نقطہ نظر/پروفیسر خالد اکبر

سیّد مو دودی کے خطوط از مرتبہ ڈاکٹر ظفر حسین ظف ایک اجما لی تنقیدی جا ئزہ

تصور مجھے خط کا دن رات ہے
کہ مکتوب نصف ملاقات ہے
مکتوب عام طور پر دل کا بو جھ ہلکا کرنے کیلئے استعمال ہو تے ہیں اورغا یت اول خبر رسانی ہو تی ہے لیکن عام آدمی کے خطوط اور ایک ادیب اور مفکر کے خطوط میں بہت فر ق ہو تا ہے ۔ڈاکٹر انور سدید کے خیال میں یہ فرق دو طرح سے ہو تا ہے: اول یہ کہ مفکر یاادیب کے خطوط ادبی تقا ضو ں کو پورا کرتے ہیں اور د وم یہ اُس کے دل کے نہاں خانہ تک رسا ئی حا صل کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

مو لانا مود ودی کا شمار بیسو یں صدی کی اُن چیدہ شخصیت میں ہوتا ہےجنھوں نے اپنے فکر وعمل تحریر اور تقریر سے ا یسے انمٹ اثر ات مر تب کیے جن کی تازگی بہت دور اور دیر تک محسو س کی جا تی رہے گی۔ مو لا نا مو دودی اسلا می تحریک کے رو ح رواں ہو نے کے ساتھ ساتھ اعلی پا یہ کہ ا نشا پردا ز بھی تھے ۔ لہٰذا ان خطوط سے اُ ن کی ذاتی زند گی ، اسلامی تحریک کے ا تار چڑھا ؤ ، درپیش مشکلا ت،جما عت کے اندرہو نے وا لی گروہ بندی اور تقسیم کے ساتھ ساتھ بصیرت آمیز ردعمل اورموثرحکمت عملی کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ مفید تر ین علم ہمیں اُنکے دوسرے درجن بھرمکتوبات کے مجمموعے سے نہیں ملتا۔ پس ان خطوط کی تالیف کے بغیریہ گو شہ نہاں رہتا اگر ڈا کٹر ظفر ایسے محقق اُن کو سا منے نہ لا تے ۔ ان مکتوبا ت میں اسلامی تحریک سے وابستہ اور برسر پیکار لوگو ں کیلئے پڑھنے ،جاننے اور سمجھنے کیلئے انتہائی مفید اور اہمیت کا حامل مواد اور معلومات موجو د ہیں ۔ مو لانا کا شمار اردو زبان وادب کے اعلی مصنفین اور انشاء پردازوں میں بھی ہو تا ہے ۔ارباب نقدو نظر کے نقطہ نظر کے مطابق اُن کا پر اثر اسلوب نگارش،سہل کاری ، سلاست اور جامعیت سے مرقع ہے.

اس حوالے سے یہ خطوط اردو ادب کی مکتوبا ت کی صنف میں ایک بیش بہا اضافہ اوراردو زبان وادب کے قارئین اور محقیقین کے لئے بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔سید مودودی کے خطوط ‘ ایک عمدہ تالیف ہیں۔ جسے ملک کے معروف ادیب ،سفر نگار اور محقق ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے مر تب کیا ہے ۔ ان مکتو بات کی کل تعداد ۹۶ ہے ۔ یہ اکتوبر ۱۹۲۶ سے مو لانا کی وفات سے چند ما ہ قبل تک کے عر صے پر محیط ہیں۔

تدوین ایک مشکل تحقیقی کام ہے جس کے لئے علم،محنت ،جذبہ اور اعلی فنی صلاحیت در کار ہو تی ہے۔ڈاکٹر گیان چندکے مطابق تدوین کے معا نی متفرق اجزاء کو اکٹھا کر کے ا ن کی شیرارہ بندی کرنا ہے۔ تدوین یعنی متن کی تصیح و ترتیب در اصل ایک علمی فن ہے جس میں مدون اپنی پو ری توجہ ،محنت اور ہنرمندی سے کسی مصنف کی کتاب کوپو ری صحت کے ساتھ ترتیب دیتا ہے۔سب سے پہلے وہ اصل متن کی تلاش کرتا ہے خوا ہ وہ ایک جگہ ہو یا اس کے اجزاء منتشر حا لتو ں میں مختلف جگہو ں پر ہو ں اسے فرا ہم کرتا ہے ۔

پھراس متن کو منشا ئے مصنف کے مطا بق ترتیب دینا ہے ۔ تدوین کیلئے انگریزی میں editing کا لفظ استعما ل ہو تا ہے ۔تدوین کا کام کرنے و الے مدون کیلئے ضروری ہے کہ وہ آداب تحقیق سے واقف ہو اور لگا ؤاو رشو ق بھی رکھتا ہو ۔ڈا کٹر ظفر ایک منجھے ہوئے سکہ بند محقق ہیں اور زیر تبصرہ کتاب اس حقیقت کا خوب اظہا ر ہے مگر ان خطوط کی تدوین میں ان کا لگا ؤ اور شوق کی انتہاء یقینا اپنے عروج پر ہو ئی ہو گی ۔تحریک اسلا می سے وا بستگی اور مو لا نا سیّد مو دودی کو اپنا آئیڈیل اورمربی ما ننے کے سبب انہو ں نے اس کا م کو پو رے عشق اور وارفتگی کے ساتھ مکمل کیا ۔

یو ں فن اور شوق کا یہ lethal کمبی نیشن کسی کام میںبھی شا مل ہو تو منفرد اور غیر معمو لی کا م کی تخلیق کا سبب بن جا تا ہے ۔
تدوین کے لئے سب سے پہلے مواد اکھٹا کیا جا تا ہے ۔ معطیات یا مواد اکھٹا کر نے کے بہت سے مستندزرائع ہیں ۔ان میں سے سب سے اہم مخطوطات (ہا تھ سے لکھی ہوئی تحریر ،نسخے وغیرہ ) ہیںجن پر صاحب تحریر کے دستخط ثبت ہو ں ۔متن میں یہی قسم سب سے زیا دہ مدد گا ر اور مستند خیال کی جاتی ہے۔اکثر مخطوطات نجی ملکیت میں ہو تے ہیں جو ذا تی تعلق کے طفیل ہی حا صل ہو سکتے ہیں ۔مخطوطا ت کا حصو ل ایک جانکاہ کام ہو تاہے جس میں وقت، پیسہ اور اثر و رسو خ کی ضرور ت ہوتی ہے ۔ڈاکٹر ظفر نے ایک بڑا عر صہ ان بکھرے ہو ئے خطوط کے حصول کی تگ و دو میں گز ارا جس کا احوال دیباچہ میں مر قوم ہے اور اُن کے زبانی بیان سے بھی ملتا ہے ۔یقینا ایسا جانکاہ عمل مکتوب نگار کی شخصیت کے ساتھ ایک خاص عقیدت اور گہری وابستگی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لحاظ سے یہ کتاب اُن کے خلو ص اور صا حب مکتوب سے والہا نہ تعلق اور محبت کی اتھاہ گہرائیو ں کی غماز ہے ۔

مدون کیلئے یہ بھی ضروری ہوتاہے کہ وہ ا س عہد کی زبا ن، متروک الفاظ اوران کے تلفظ ،رسم الخط اور املاء سے مکمل واقفیت رکھتا ہو۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ نادرکاوش اس حقیقت کا بین ثبو ت ہے کہ وہ زبان و بیان کی ان با ریکیو ں سے کس قدر گہری واقفیت رکھتے ہیں ۔مکتو با ت میں غلطیو ں کی دُرستی اور متبادل الفاظ کا استعما ل اس حقیقت کی وا ضح مثال ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے اس کتا ب میں حواشی اور تعلیقات کا بہت عمدہ استعمال کیا ہے۔

اس میں نفس مضمون پیش منظر میں ہی رہتا ہے او ر متن کا تسلسل ٹوٹنے کے بجائے بحال رہتا ہے۔یہ حواشی حوالاتی سے زیادہ توضیحی نوعیت کے ہیں۔جن میں مکتوب الیہم کے سا تھ تعارف اور مکتوب نگارکے سا تھ تعلق کا حوالہ ہو تا ہے۔۔ حواشی اور تعلیقات کا اس کتاب میںاستعمال اس قدر عمدگی اورمستعدی کے سا تھ کیا گیا ہے کہ یہ بالکل فطری لگتے ہیں اور قاری کی دلچسپی اور پڑھنے کی تر غیب کو بڑھا تے ہیں۔ فاضل مُرتبہ نے اس کتاب میں مکتوب الیہم کا مکمل تعا رف کرانے کے بعد خطوط درج کئے ہیں جس سے مکتوب الیہم کی شخصیات کے مختصر مگر جا مع حا لات، نما یا ں حا صلا ت اور علمی و ادبی مقام کے حوا لے سے پیش بہا اضافی معلو ما ت ملتی ہیں۔

اس خوب صورت اضافہ سے ان خطوط کی اہمیت دو با لا ہو جا تی ہے ۔عمو ما حواشی میں درج یہ معلو ما ت و احوال قا ری پر با ر گرا ں گزرتے ہیں اور تو جہ کو مکرر ہٹانے( divert )کا سبب بنتے ہیں مگر اس کتاب میں یہ تو جہ کو بڑھانے اورمرکوز کرنے کا باعث ہیں۔ان خطوط کے مطا لعہ سے ایک ہمہ جہتی شخصیت کے گونا ںگو ں اوصا ف قاری پر آشکا ر ہو تے ہیں ۔

ان میں سب سے اہم وصف ذا تی زندگی کی تنظیم ،ٹہھراو اور اوقات کا ر کا عمدہ اور پر اثر استعمال اورانتہائی درجے کی احتیاط کا احوال ہے ۔ ایک مکتوب میں میں غیرملکی دعوتی اور تنطیمی دورے کے پیر ائے میں آپ احباب سے یوں مخاطب ہیں: 23″کی شام کو کسی جہا ز سے نیو یا رک پہنچو ں 25,24 وہا ں گزار کرجمعہ کے روز 26 کو دس بجے لندن کیلئے روانہ ہو جا ؤ ں پھر ہفتہ اتوار وہا ں گز ار کر 29 جو لا ئی کو کراچی کیلئے روانہ ہو کر اگلے روز دوپہر کو کراچی پہنچ جا ؤں ۔

نیو یا رک اترنے اور پھر لندن کے لئے روانہ ہونے کے لئے ائیر پو رٹ پروہیل چیئر کا انتظام بھی پہلے سے کر دیا جا ئے تو بہتر ہے تا کہ کسی جگہ اترنے یا چڑھنے میں دقت نہ ہو ۔”
سیّد مودودی کے یہ خطوط آ زاد کشمیر کے دور دراز علاقو ں سے لے کر امریکہ تک پھیلے ہو ئے ہیں اور متنو ع موضوعات پر محیط ہیں۔یہ خطوط مکمل ابلا غ کی خصو صیا ت کے حا مل ہیں اور بیسویں صدی کی ایک بڑی شخصیت کے روز و شب کو سمجھنے میں رہنمائی فراہم کر تے ہیں۔

خطوط آدھی ملاقات اور مکتوب نگا ر کی شخصیت کے بھر پورعکا س ہو تے ہیں۔ لہٰذا یہ خطوط بھی مو لا نا مو دودی کی ہمہ صفت شخصیت اور اُن کی تحریک کو سمجھنے کے باب میں بنیا دی کردار کے حا مل ہونے کے ساتھ ساتھ اردو ادب کی مکتوبات کی صنف میں ایک عمدہ اضافہ ہیں۔پروفیسر ظفر نے جس جانفشانی،کمال مہارت اور عقیدت سے ان کو مرتب کیا وہ یقینا اس عمدہ کاوش پر صد تحسین اور مبارک باد کے مستحق ہیں۔

امید ہے کہ علمی حلقوں میں ان کی یہ اعلی کاوش بیسیارپزیرائی ضرورحاصل کر ے گی۔
اس کتاب کو معروف طباعتی ادارہ ،منشورات نے اپنے روایتی انداز میں شائع کیا ہے۔ اس کی پرزنٹیشن کمال کی ہے۔ ٹائٹل انتہائی دیدہ زیب ہے ۔عمدہ جلد بندی اوربہتر ین کاغذ کا استعمال کیا گیا ہےاور مناسب قیمت پر دستیاب ہے۔۳۵۳۲۵۲۲۲۱۰-۰۴۲ پر رابط کر کے اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں