Tanveer fatima

تنویر فاطمہ نے گلگت ایشوکو جموں سے جوڑ دیا

انٹرویو۔۔ حبیب احمد

سٹیٹ ویوز، اسلام آباد

[button color=”green2″]جموں کشمیر پیپلزڈیموکرٹک موومنٹ کی چیئر پرسن تنویرفاطمہ جو آج کل سرینگر سے پاکستان آئی ہیں انہوں نے سٹیٹ ویوز کا دورہ کیا، اس موقع پر سٹیٹ ویوز سے خصوصی نشست کے دوران مختلف امور پار تبادلہ خیال کیا، تنویر فاطمہ کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس نہ صرف تحریک کو خون دیا بلکہ آج بھی وہ اوران کا خاندان تحریک آزادی کشمیر کے لئے شب و روز محنت کر رہاہے، مختلف امور پر بات چیت کرتے ہوئے کہا[/button]

تحریک آزادی کشمیر کیلئےدی جانے والی قربانیاں دنیا کے کونےکونے تک پہنچ چکی ہیں لیکن تحریک آزادی کیلئے اپنائی جانےوالی حکمت عملی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ،دنیا یہ سن سن کر اکتا چکی ہے کہ آج کشمیر میں کوئی شہید ہوگیا ہے یا زخمی ہوگیا ہے، اب ہمیں ان تمام چیزوں سے ہٹ کر دنیا کو قائل کرنیکی ضرورت ہے ،۔

بھارت کا گھناؤنا منصوبہ

تحریک آزادی صرف مسلمانوں کی جنگ نہیں بلکہ ایک کروڑ سے زائد لوگوں کی خواہشات، ان کی ثقافت اور زبان کا مسئلہ ہے اور آج بھارت کشمیر کی ثقافت ،نسل کشی اور ڈیمو گرافی کو تبدیل کررہا ہے ،مقبوضہ کشمیر کا کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں شہید نہ ہو،۔

کشمیر دنیا کا ایک خوبصورت ترین خطہ ہے جو بھارت کے علاوہ کسی اور ملک کے پاس بھی ہوتا تو وہ آسانی سے اسے نہ چھوڑتا اورانڈیا بھی یہی کررہا ہے ،کشمیری ایک تہذیب یافتہ قوم ہے،

منزل کے لے اتحاد پہلی شرط

کشمیر یوں کا مطالبہ جائز ہے اور وہ اس کےحق میں تحریک چلا رہے ہیں ،اس وقت دنیا مسلم اور نان مسلم کے نام پر تقسیم ہوچکی ہے ،کشمیر صرف کشمیری ہی آزاد کرواسکتے ہیں ، اس کے لئے کشمیریوں کو متحد ہو کر اپنی تحریک موثرانداز میں اٹھانا ہوگا،

ہماری بدقسمتی دیکھیں،تحریک آزادی کشمیر کوصرف مسلمانوں کی جنگ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جس سے وہاں کی اقلیتیں مایوس ہورہی ہیں یہ تحریک تقریبا 2سو سال پرانی ہے دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ مسئلہ ایک قوم کا نہیں یہاں بسنے والے انسانوں کا مسئلہ ہے ،چاہے وہ مسلمان ہوں یا ہندؤ۔۔

یواین اوکا کردارافسوسناک

اقوام متحدہ اورعالمی برادری نے مسئلہ کشمیر کیلئے کوئی کردارادانہیں کیا، اس بات کا انتہائی افسوس ہے، اب وقت کی ضرورت ہے کہ کشمیری متحدہو کر اپنی تحریک چلائیں، نائن الیون کے بعد جہاد کو دنیا مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہی ہے، اس لئے جمہوری انداز میں ہمیں اپنی تحریک کو مضبوط بنانا چاہیے، اس میں کوئی شک نہیں 90کی دہائی میں اس وقت دنیا کشمیر میں جاری مظالم سے غافل تھی ،جہاد کی وجہ سے دنیا کو پتا چلا کے کشمیر میں کچھ ہو رہا ہے،

خواتین سب سے زیادہ متاثر

تحریک آزادی کشمیر میں سب سے متاثر خواتین ہو رہی ہیں،ایک خاتون کبھی اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہوتی ہے، کبھی شوہر سے ،کبھی ماں اپنے لخت جگر سےاور کبھی خاتون عزت کی قربانی دیتی ہے، میری خواہش ہے کہ تحریک آزادی میں اپنا جاندار کردار ادا کرنے کے لئے خواتین بھی بلاجھجک نکلیں،کشمیر ی قوم کا یہ حسن ہے کہ وہ مذہبی انتہا پسند نہیں بلکہ ماڈرن سوسائٹی کی باشعور قوم ہے،

بیس کیمپ بے حس کیمپ

میں چھوٹی سی تھی تو اپنے بڑوں سے سنا کرتی تھی کہ آزادکشمیر تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے،لیکن یہاں کی حکومتیں آج دن تک وہ کردار نہیں اداکرسکیں جو انہیں کرنا چاہیے تھا ، اب یہاں کے سیاست دانوں سے کوئی خاص امیدیں وابستہ نہیں

آزادکشمیر میں پوری رسائی دی جائے

مقبوضہ کشمیر سے جب یہاں کوئی آتا ہے تو اسے ویزہ صرف تین اضلاع کا جاری کیا جا تا ہے ان تین اضلاع کے علاوہ وہ کہیں نہیں جا سکتا حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ کشمیری کیلئے اس کا سٹیٹ سبجیکٹ ہی اس کا سب کچھ ہو تا ہے لیکن ہمیں آزادکشمیر میں جا کر لوگوں سے ملنے تک کی رسائی نہیں،

Tanveer fatima

کشمیری کشمیر میں غیر ملکی

چند روزقبل جب میں کوہالہ پل پر پہنچی تو وہاں سیکیورٹی والے ہم سے پوچھا گیا کہ کوئی غیر ملکی تو نہیں تو دل بہت اداس ہوا کہ کشمیری کو کشمیر میں ہی غیر ملکی تصورکیا جاتا ہے حالانکہ ہماری یہ خواہش ہے کہ پاکستان بھی ہمارا ملک ہے اورپاکستان میں بھی ہمیں پاکستانی تصورکیا جائے ،

بیرسٹر نے مایوس کیا

مقبوضہ کشمیرکےلوگ ان سے مایوس ہیں،آزادکشمیر کے سیاستدان بیرون ملک جب دور ے کرتے ہیں ،ہم لوگ ان دوروں کو سنجیدہ نہیں لیتے کیونکہ بیرسٹر سلطان محمود کافی متحرک دکھائی دیتے ہیں لیکن 2011میں جب وہ مقبوضہ کشمیر گئے تو سٹیٹ پروٹوکول میں وہاں کے وزیراعلیٰ کے ساتھ گھومتے رہے جس پر کشمیریوں کو انتہائی دکھ ہوا کہ ہم کیا ان کو اچھی رہائش نہیں دے سکتے تھے جو وہ کٹھ پتلی حکومت کے پروٹوکول کے مزے لے رہے ہیں، اس کے بعدبیرسٹر سلطان محمود نے جب یورپ میں ملین مارچ کی تو کشمیریوں نے اس کو بھی مشکوک نگاہوں سے دیکھا ،

فاصلے کم ہوں

میری خواہش ہے کہ میں آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے درمیان فاصلوں کو کم کر سکوں ،یہاں کے لوگوں کی جو محبت ہے ،میں اس کو وہاں تک پہنچا سکوں، اس لئے میں اپنی ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے سول سوسائٹی بنانا چاہ رہی ہوں جو کشمیر کے کلچر پر کام کرے اور اس سے بڑھ کر آرپار کے لوگوں کو ایک دوسرے سے ملائے،

گلگت صوبے کی مخالفت

گلگت کو صوبہ بنانا ایسے ہی ہے جیسے کشمیریوں کی قربانیوں پر پانی ڈالنا حالانکہ گلگت کو کراچی معاہدے کے تحت حقوق دئیے جاسکتے ہیں، اگر گلگت صوبہ بن گیا تو جموں کے لوگ بھی صوبے کا مطالبہ کریںگے جو انڈیا کیلئے انتہائی آسان ہوجائے، اس سے تحریک فرسودہ ہوجائے گی اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی فرسودہ ہوجائیںگی ،

ہمارے بزرگوں نے نظریہ پاکستان کی بنا تھاپر اس کوپسند کیا تھا کہ وہ انتہائی مناسب تھا ہم قائداعظم کے پاکستان کیساتھ ہیں اور رہیں گے، وادی کے لوگوں کی امیدوں کامحور پاکستان ہے ، وہ انڈیا کے مظالم سے تنگ آ چکے ہیں،.

دل کی بات ،سٹیٹ ویوز کے ساتھ

سٹیٹ ویوز ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہم آ کر پنے دل کی بات لوگوں تک پہنچا سکتے تھے، سٹیٹ ویوز کے آفس آ کر بہت اچھا لگا، اس جدید دور میں آئن لائن میڈیا کی بہت اہمیت ہے،ان کا کہنا تھا کہ سٹیٹ ویوز کی وجہ سے آرپار کشمیریوں کے درمیان فاصلہ کم ہو گئے،