کاروبار بند کرنا کرونا روکنے کا حل نہیں،ملکی معیشت کمزور ہوگی،صدر چیمبرآف کامرس سردار یاسر الیاس خان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) تاجر برادری نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ایک اجلاس میں حکومت اور مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی یا کسی اوروجہ سے کاروباری اداروں کو سیل کرنے سے حتی الامکان گریز کیا جائے

کاروبار کو سیل کرنے سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں بہت متاثر ہوتی ہیں بلکہ معیشت پر بھی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں جو ملک کیلئے فائدہ مند نہیں ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر یاسر الیاس خان نے کہا کہ کاروبار سیل کرنا اور بھاری جرمانے عائد کرونا وائرس کو روکنے حل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کو کاروبار کی ساکھ اور خیر سگالی قائم کرنے کے لئے سالوں کی محنت کرنا پڑتی ہے لیکن عام طور پر ایف بی آر، مقامی انتظامیہ اور دیگر سرکاری ادارے معمولی خلاف ورزی پر کاروبار کو سیل کر دیتے ہیں جس سے کاروبار کی شہرت پر پانی پھر جاتا ہے اور انھیں زبردست مالی نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاروبار کی شہرت کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے طویل جدوجہد کرنا کرنا پڑتی ہے جس سے کاروباری طبقے پر غیر ضروری اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کو سیل کرنے کے بجائے سرکاری محکمے کسی بھی خلاف ورزی پر وارننگ دیں اور جائز جرمانہ عائد کرنے کو ترجیح دیں

جس سے کاروباری طبقے کو غیر ضروری نقصانات سے بچایا جاسکتا ہے اور حکومت کیلئے بھی ریونیو بہتر ہو گا۔ آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ سرکاری مشینری کاروبار کو سیل کرنے کے بجائے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کرونا وائرس کی وجہ سے طویل لاک ڈاؤن کیا گیا سے کاروباری طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہوا جبکہ معیشت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا لہذا ان حالات میں ملک دوبارہ کاروبار کو مزید بند کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔۔

کاروباری سرگرمیاں بند کرنے سے غربت میں اضافہ ہوگا اور معیشت مزید کمزور ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایس او پیز کے نفاذ کے ساتھ سمارٹ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں بھی کاروبار کو کھلا رکھا جائے تا کہ عوام اور معیشت کیلئے مزید مسائل پیدا نہ ہوں۔

آئی سی سی آئی کی سینئر نائب صدر محترمہ فاطمہ عظیم اور نائب صدرعبد الرحمن خان نے کہا کہ حال ہی میں ایف بی آر نے ٹیکس ایشوز کی وجہ سے ایک ٹیلی کام کمپنی کے دفتر کو سیل کردیا تھا لیکن اس سے سرمایہ کاروں کو ایک بہت ہی منفی پیغام گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو صنعتی ترقی کو فروغ دینے اور معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے لیکن کسی بھی خلاف ورزی پر کاروبار کو سیل کرنا سرمایہ کاری کیلئے نقصان دہ ہو گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا حکومت کاروبار کو سیل کرنے کی روایت ترک کرے اور ملک کے بڑے وسیع تر معاشی مفادات میں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر وارننگ جاری کرے اور ہلکے جرمانے عائد کر کے خلاف ورزیوں کی حوصلہ شکنی کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں