آئینہ/محمد غالب( برمنگھم )

پاکستان اور برطانیہ میں بنیادی فرق

دنیا بھر کے مسلمانوں کے بجائے صرف پاکستان کے مسلمانوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ گذارش کر نا چاہتا ہوں پاکستان اللہ کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا کہ اس ملک میں اللہ کا نظام نافذالعمل ہوگا لیکن اس میں عدل و انصاف یہ نافذ کیوں نہیں ہوا اب اس پر غور کریں کہ پاکستان بآئیس کروڑ کی آبادی کا اکثریتی مسلمان ملک ہے جس میں حاجیوں نمازیوں اور تہجد گزاروں کی کمی نہیں کتنے لوگ ہیں جو اسلامی نظام کو سمجھتے ہیں باقی آپ دیکھ لیں کہ ستر سالوں سےاس ملک پر چند خاندان جاگیر دار وڈیرے، سردار ًڈکٹیٹر مسلط ہیں یہ ذخیرہ اندازی، منافع خوری اور ملک کو لوٹ رہے ہیں …

جتنا کوئی زیادہ تعلیم یافتہ ہے ہر ادارے میں یہ پڑھا لکھا طبقہ مختلف اداروں اور محکوموں میں بیٹھا ہوا ہے رشوت خوری میں سب کے آگئے ہے اور یہ سارے بڑے بااثر تعلیم یافتہ لوگ ہیں یہ قانون سے بالاتر ہیں انہیں کوئی قانون نہیں پوچھتا یہ لوگ اسمبلیوں اور حکومت میں من مانی کر رہےہیں ان کو دیکھ کر عام لوگ بھی کسی قانون پر عمل نہیں کرتے کیا موجودہ نظام اور لوگ اس کو تبدیل کر سکتے ہیں جو خود ان دھندوں میں ملوث ہیں ..

اللہ کا حکم ہے کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو نیکی تو تبلیغ وعظ و نصیت سے پھیلائی جاتی ہے مگر برائی صرف تبیلغ سے نہیں بلکہ قانون کی طاقت سے ختم ہوتی ہے اور قانون پر عمل کرنے کے لئے جب حکومت میں بیٹھے لوگ عمل نہیں کرتے تو پھر عام لوگ نہیں کریں گے جو برطانیہ یورپ میں رہتے ہیں یہاں پر۔کیوں کہ انصاف اور امن ہے اس کی بنیادی وجہ چھوٹا بڑا قانوں سے بالا تر نہیں ہے..

قانون کی بالادستی کی وجہ سے ہم بھی بڑے سکون سے رہتے ہیں وگرنہ ایک دن بھی یہاں رہنا مشکل ہو جائے۔ مسلمانوں کو تو اللہ نے پورا نظام دے دیا ہے اب عمل نہیں کرتے تو اللہ نے فرشتے بیھج کر تلوار سے عمل نہیں کروانا ہے مسلمانوں نے اللہ کے دین کا علم حاصل کرنا ہے اور پھر ہر ایک نے اپنے اوپر لاگو کرنا ہے جو ایک نظام اور اسلامی ریاست کی راہ ہموار کرتا ہمیں صرف دوسروں کی برائیاں نظر آتی ہیں اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے کہ فجر سے عشاء تک ہم کیا کرتے رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں