سی پی اواسرار عباسی نے پولیس کی خامیوں کا خلاصہ نکال دیا

رپورٹ سعد عباسی 

سٹیٹ ویوز اسلام آباد

[button color=”green2″]تعارف .. سی پی او راولپنڈی اسرار احمد عباسی کا تعلق آزادکشمیر ضلع باغ ، تحصیل دھیرکوٹ کے ایک گاﺅں ناڑاکوٹ سے ہے ، ابتدائی تعلیم ناڑاکوٹ سے حاصل کی اور پھر گارڈن کالج راولپنڈی آگئے۔ اسرار احمد عباسی نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد لیکچرار کے طور پر آزادکشمیر کے مختلف تعلیمی اداروں میں ذمہ داریاں نبھائیں۔اسی دوران سی ایس ایس کے لئے اپلائی کیا اور اس میں کامیاب ہو گئے اور بطور پولیس آفیسر اپنی خدمات دینے کا آغاز کیا، پہلی پوسٹنگ پنڈی ایس پی ہیڈ کواٹر ہوئی، پھر ایس ایس پی انوسٹی گیشن تعیناتی ہوئی پھر ایک سال اٹک اور پھر راولپنڈی اورایک سال بیرون ملک تربیت کے لئے رہہے ۔[/button]

asrar abasi 02

سی پی او راولپنڈی کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق کسی مضبوط گھرانے سے نہ تھا، زمانہ طالب علمی میں رشتہ داروں نے بہت سپورٹ کی، پڑھائی میں بہت اچھا ہوا کرتا تھا چونکہ میرا تعلق ایک دور دراز علاقے سے تھا،اس زمانہ میں سہولیات میسرنہیں تھیں بہت سادہ ماحول ہوتا تھا، ہمیشہ خود سے محنت کی ، کام کبھی ادھورا نہیں چھوڑا لیکن اس کے برعکس آج تو ہر سہولت موجود ہے،ہر جگہ ٹیویشن کی سہولت ہے ،ہمارے وقتوں میں ہمیں سب خود کرنا ہوتا تھا ۔

ان کا کہنا تھا کہ جوانی میں کسی کو اپنے رول ماڈل بنا کر نہیں چلا میرا بس ایک ٹارگٹ تھا کہ میں نے کچھ بننا ہے اور اسی کے لئے محنت کرتا رہا ۔

کھلینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اتنا زیادہ کھلینے کا شوقین نہیں تھا، بسا اوقات کرکٹ کھیل لیتا تھا لیکن اتنا اچھا کھلاڑی نہٰںتھا البتہ کمینٹری کرنے کا بہت شوق ہوتا تھا اور میرے علاقے میں یہی میرے لئے مشہور ہوتا تھا کہ یہ پڑھائی میں اور کمینٹری کرنے میں بہت اچھا ہے اور وہی بہت شوق سے کرتا تھا ۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میرے مشاغل میں کتے اور بلیاں پالنا تھا اور یہ شوق آج بھی ہے اور اس کے علاوہ پودے لگانے کا بے حد شوق ہے اس کے علاوہ کتابیں بہت پڑھتا تھا اور مذہبی کتابیں پرھنے کا زیادہ شوق تھا لیکن اب تو اتنا وقت نہیں ملتا کہ اس طرح سے جاری رکھ سکوں ، زیادہ دوست بنانے دیگر تقریبات میں جانے کا شوق مجھے نہیں ہوتا تھاہمارا گاﺅں بہت دور تھا اس لئے کہیں آنا جانا بھی ہمارے لئے بہت مشکل ہوتا تھا ۔

ایک سوال کے جواب میں سی پی او راولپنڈی کا کہنا تھا کہ سیاست کا پولیس کے محکمے میں عمل دخل کلچر پر منحصر کرتا ہے جہاں میں کام کر رہا ہو یہ کلچر بھی آزادکشمیر کے کلچر سے ملتا جلتا ہے ایک اور بات بتاتا چلوں کہ یہاں پر عملی طورپر کوئی غلط کام کرنا آسان بھی نہیں ہے ،

ایک سوال کے جواب میں اسرار احمد عباسی کا کہنا تھا کہ عوام اور پولیس میں اعتماد کی کمی ہونی نہیں چاہئے جب سے پولیس بنی ہے آپ نے سنا تو ہو گا کہ انگریزوں نے جس مقصد کے لیے پولیس بنائی تھی وہ لوکل لوگوں کو دبانے کے لئے بنائی تھی تو وہ کلچر عرصے تک چلتا رہااور عوام کو ایک فاصلے پر رکھا جاتا رہا ہے تاکہ ان کی حکمرانی باقی رہے تو وہ اثرات تو چلتے آرہے ہیں پولیس کلچر کا حصہ رہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آنا شروع ہو گئی ہے. ہم کافی حد تک کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اعتماد عوام کا پولیس پر لائیں کہ یہ پولیس آپ کی محافظ ہے نہ کہ دشمن ۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ہم زیادہ سے زیادہ عوام کے ساتھ رابطے میں رہیں گے یکطرفہ ٹریفک نہیں چل سکتی اگرلوگ ہمارا ساتھ نہیں دیں گے تو ہم اکیلے کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے ہر روز پریس ریلیز جاری کرتے ہیں سوشل میڈیا پر بھی آگاہی دے رہے ہوتے ہیں۔ ہم ہر اچھے کام کو عوام تک پہنچانے کے لئے مختلف طریقوں سے مصروف رہتے ہیں مگر وہ اچھی چیز اس طرح سے ہمارے عوام کے سامنے نہیں آتی ۔

سی پی او راولپنڈی کا کہنا تھا کہ اگر کسی اہلکار یا کسی آفیسرز کے خلاف کوئی شکایت موصول ہو اس پر مکمل انکوائری کرنے کے بعد کاروائی کی جاتی ہے اور میں نے دو سال میں 5000سے زائد اپنے پولیس اہلکاروں اور آفیسرز کو سزائیں دی ہیں پنجاب پولیس کے حوالے سے ویسے بھی لوگوں کے زہنوں میں منفی اثرات ہیں اگرڈیپارٹمنٹ کے کسی ایک فرد پر کوئی بھی الزام ہوتا ہے اس کی مکمل تحقیقات کرواتے ہیں کسی سینئر آفیسر سے اوراگر وہ قصور وار ہو تو کسی صورت اسے نوکری میں نہیں رکھتے یہ تو ممکن ہی نہیں ہے اور بیسیوں کیسسز ایسے ہیں جن پر کسی قسم کا الزام لگا ان پر ثابت ہوا اور ان پر ایف آئی آر بھی ہوئی اور انکو نوکری سے فارغ بھی کیا ہےاور میں خود یہ کرو ا چکا ہوں جو شکایات مجھے موصول ہوئی ہٰن ، لوگ بتائیں گے نہیں اور کیس میں سٹینڈ نہیں کریں گے تو اس میں مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے ، جب سے ملک کے حالات نازک ہیں پولیس نے بہت قربانیاں دی ہیںبہت محنت کی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کو احساس تحفظ ملے انہیں سیکورٹی ملے تاکہ وہ اپنی زندگی کو بلا خوف و خطر جاری رکھ سکیں یہی ہمارا مشن ہے اور اسےجاری رکھے ہوئے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس کے علاوہ کوئی دوسرا پولیس اہلکار کسی گاڑی کا چالان نہیں کر سکتا اس کے پاس ایسا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے پولیس اہلکار یا آفیسر آپ کی گاڑی کے کاغذات ضرور چیک کر سکتا ہے اور متعلقہ دستاویزات نہ ہونے پر گاڑی تھانے میں بند کر سکتا ہے مگر کسی قسم کا چالان کرنے کا اختیا ر صرف ٹریفک پولیس کے پاس ہے ۔