نقطہ نظر/ کرن عزیر کشمیری

پاک بھارت کشیدگی کا ذمہ دارکون؟

پوری دنیا اس اہم امر کو جانتی ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے ضمن میں بھارت دیگر پڑوسی ممالک اور افغانستان کی سرزمین استعمال کرتا ہے واضح رہے کہ بھارت کو امن پسند نہیں اس سلسلے میں نہ صرف پاکستان بلکہ پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات خراب کر رکھے ہیں اس سلسلے میں قابل مذمت امریہ ہے کہ پاکستانی امن پر حملے کرنے کہ حربوں سے بھارت بھارت باز نہیں آ رہا پاکستان کی مضبوطی اور استحکام بھارت کے حلق کا کانٹا بن کر رہ گیا ہے…

پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ تخریب کاری کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا بھارت کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے پاکستان سفارتی طور پر کوشاں ہے پاک بھارت کشیدگی کا ذمہ دار بھارت کا ایک ایسا سیاستدان ہے جو دوسری بار اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی بری طرح ناکام ہے مودی سرکار کے غلط فیصلوں نے نہ صرف انتہا پسندی کو فروغ دیا بلکہ خطے کا امن و استحکام بھی داؤ پر لگا دیا پاکستانی نے گزشتہ برسوں میں ایک خوفناک اور خونریز جنگ کے بعد امن و امان کے قیام کو یقینی بنایا تاہم بھارت اس ضمن میں شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے ..

بلوچستان میں پیش آنے والے حالیہ واقعات اور خون ریزی کرنے والے تمام عناصر کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے افغان امن عمل میں مثبت پیش رفت اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششیں بھارت کے لیے ناقابل برداشت امر ہیں یہی وجہ ہے کہ بھارت اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی کوششوں میں مصروف ہے پاکستان دہشت گردوں اور ان کی معاونت کرنے والوں کے پیچھے بھارتی چہرے کو پہچانتا ہے بھارتی انتہا پسندانہ سوچ اور پاکستان مخالف نظریات دنیا کے سامنے کھل کر آ گئے ہیں..

مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بھارت میں مسلمان مخالف نظریات اور پاکستان مخالف نظریات عروج پر ہیں واضح رہے کہ اکثر بھارتی اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ملک میں پاکستان کے مقابلے میں ایٹمی ہتھیار بنا رکھے ہیں اور وہ اس حقیقت سے لاعلم ہیں کہ کسی بھی جانب سے معمولی غلطی خطے کے امن کو تباہ و برباد کرکے رکھ دے گی بھارت میں امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ سکھ مودی سرکار کے خلاف ڈٹ گئے دہلی کی طرف بڑھنے والے کسانوں پر گولیاں چلا دی گئی اہم امر یہ ہے کہ مودی سرکار کا پھیلایا ہوا دہشت گردی کا نیٹ ورک کسی تعارف کا محتاج نہیں مذہب کی بنیاد پر تشدد اور پاکستان کے ساتھ چھیڑ خانی بھارتی حکومت کی پالیسی کے بنیادی حصہ ہے اس سلسلے میں غور طلب امر یہ ہے کہ تشدد لالچ بدعنوانی مذہبی عدم برداشت کو فروغ دینے والی بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ کیسے امن کی خواہاں ہو سکتی ہے..

مقبوضہ وادی کے نہتے مسلمانوں پر بھارتی فوج کے تشدد سے ہٹلر کے کارناموں کی یاد تازہ کردی ہے مودی سرکار نے امن بر بات کرنے کے بجائے جنگ جیسا ماحول پیدا کیا پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارتی ہاتھ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا امن کے ٹھیکہ دار خاموش رہ کر بھارت کی دہشت گردی میں عملا سرپرستی کر رہے ہیں بھارت باز نہ آئے تو لازم ہے کہ اس کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس میں ذات پات کی تقسیم سے کوئی محفوظ نہیں پاکستان کا امن دراصل مودی سرکار کے لیے موت کی حیثیت رکھتا ہے مودی سرکار کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اس ضمن میں عالمی امن کی تنظیموں کو بھارتی وزیراعظم کے تشدد پسندانہ عزائم کا نوٹس لینا چاہیے..

بھارتی دہشت گردی کے مختلف روپ اندرون بھارت کشمیر اور ایل او سی پر فائرنگ کی صورت میں نہ صرف واضح ہیں بلکہ اقوام عالم کے لئے خطرناک ہیں بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے سوا لیہ نشان ہیں بڑی آبادی کے اس ملک میں تشدد کے روجھان اور پاکستان دشمنی کو فروغ دینے والی مودی سرکار اپنی عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی دنیا تعریف کر چکی ہے ..

مودی سرکار نے جنگی ہتھیاروں کی خریداری میں دلچسپی لینے کے بجائے امن کے فروغ کے لئے کردار ادا کیا ہوتا تو آج خطہ امن و استحکام کا گہوارہ ہوتا جنگ کے بادل منڈلا رہے نہ ہوتے سوال یہ ہے کہ بھارت غیر ذمہ دارانہ اور پرتشدد رویہ کے خلاف عالمی ضمیر کب جاگے گا دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے بھارت مقتولین کو دہشت گرد بنا کر پیش کرتا ہے
تحریر کرن عزیز کشمیری

اپنا تبصرہ بھیجیں