نقطہ نظر/مصباح کبیر

سیلف پروٹوکول

زندگی کی بھاگ دوڑ میں ہم اپنے آپ کو کہیں بھول ہی گئے ہیں. مقابلہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہر شخص اسی اضطراب میں ہے کہ کہیں کوئی دوسرا بازی نہ لےجائے.زندگی کی اس بھاگم بھاگ میں آگے نکلنے کی کوشش میں ہم بھول ہی چکے ہیں کہ ہمیں خود پر بھی بھرپور توجہ کی ضرورت ہے.آجکل کےاس سائنسی دورنے انسان کو بھی ایک روبوٹ بنا دیا ہے. جو صبح سے شام تک اپنے کام میں مصروف ہوکر رہ گیا ہے.

یہ زندگی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے.اسے اللہ کی شکرگزار ی میں اچھے طریقے سے گزارنا چاہیے.روزمرہ مصروفیات میں سے اپنے لیے مخصوص وقت نکالنا چاہیے. جس میں ہم اپنے اندر کے انسان کو جان سکیں کہ وہ اصل میں ہے کیا؟ اسے چاہیے کیا؟شام کے پرسکون ماحول میں چائے بنائیں اسے اپنے پسندیدہ کپ میں ڈالیں اورخو د کو محظوظ کریں ۔اپنے لیے وقت نکالیں.

اپنے آپ کو انا سے ہٹ کر اہمیت دیں. زندگی کی تلخیوں کو چائے کی چسکیوں کے ساتھ ختم کر یں. خود کو پروٹوکول دیں۔قدرت کے خوبصورت مناظر کا معائنہ کریں اور ان سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کریں۔اپنے اندر کی صلاحیت کواجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ہرانسان میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی خاصیت ضروررکھی ہوتی ہے۔کبھی اپنے آپ کو دوسروں کےسامنے کم ترمت سمجھیں۔

خود اعتمادی کو یقینی بنائیں معمولی باتوں کو دل پر لے کر بیوجہ پریشان نہ ہوں ۔جو کام آپ کے بس میں ہے بس اس پر مکمل دھیان دیں۔اپنے آپ پر مکمل توجہ دیں۔ اپنا مقصد حیات متعین کرلیں. بس اسی کے لیے تگ و دو کریں۔کبھی بھی آپ کو اگر اپنےمعاملات میں کسی ناکامی کا سامنا کر نا پڑے تو بس سمجھ لیں کہ آپ نے صبر کرنا ہے نہ کہ شکوہ شکایت .

بس یہی سے خیر نکلے گی۔کرنا کیا ہے؟؟؟ بس توکل علی اّللہ.اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ اورساتھ میں خود اعتمادی ۔ صبروہ جوحضرت ابراہیم ؑ نے آگ کو دیکھ کر کیا اور اللہ نے اسی آگ کو خیر بنا دیا۔صبروہ جو موسیٰؑ نے آگے سمندر اور پیچھے فرعون کو دیکھ کرکیا۔ اللہ نے سمندرپھاڑکر راستہ بنا دیا. صبروتوکل کے ساتھ ساتھ اپنی ناکامیوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان سے سیکھیں. انکو کم کرنے کی کوشش کریں.

اچھے مخلص اورہمدرد دوست بنائیں ان کے ساتھ اپنی مشکلات اور پریشانیاں بانٹیں. طنعہ زنی اور ہٹ دھرمی کرنے والوں کو اپنی زندگی سے میلوں دور رکھیں. خود کو کبھی احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیں کیونکہ اللہ نے اپ میں ہر خوبی رکھی ہے .اپنی پرسنیلٹی کو ٹھاٹ بھاٹ سے رکھیں. اپنی عزت خود بنائیں.نہ اتنا میٹھا بنیں کہ ہر کوئی بآسانی نگل لے اور نہ اتنا کڑوا بنیں ہر کوئی تھوک دے.

یاد رہے کہ کبھی بھی اتنا سیدھا مت بنیں کہ آپ ہی کا استعمال کیا جانے لگے کیونکہ یہ دنیا کا دستور ہے کے جو کیل سیدھی ہو اسے ٹھوک دیا جاتا ہے اور جو ذرا ٹیڑھی ہو جائے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے. کبھی بھی کسی کو موقع نہ دیں کہ وہ اپکا مذاق اڑا سکےیا اپکی عزت نفس کو مجروح کر سکے.اپ کسی کو اپنی عزت کرنے پر مجبور تو نہیں کر سکتے مگر اسے اپنی بے عزتی سے ضرور روک سکتے ہیں.

جو ہاتھ آپ کی طرف بڑھے اسے روکنا ہو گا..جو زبان آپ کی بے عزتی کی طرف بڑھے اسے ٹوکنا ہوگا.کمزور درختوں کا تو ہوا بھی خیال نہیں کرتی. اگ بھی تو پہلے چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کو ہی لگتی ہے.دنیا میں واحد شخص جو آپ کو آپ کی مشکلات َسے نکال سکتا ہے وہ آپ خود ہی ہیں اگر آپ اپنی مدد کے لیے خود نہیں کھڑے ہوتے. اپنے حقوق کی جنگ خود نہیں لڑ سکتے تو آپ کو کوئی نہیں بچا سکتا.

اس لیے کسی دوسرے کا انتظار مت کریں بلکہ اپنے ہیرو خود بنیںکیونکہ آپ بہت اہم ہیں دنیا میں جینا ہے تواپنے اپ کو مضبوط بنائیں. اپنے آپ پر بھروسہ رکھیں اپنےحق کے لیےآواز بلند کریں اگر کوئی دیتا نہیں تو چھین کے لیں.آپ کی محنت اور کامیابی پر کوئی خوش نہیں یا کامیابی کی خوشی نہیں منا رہا تو خود اپنے حاصلِ پر خوشی منائیں آپ کی خوشی اور کامیابی پر’ آپ کی سر توڑ محنت پر کسی کی طرف سے چند الفاظ ستائش نہیں تو خود اپنے آپ کو دلاسہ دیجئے .

اپنے اندر جھانکیےاپنے ضمیر کی داد اور تحسین قبول کیجئے. لوگوں سے حوصلہ افزائی کی امید ایسے ہی ہے جیسے ساحل سمندر سے دو بیٹھے کسی لہر سے امید کرنا کہ وہ آپ تک آئے اور آپ کی تشنگی کو تسکین دے. سوائے آپ کے چند اپنوں کے کوئی بھی آپ کو آگے بڑھتا دیکھ کر خوش نہیں ہو گااور ویسے بھی آپ کی حوصلہ افزائی کرنا دوسروں کی ڈیوٹی یا ذمہ داری نہیں بلکہ آپ کی اپنی ہے .

جب آپ کا دل آپ کا ضمیر آپ کی حوصلہ افزائی کرر ہا ہو تو آپ کو دوسروں کے لفظوں کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے. خوش رہیں پر اعتماد رہیں اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں. اپنے آپ کو اہمیت دیں.ایک دن آپ کامیاب ضرور ہوں گے اور ویسے ہی زندگی گزاریں گے جس کی آپ نے کبھی توقع رکھی ہو گی. انشاءاللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں