پکار/ شیراز خان ( لندن )

پاکستان میں دھرنا کلچر مغرب اور اسلام

آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے بات کا بتنگڑ بنتا ہے چوہا شیر اور شیر لومڑی بنا دی جاتی ہے مولوی علامہ، لیکچرار پروفیسر، ایل ایل بی ماہر قانون، جس کو ٹی وی کا مائیک پکڑنا آگیا وہ سنیئر صحافی باقی سارے مایہ ناز اینکرز، قائد صحافت بابائے صحافت، عالمی مبلغ اسلام مایہ ناز شاعر فلاسفر کھلاڑی نجانے کون کیا کیا بنا کر پیش کیا جارہا ہے ہر کوئی اپنا اپنا منجن فروخت کررہا ہے نہ کتاب رہی نہ قلم نہ لکھنے پڑھنے کا رواج رہا ۔ ہنگامہ آرائی ہے ایک طوفان بدتمیزی ہے نہ عزت نہ احترام نہ چھوٹے بڑے میں فرق نہ کوئی بات سنتا ہے نہ سمجھتا ہے نہ غور وفکر کرتا ہے

ہمارے لوگ ملک پاکستان کے اندر ہوں یا باہر جہاں بھی جاتے ہیں خود کو حاتم طائی سمجھتے ہیں میں کچھ سوالات کرتا ہوں جوابات آپ کی دانش و عقل پر چھوڑتا ہوں! صرف اتنا عرض ہے دین اسلام ہماری طاقت ہے لیکن لوگوں نے پاکستان میں مزہب کے نام پر تفرقہ بازی، فرقہ بندی اور سیاست کرتے ہوئے اسے پاکستان کی ترقی میں فالٹ لائن بنا دیا ہے ،

1-ہم کلمہ گو مسلمان الحمدللہ دعویدار ہیں کہ ہم دنیا کی بہترین آمت ہیں اللہ تعالیٰ نے جنت الفردوس صرف ہمارے جیسے مسلمانوں کے لئے مخصوص کی ہوئی ہے ساری دنیا کے دیگر انسان دوزخ کی آگ میں جلیں گئے۔ سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے مسلمان ایسے ہیں جو اسلام کے بنیادی رہمنا اصولوں پر چلنے کے لئے اپنی زندگی میں سعی یا کوشش کرتے ہیں؟

2-کیا دنیا میں اس وقت کوئی بھی ایک اسلامی ملک یے جس میں عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ قائم ہو جسے ہم مسلمان ماڈل کے طور پر پیش کرسکتے ہیں؟

3- ہمارے ملک پاکستان میں کتنے فیصد مسلمان ایسے ہونگے جو رشوت، زخیرہ اندوزی، منافع خوری، سفارش، بے ایمانی جھوٹ، منافقت، کم ناپنے تولنے، ملاوٹ، زنا، شراب، جوئے کو برا سمجھتے ہونگے اور اس کے خلاف عملی طور پر جہاد کرتے ہیں؟

ہمارے پاکستانی یوکے یورپ اور مغرب میں آکر یہاں کی لائف انجوائے خوب کرتے ہیں لیکن یہاں کی خبروں سے کوئی واسطہ نہیں ہے فیض آباد میں حالیہ دھرنے میں جو کچھ کیا گیا جو کچھ کہا گیا اور جو معاہدہ کیا گیا اس کے جواب میں عرض ہے فرانس سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطلب پوری یورپین یونین کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کے مترادف ہے یورپین یونین میں کل 28 ملک تھے اب برطانیہ اس یونین سے الگ ہے.

میری ناقص رپورٹ کے مطابق نہ کوئی سفیر پاکستان سے واپس جائے گا نہ واپس بلایا جائے گا اور نہ ہم افورڈ کرسکتے ہیں کسی کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کریں اگر ان ملکوں سے تعلقات امیرالمؤمنین مولوی خادم کے کہنے پر ختم کریں گے تو پھر کیا سعودی عرب متحدہ عرب امارات سے تعلقات استوار کریں گے جو بھارت اسرائیل اور امریکہ کو خوش کرنے کے لئے ہمارے پاکستانیوں کو نکال رہے ہیں تاکہ بھارت کی لیبر لائی جائے اور متحدہ عرب امارات سے ہزاروں پاکستانیوں کو نکالنے کا عمل شروع ہوچکا ہےجو چالیس چالیس سالوں سے وہاں رہ رہے تھے .

فرانس کے صدر ماکرون کے گستاخانہ خاکوں کے بارے میں موقف سے پوری دنیا کے مسلمانوں پر ایک قیامت صغریٰ برپا ہوئی ترکی کے صدر طیب اردگان نے اور وزیراعظم عمران خان سمیت ان تمام مسلمانوں کو خراج تحسین اور لاکھوں سلام جنہوں نے پرامن طریقے سے احتجاج کیا اور حضور سرور کائنات سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے فرانس، لندن، امریکہ اور یورپین ممالک میں ہر جگہہ احتجاج کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے

لیکن ان نادان دوستوں پر حیرت ہے جو دین کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور بیساکھیوں کا سہارا لیتے ہیں میرے جزبات اور احساسات بھی ویسے ہی ہیں جو دنیا کے باقی کلمہ گو مسلمانوں کے ہیں لیکن میں تشدّد کا راستہ اختیار نہیں کرسکتا نہ میں نے کبھی امیرالمؤمنین ملا عمر کو سمجھا.. الحمدللہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے جو ہمیں مغربی ممالک میں مواقع میسر آئے ہیں اپنے اعمال کو بہتر بنائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں جھوٹ، بے ایمانی فراڈ سے بچیں حلال کمائیں اور بچوں کو بھی کھلائیں یورپ میں اسلام تیزی سے پھیلتا ہوا مزہب ہے الحمدلله

غیرمسلم جانے انجانے میں ایسی حرکات کریں گئے اگر ہم مسلمان بھی وہی کریں تو مسلمانوں اور غیر مسلم میں فرق نہیں لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود، شریف کے نذرانے بھیجیں اور اللہ سے مدد مانگیں اور ان لوگوں کو ہدایت ملنے کی دعا کریں یہی ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے ہمیں درس ملتا ہے دین اسلام امن ، محبت اور آشتی کا دین ہے جن لوگوں نے فیض آباد دھرنا دیا ان کی نیت جو بھی ہے اس پر اعتراض نہیں میرے جزبات اور احساسات بھی وہی ہیں میرے اعمال نامے میں بھی کچھ نہیں میرے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے تقاضے ہیں کہ میں سسٹم کا حصہ رہ کر سسٹم کو بدلوں لیکن میں لاکھوں لوگوں کو تکلیف میں ڈال کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی نہیں ناراض کروں گا ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ وجدل میں بھی عورتوں، بچوں کمزوروں اور ہتھیار ڈال دینے والوں کو تکلیف نہ پہچانے کا حکم دیا ہے

میں پاکستان کی عدالت عالیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ غیر قانونی دھرنوں اور احتجاجوں کا ازخود نوٹس لیں غیر قانونی دھرنا دینے والوں کے خلاف کوئی کارروائی ہونی چاہیئے
یہاں یہ بتاتا چلوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا دین بچانا ہے میرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اور شان بہت اُونچی اور اعلیٰ وعرفا ہے .

ہر شر سے خیر برآمد ہوتی ہے برطانیہ یورپ اور امریکہ میں اج اسلام بڑھتا ہوا مزہب ہے یاد رہے کہ ملعون رشدی نے کتاب لکھی غیر مسلموں نے وہ کتاب پڑھی پھر قران مجید پڑھا اور بعض مسلمان ہوگئے افغانستان اور عراق پر حملہ ہوا مسلمانوں پر پابندیاں لگیں ان ممالک میں اسلام قبول کرنے والوں میں اضافہ ہی ہوتا گیا چرچز مساجد میں بدل گئے فرانس، برطانیہ یورپین ممالک کے تمام تر شہروں میں مزہبی آزادیاں ہیں آزانیں بھی دی جاتی ہیں نماز پانچ وقتی پڑھائی جاتی ہیں اسلام کی تبلیغ و ترویج کا عمل بھی جاری ہے مسلمان خواتین حجاب پہنتی ہیں بر شعبہ زندگی میں بلا خوف وخطر اپنے فرائض منصبی سرانجام دیتی ہیں یہاں شہریت، حقوق اور ہر طرح کی آزادیاں حاصل ہیں اور برابری بھی ہے مانا کہ اسلاموفوبیا ہے نسلی تعصب بھی ہے لیکن اس کے تدارک کے لئے بھی مسلمان کوشاں ہیں آخر میں ایک اپیل ہے

کفار مکہ نے بہت سے گالیوں سے بھرے اشعار لکھے تھے جن میں حضوؐر کی توہین کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ اشعار ہم تک نہیں پہنچے کیوں کہ وہ اشعار صحابہؓ کرام نے یاد ہی نہیں کیے اور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کیے اس طرح وہ سارے اشعار فنا ہو گئے آجکل یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کفار گستاخانہ مواد کو دنیا میں زیادہ کفار سے زیادہ مسلمان پھیلا رہے ہیں کفار ایک گستاخانہ یا تصویر بناتے ہیں پھر اس کے اوپر لکھ دیتے ہیں یہ تصویر بنانے والے پر لعنت بھیج کر آگئے شئیر کریں اب کفار کا کام ختم اور مسلمانوں کا کوم شروع ہوجاتا ہے اس طرح مسلمان لعنت بھیجنے کے چکر میں ایسے شروع ہوتے ہیں پوری دنیا تک یہ گستاخانہ مواد پہنچ جاتا ہے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ نبی کریم صلی علیہ وسلم سے محبت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے صحابہ کرام کی سنت پر عمل کریں اور جب بھی کوئی ایسا مواد ملے اسے ڈیلیٹ کردیں اور سوشل میڈیا پر نہ پھیلائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں