سردار مہوش خان              

علم ،عمل اور ہمارا کردار

فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے حالیہ دنوں میں پیغمبرِ اسلام کے خاکے شائع کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذہب اسلام پوری دنیا میں ’بحران کا مذہب‘ بن گیا ہے اور اُن کی حکومت دسمبر میں مذہب اور ریاست کو الگ کرنے والے سنہ 1905 کے قوانین کو مزید مضبوط کرے گی۔۔ پوری اسلامی دنیا میں اس بیان کے بعد اور پیغمبر اسلام کے نازیبا خاکوں نے شدید بے چینی پیدا کر دی۔ کافی مسلم ممالک نے فرانس کی مصنوعات کی خریداری پر پابندی لگا دی ۔۔ بہت سے مسلم ممالک کے راہنماوں نے اپنے بیانات میں اسکی مذمت بھی کی ہے۔۔ لیکن پیغمبر اسلام کے نازیبا خاکوں پر اس تجارتی بائیکاٹ سے کیا فرانس ان خاکوں سے یا  کوئی بھی دوسرا ملک باز آ جائے گا۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟

میں اپنے محدود علم و عقل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیشہ اسی تحقیق میں رہتی ہوں کہ ہماری  پسماندگی، ذلت اور رسوائی کی اصل وجہ کیا ہے؟؟؟

برصیغیر کی تاریخ اٹھا کر پڑھیں  تو ہم مسلمانوں نے جہاں بھر کی زلتیں خود ہی سمیٹ کر اپنا مقدر بنائی ہیں اور آج بھی ہماری خود اعتمادی کا یہ عالم ہے کہ “میں نہ مانوں کی رٹ “میں مشغول ہی نہیں بلکہ گرفتار بھی ہیں۔

ہم مسلمان ہیں لیکن صرف زبانی قول کے اعتبار سے۔۔

ہاں جب بھی کسی ملک میں مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو ہم کسی ٹائر یا کسی غریب کی دکان، پٹرول پمپ یا پھر گاڑی وغیرہ کو جلا کر مذمت کرتے ہیں اور ہمارے حکمران کسی ٹی وی چینل پر سیگرٹ اور چائے نوش فرماتے دھوئیں کے غبار میں چند سخت الفاظ مذمت  کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ایسے اقدامات کو معزز دنیا میں پاگل باتونی یا  صرف گفتار کے غازی کہا جاتا ہے ظالم ظلم کرتے رہتے ہیں مظلوم ظلم سہتے رہتے ہیں معزز مسلمان حکمرانوں کو آج تک یہ خیال ہی نہیں آیا کہ ہم پر یا اہل مسلم پر ظلم ہوتا ہے اور ظلم میں بڑی طاقتوں کے علاوہ ہمارے ملک کے حکمرانوں اور عوام کا پورا ہاتھ ہے وہ کسی قابل ذہین سمجھدار انسان کو موقع ہی کب دیتے ہیں کہ وہ کچھ کر سکے۔۔۔

  حسن نثار کی ایک بات ہمیشہ یاد آ جاتی ہے کہ” سازشی ایجنٹ اور غدار مسلمانوں کی وراثت میں ہیں۔ “اصل مسلہ ہمارا تعلیم و تربیت ہے۔ جہالت انسان کو مظلوم اور غلام بناتی ہے کیونکہ بغاوت کرنے کے لیے علم و حکمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تبدیلی اور انقلاب کے لیے علم و حکمت اور پھر ایثار  کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ اور ان تینوں کو یکے بعد دیگرے استعمال کرنے کے لیے ایک “ہنر مند” چائیے ہوتا ہے۔۔  کامیابی اور ناکامی اسی ہنر مند کے مرہون منت ہوتی ہے۔۔۔

پاکستان کی بات کی جائے تو دنیا سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اگے چلی گئی ہمارے علماء نے خود کو “کس فرقے میں کیسے نماز پڑھی جاتی ہے اسی میں قوم کو الجھا کر رکھا ہوا ہے۔۔ ۔

دنیا جب اسوقت مریخ اور آسمان کی بلندیوں کو اپنے پاوں تلے روندنے کے لئیے تیار کھڑی ہے ہم اس سوچ میں ہیں کے ” کسی بھی فرقے کے کافر سائنسدان کو اس ملک سے نکالا جائے تا کے ہمارا اسلام کسی طرح اس کافر سائنسدان کے شر سے بچ سکے۔۔۔۔

جو گنے چنے سائنسدان اس دھرتی سے اللہ نے پیدا کئیے ہم نے انھیں کافر بنایا اور ملک بدری پر مجبور کر دیا۔۔ نتجہ ہم وہی جاہل رہ گئے۔۔ کافر ہم مسلمانوں سے سبق سیکھ کر چاند کو بھی تسخیر کر کے نئے سیاروں کو بھی دنیا میں متعارف کروا چکے ہیں۔۔۔

جو حکمران ملے انھوں نے ہمارے جیسی “جاہل عوام کو اور ہمارے نوجوان کو  نعروں میں الجھایا اور خود اپنے بچوں کو بیرون ملک کی بہترین یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے لئیے بھیج دیا۔۔  ایک بھی سیاسی جماعت کے کسی بھی لیڈر، رہنما،مرکزی رہنما یا صدر کو دیکھیں کسی کا بچہ اپکو پاکستان میں تعلیم حاصل کرتا نظر نہیں ائے گا۔۔ لیکن اس عوام کے غریب بچوں کو اپنی سیاست کی بھینٹ چڑھا کر وہ اسی قوم کے شاندار مستقبل کو گلیوں،سڑکوں اور مختلف جلسوں میں روندتے شان سے اگے بڑھ جاتے ہیں۔۔۔

” ماوزے تنگ” لانگ مارچ کا خالق کہا جاتا ہے کوریا کے جنگ میں اپنا اکلوتا بیٹا روانہ کیا اور جب وہ مارا گیا تو لوگوں نے اس دکھ درد بانٹنے کے لیے اکھٹے ہوئے “ماوزے” نے لوگوں سے یہ کہا کہ میرے بیٹے نے کوئی بڑا کام نہیں کیا بلکہ یہاں بہت سارے والدین ایسے ہیں جن کے کئی بیٹے اور کئی بیٹیاں انقلاب برپا کرتے کرتے یہ جہاں خیر باد کہہ گئے میرا تو صرف ایک بیٹا گیا ہے۔ یہ ہوتے ہیں لیڈر راہنما جو اپنے غم چھپا کر دوسروں کو خوشی دیتے ہیں مگر ہمارے ہاں عوام کے بچوں کو  مرکزی رہنما ،علاقائی سیکرٹری ، فلاں کسی تنظیم کا صدر بنا کر  اپنے بچوں کو یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں اعلی’ تعلیم کے لئے روانہ کرتے ہیں

ایسے معاشروں میں عوام کا جاگنا ضروری ہے تاکہ علم ،عمل اور شعور سے اس ظلم و بریت کا مقابلہ کیا جا سکے علم عمل اور اتفاق سے ہر ظلم اور ظالم کو پسپا کیا جا سکتا ہے ورنہ جانوروں کی طرح مرنا ہمارا مقدر ہے چلانے سے اور مذمت سے ہائے ہائے کرنے سے سر کا درد ختم نہیں ہوتا بلکہ کچھ نہ ہوتے ہوئے “پیناڈول” تو کھاکر دیکھ لینا چایئے ہم لوگ عمل سے عاری ہیں اسی لیے ہم پر صدیوں سے آری چل رہی ہے اور پتا نہیں کب تک چلتی رہے گی۔۔۔ اسلام کو زوال کھبی نہیں ہو سکتا لیکن مسلمان اپنے عمل سے جس زوال کا شکار ہیں اسے پہچاننے کی ضرورت ہے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں