نظرقلم/نعیم مسعود

کشمیرفاؤنڈیشن_ڈےاورنئےچیلنجز!

کشمیر، ایک دو زخم کا معاملہ نہیں پورا جسم ہی چھلنی ہے اور درد بےچارہ پریشاں کہ کہاں سے اٹھے؟ کشمیریت علمیت کے باب سے شروع ہوکر جب عملیت کے در تک پہنچتی ہے تو اُس بین الاقوامیت پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے جس نے انسانی حقوق کو پرکھا اور چاہا ہی نہیں چاہنے والوں کی طرح!لمحہ بھر کیلئے سوچا کہ میں بات کرسٹوفر سنیڈن سے شروع کروں جسے اس نے ’’ دی انٹولڈ سٹوری آف دی پیپل آف آزاد کشمیر ‘‘ میں ایک بڑی کہانی کہہ دی، پھر تھوڑی دیر کیلئے منٹو کے افسانے ’’ٹیٹوال کا کتا‘‘ کی طرف بھی دھیان گیا۔ مگر دل مانا نہیںکہ 24اکتوبر 1947 کے حوالے سے انہی لوگوں میں پھنسا رہوں اور انہی کے حوالوں سے کشمیر فاؤنڈیشن ڈے کی بات کردوں۔ بلاشبہ نوجوانوں کو کرسٹوفر سنیڈن کی متذکرہ کتاب کے علاوہ ’’انڈرسٹینڈنگ کشمیر اینڈ کشمیریز‘‘ کا بھی لازمی مطالعہ کرنا چاہیے۔

کشمیر کے یوم تاسیس پر وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان سے یونیورسٹی آف آزاد جموں کشمیر مظفرآباد میں ملاقات ہوئی تو ان کے پچھلے دنوں کی بازگشت اپنے آس پاس سے محسوس ہونے لگی کہ کشمیر کے حوالے سے جارحانہ رویہ اپنائے بغیر اب آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔اس بات کو پورے پاکستان اور لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب ایک توانا اور غیر متنازع موقف گردانا گیا کیونکہ بھارت نے اپنے بظاہر بچے کھچے سیکولرازم کو بھی تار تار کردیا، یہی نہیں وہ جو دعویٰ کرتا ہے کہ روئے زمین پر وہ سب سے بڑی جمہوریت ہے یہ دعویٰ بھی اس وقت پیوند خاک ہوا جب 5 اگست 2019 کو انڈیا کی حکومت نے جموں و کشمیر ریاست کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 اور 35-اے کو ختم کر کے ریاست کو دو ‘یونین ٹیریٹری جموں کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا۔ اس پر مسلمان ممالک کی سرد مہری اور عالمی برادری کی بہت حد خاموشی نے ثابت کردیا کہ ’’ اپنے اپنے انسان یہاں اور اپنے اپنے حقوق ہیں!‘‘

یوم تاسیس کی تقریب میں جامعہ آزاد جموںکشمیر میں وزیراعظم فاروق حیدر اور وائس چانسلر ڈاکٹر کلیم عباسی کی موجودگی دل سے آنسوؤں کے سنگ ایک دفعہ پھر یہ بات زباں پر آئی کہ میں نے آزاد کشمیر کو اپنی آنکھوں سے دو دفعہ غم میں نڈھال دیکھا، ایک دفعہ 2005 ء کے زلزلہ میں اور دوسری دفعہ بھارتی آئین کی شقوں 370 اور 35(اے) کے سبوتاژ کرنے پر، لوگ مضطرب کیوں نہ ہوں آزاد کشمیر کا دل گر مظفرآباد اور وادیٔ نیلم یا وادیٔ لیپا میں ہو تو دھڑکن سری نگر میں ہوتی ہے۔

لائن آف کنٹرول وہ ننگی تلوار ہے جو اِدھر اور اُدھر کے لوگوں کے درمیان میں پڑے ہوئے دل کے وسط پر گڑی ہے۔اقوام عالم کو یہ کیوں دکھائی نہیں دیتا کہ دو جوہری توانائی کے حامل ملکوں کے درمیان کشمیر ایک فلش پوائنٹ ہے۔ صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں پورے عالم کا امن اس آتش فشاں کے دہانے پر ہے۔ مشرقی تیمور اگر 2002میں انڈونیشیا سے اور جنوبی سوڈان 2011میں سوڈان سے اقوام متحدہ کی مداخلت اور بذریعہ استصواب رائے خود مختاری حاصل کرسکتے ہیں تو کشمیر کی جدوجہد ان سے کم قربانیوں اور کم جدوجہد والی ہرگز نہیں۔کیا فرق صرف مسلم اور غیر مسلم کا ہے؟؟

کشمیریت کے تناظر میں استصواب رائے کی سچائی و گہرائی کو سمجھنا انتہائی عام فہم ہے۔ اٹھے کوئی منصف اور کسوٹی پر پرکھ لے کہ دونوں اطراف کے کشمیری کس جھنڈے میں دفن ہونا پسند کرتے ہیں؟

عالمی مبصرین اور عالمی عدالت اس پر ذرا غور تو کرے کہ آخر یہ کیا ہوتا ہے کہ یکا یک 370 اور 35 اے آرٹیکلز سبوتاژ کرکے مقبوضہ کشمیر کے ہر کوچہ و بازار میں متعصب ہندوؤں کو آباد کرنے کی ٹھان لی جاتی ہے اور جمہوری روایات کی جگہ مسلمانوں کیلئے اذیت کی روایات کا اہتمام کیا جاتاہے۔کیا انسانیت اور انسانی حقوق اس کی اجازت دیتے ہیں ؟ ۔۔۔۔ گر نہیں تو پھر کشمیریت اس کی اجازت کیسے دے؟جانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ کشمیری عالمی تنہائی کا شکار ہوتے جارہے ہیں اور پوری دنیا انسانی اقدار فراموش کرکے محض معاشی عینک سے دیکھنے کے درپے ہے جو سیدھا سیدھا عالمی بگاڑ ہے، اگر یہ سب دیانتداری سے نہ دیکھا گیا توہرکہیں قتل عام ہونا شروع ہوجائے گا پھر شرق سے غرب اور شمال سے جنوب تک سوائے سرمایہ دارانہ نظام، آٹو کریسی اور دھونس دھاندلی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے گا۔گلوبل ویلج کا تصور بھی درد سر بن جائے گا جس پر عالمی طاقتیں اور عالمی معاشی مافیا غور نہ کر کے انسانیت کو حیوانیت کی شاہراہ پر گامزن کررہا ہے!

کشمیریت ایکوسسٹم تقاضا کرتا ہے کہ فاؤنڈیشن ڈے پر تعلیم و تحقیق اور سفارت و صحافت کے سنگ سنگ مسلمان ممالک کو شارع ترکی پر لانے کی کوششں جائے۔آزاد کشمیر رول ماڈل بنے اور پاکستانی قوم اسے رول ماڈل بننے میں مدد دے تاکہ ضیائی تالیف سے مقبوضہ کشمیر بھی استفادہ کرے۔

ان چیلنجز میں آزاد کشمیر کا ایک مضبوط اور مربوط انفراسٹرکچر لازم ہوگیا ہے جو تقویت اور اعتماد کو اس پار تک پہنچائے۔فاؤنڈیشن ڈے کے حوالے سے جامعہ آزاد جموں و کشمیر کو احساس، آس اور اساس کی فاؤنڈیشن بن کر عالمی سطح پر سائنسدان اور ایمبیسڈرز دینے ہوں گے جو اقوام عالم میں کشمیر کی توانا آواز بنیں۔

لوگوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے لائن آف کنٹرول پر عالمی ٹورازم کا اہتمام بھی ضروری ہے. ڈی فاریسٹیشن و پلیجرازم اور کمزور اصلاحات و ترقیات کے انفراسٹرکچر کو ترک کرنا ہوگا۔ جامعہ سوچے اگر یہ ایک نوبل پرائز کا حامل پیدا کرلے تو کتنی توانا آواز ابھرے گی؟ آتش و آہن کی بارش ہی نہیں سائنس و ٹیکنالوجی، سفارتکاری و سوشل انجینئرنگ اور انٹرنیشنل افئیرز کے ماہرین کو تراشنا لازم نہیں ہوگیا ؟

اور کشمیریت کو قربانی کے علاوہ جدید سیاسی مہارتوں، بیوروکریسی و ٹیکنوکریسی کی دیانتدارانہ معاونت پہلے سے کہیں زیادہ درکار نہیں؟ ۔۔۔۔۔ فاؤنڈیشن ڈے پر گر حقیقی فاونڈیشن کا سیاستدان و وکلاء، سول سوسائٹی و بیورو کریسی نے نہ سوچا، تو پھر کیا سوچا ؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں