پاکستانی شہریوں کی کثیر تعدادبہتر معاشی مستقبل کیلئے پُرامید، گیلپ سروے

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)مشہور ریسرچ کمپنی گیلپ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے نئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئے شروع ہونے والے سال 2021 میں 48 فیصد پاکستانی ملکی معیشت میں بہتری کیلئے پُرامید ہیں جبکہ 30 فیصد کو لگتا ہے معیشت مزید خراب ہی ہو گی۔

مستقبل میں معیشت پر اعتماد کا مجموعی اسکور 18 فیصد رہا، معاشی مستقبل میں بہتری کیلئے پُرامید پاکستانیوں کی شرح عالمی اوسط سے بہتر قرار دی گئی ہے۔ جب کہ 48 فیصد پاکستانی کورونا اور دیگر معاشی مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود 2021 کو معاشی خوشحالی کے سال کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اسی طرح کے ماضی میں ہونے والے سروے سے موازنہ کیا جائے تو مایوس افراد کو ایک جانب کرنے کے بعد حکومت اور ملکی مستقبل سے پُرامید ہونے والے پاکستانیوں کی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں تعداد منفی38 فیصد تھی۔ 2009 میں حالانکہ بہتری ہوئی مگر یہ شرح منفی 8 فیصد پر آئی۔ 2010 میں منفی 21 فیصد اور 2011 میں منفی 13 فیصد، لیکن ن لیگ کے اقتدار میں آنے کے بعد 2014 میں یہ شرح 47 فیصد اور 2015 میں 50 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی تھی۔

عالمی سطح پر معاشی مستقبل سے پُرامید افراد کا نیٹ اسکور منفی 21 فیصد سے زیادہ ہے۔ معاشی مستقبل سے پُرامید پاکستانیوں کی رائے کا موازنہ 46 ممالک کی مجموعی رائے سے کیا جائے تو بین الاقوامی سطح پر 2021 میں معاشی بہتری کی امید کا اظہار 25 فیصد افراد نے کیا جبکہ 46 فیصد نے مزید خرابی کا کہا، 24 فیصد نے کہا کے جیسے حالات ابھی ہیں ویسے ہیں رہیں گے۔

جب کہ پڑوسی ملک بھارت کو دیکھا جائے تو وہاں 56 فیصد عوام معاشی مستقبل کے حوالے سے بہتری کی امید رکھتے ہیں مگر افغانستان میں یہ شرح 23 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق اپنی معیشت پر سب سے زیادہ امید رکھنے والے ممالک میں 72 فیصد کے ساتھ نائیجیریا سر فہرست ہے جبکہ مستقبل میں معیشت سے سب سے زیادہ مایوس 71 فیصد برطانوی جو کہ تشویش سے بھرپور صورتحال ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں