہے کہ آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کو دیے جانے والے اختیارات سے آئین پاکستان کی روح کو پامال کر دیا گیا، بلکہ اسے پارلیمانی سے صدارتی نظام میں تبدیل کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں بعد میں آنے والی کسی بھی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع نہ مل سکا اور ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت پروان نہ چڑھ سکی۔

ممتاز تارڑ کا کہنا ہے کہ آزاد پارلیمانی گروپ نے اس ترمیم کی حمایت کیوں کی تھی مجھے آج تک اس کی سمجھ نہیں آئی، مجھے لگتا ہے کہ کوئی ڈیل کر لی گئی تھی جس میں میں شامل نہیں تھا لیکن میرے پاس اس ڈیل کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے۔

ممتاز تارڑ کہتے ہیں کہ میں خلوص دل سے قائل تھا اور ابھی تک ہوں کہ صدر کو دیے گئے اختیارات سے جمہوری نظام کو نقصان ہوا اس لیے میں نے اس کی بھر پور مخالفت میں ایوان میں تقریر کی اور ووٹنگ کے وقت خاموشی سے ایوان سے باہر چلا گیا۔ آپ اس کو واک آؤٹ نہیں کہہ سکتے کیونکہ میں اعلان کر کے اپنے ساتھیوں کے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن میں نے ترمیمی بل کی منظوری کے عمل سے خود کو الگ کر لیا اور میری رائے میں اس وقت یہی مناسب تھا۔

17 اکتوبر 1985 کی رات پونے چار بجے منظور ہونے والے آٹھویں آئینی ترمیم بل نے ایک آسیب کی طرح سے پاکستان میں جمہوری عمل کا پیچھا کیا اور بار بار اس میں رخنہ پیدا کیا۔

آرٹیکل 58(2) بی کا پہلا شکار خود جونیجو حکومت

29 مئی 1988 کو صدر ضیا الحق نے اسی آئینی اختیار کے تحت محمد خان جونجیو کی حکومت برطرف کر دی، حاجی محمد سیف اللہ خان نے اسے چیلنج کر دیا، گو کہ اس کا فیصلہ جنرل ضیا الحق کی 17 اگست طیارے کے حادثے میں موت کے بعد آیا لیکن چیف جسٹس محمد حلیم کی قیادت میں سپریم کورٹ نے جونیجو کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیا۔ لیکن چونکہ انتخابی عمل شروع ہو چکا تھا اس لیے مقتدر قوت کی خواہش پر حکومت بحال نہیں کی گئی۔

چھ اگست 1990 کو صدر غلام اسحاق خان نے اسی آرٹیکل کے تحت بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی، جسٹس افضل ظلہ کی قیادت میں سپریم کورٹ نے ان کے فیصلے کو درست قرار دیا۔

18 اگست 1993 کو ایک بار پھر صدر غلام اسحاق خان نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے نواز شریف حکومت کو برطرف کیا لیکن اس بار سپریم کورٹ نے نہ صرف فیصلہ غیر آئینی قرار دیا بلکہ حکومت بحال کر دی۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے اختلافی نوٹ لکھا کہ سندھی وزیر اعظم کو ریلیف نہیں ملا لیکن پنجابی وزیر اعظم کو ریلیف دیا جا ریا ہے۔

پانچ نومبر 1996 صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا اور انھی جسٹس سجاد علی شاہ نے اس فیصلے کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔

آرٹیکل 58(2) بی کی 1973 کے آئین میں آنیاں اور جانیاں
ایک بار آرٹیکل 58(2) بی سے ڈسے جانے کے بعد محمد نواز شریف نے اپریل 1997 میں 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کے صوابدیدی اختیار کو ختم کر دیا، اس وقت صدر مملکت فاروق لغاری اور آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت تھے۔

اپریل 2010 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں جب آصف علی زرداری صدر مملکت اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے تو آئین میں 18ویں ترمیم کے ذریعے وزیر اعظم کے 1973 کے آئین میں حاصل اختیارات بحال کر دیے گئے اور 58(2) بی کو ختم کر دیا۔

اختیار کی لڑائی اب بھی جاری ہے؟

جنگ گروپ سے وابستہ سینیئر صحافی افتخار احمد کا کہنا ہے کہ 1973 کے آئین میں ذوالفقار علی بھٹو نے جو اختیارات سمیٹنے کی کوشش کی تھی وہ دراصل ایک ایسے سیاستدان کی سوچ تھی جو کسی بھی طریقے سے سیاسی نظام اور معاملات حکومت کو عسکری اداروں کی مداخلت سے دور رکھنے کا خواہشمند تھا۔

سنہ 1972 میں بطور صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے فیڈرل سکیورٹی فورس نامی ادارہ قائم کیا جس کو وفاق کی پولیس کہہ سکتے تھے۔ اس کے پیچے اصل محرک یہی تھا کہ جہاں وفاق کا دخل ضروری ہو وہاں فوج کے بجائے ایف ایس ایف کو استعمال کیا جائے، یہ فورس مسلح تھی اور اس کی تنظیم بڑے پیمانے پر کی جا رہی تھی لیکن اس سے فرق تو صرف ایک ہی ادارے کو پڑ سکتا تھا اور انھوں نے یہ آئیڈیا پروان نہیں چڑھنے دیا۔

ایف ایس ایف کے قیام سے بھٹو نے سول اداروں کی مدد کا اختیار ایک سول ادارے کو دینے کی کوشش کی جس میں انھیں کامیاب نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ یہ دراصل اختیار کی لڑائی تھی۔

افتخار احمد کہتے ہیں کہ جولائی 1977 میں سیاست جو رُخ اختیار کر چکی تھی کہ وزیر اعظم دوبارہ انتخابات پر راضی نہیں تھے اور اپوزیشن تحریک ختم کرنے کو تیار نہیں تھی تو نتیجہ کیا ہوا؟ مارشل لا کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ اگر ادارے چاہ رہے ہوں کہ خون خرابے سے بچنے کے لیے وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیں تو وہ ایک چھوٹی قربانی ہے، بجائے اس کے کہ پورا نظام ہی لپیٹ دیا جائے اور اس مقصد کے لیے جنرل ضیا الحق نے جو راستہ نکالا وہ بہت مناسب تھا لیکن اس کو قائم نہیں رہنے دیا گیا اور آج کے حالات میں پھر اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

اگر کسی مرحلے پر ادارے یہ سمجھیں کہ اب حکومت کو چلے جانا چاہیے اور وزیر اعظم انکار کر دیں تو سوائے فوجی مداخلت کے پھر کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟

دی نیوز اور دی نیشن کے سابق ایڈیٹر سینیئر صحافی سلیم بخاری افتخار کی رائے کے بالکل برعکس مؤقف رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں صدر مملکت یا ہیڈ آف سٹیٹ کا منصب صرف علامتی ہوتا ہے، اس کے لیے سب سے اچھی مثال ملکہ برطانیہ کی ہے۔

سلیم بخاری کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کے آئین کو بنانے کے ساتھ جو بڑا کارنامہ انجام دیا تھا وہ اتفاق رائے تھا جو اس آئین کو قابل قبول بنانے کے لیے پیدا کیا گیا، اپنے بدترین سیاسی مخالفین کو بھی بھٹو نے اس پر دستخط کرنے کے لیے آمادہ کیا، اور انھوں نے پارلیمانی جمہوریت کی روح کے مطابق وزیر اعظم کو اس میں بااختیار بنایا لیکن جنرل ضیا الحق نے شب خون مارا، اور آر سی او کے ذریعے آئین کے اندر صدارتی اختیارات کی بھرمار کر دی، اسمبلیاں توڑنے کا اختیار اپنی جیب میں رکھ لیا، اس طرح جنرل ضیا نے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا۔

ظفر ملک آٹھویں آئینی ترمیم پر لکھی گئی کتاب:’آٹھویں ترمیم، مارشل لا کا تاوان‘ کے مصنف ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں