افادات/ڈاکٹر پیر علی رضا بخاری۔ -ایم ایل اے

سوشل میڈیا اور ملکی سلامتی

سوشل میڈیا بنیادی طور پر انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ایسے ٹولز پر مشتمل پلیٹ فارمز ہیں جو معلومات اور اطلاعات کی ایک دوسرے کو منتقلی اور تبادلہ خیال کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کا ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں تحریر، تصویر، آواز اور فلم کے ذریعے دوطرفہ ابلاغ ممکن اور سب سے بڑھ کر کسی بھی مواد کی تخلیق اور تبادلہ کی سہولت کا حصول ہے۔سوشل میڈیا ٹولز  صارفین کو ہم خیال افراد کے ساتھ ورچوئل نیٹ ورک بنانے کے قابل بناتے ہیں جہاں سوشل میڈیا بڑی تیزی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔  گلوبل ڈیجیٹل اُروویو 2020 کے کے مطابق جنوری2019 تا جنوری2020 کے دوران انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کے حوالے سے پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔ جبکہ فیصد اضافہ کے حوالے سے وطنِ عزیز دنیا میں 12 ویں نمبر پر ہے (لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان ابھی بھی انٹرنیٹ سے محروم آبادی کی تعداد کے حوالے سے دنیا کا تیسرا محروم ترین ملک ہے)۔اسی طرح سوشل میڈیا صارفین کی تعداد میں اضافہ کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں 17 ویں نمبر پر ہے۔

اس وقت ملک کی 37 ملین آبادی یعنی 17 فیصد سوشل میڈیا کی فعال صارف ہے۔جبکہ 35فیصد آبادی یعنی 76.38 ملین نفوس انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والی آبادی کا 48.4 فیصد سوشل میڈیا کا فعال صارف ہے۔ یعنی ملک میں ہر دوسرا انٹرنیٹ صارف سوشل میڈیا کا فعال استعمال کنندہ ہے۔اورملک میں سوشل میڈیا کے فعال صارفین کا 99 فیصد موبائل فون کے ذریعے سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے۔ جبکہ سال19 -2018 کے دوران ملک میں انٹرنیٹ ٹریفک کا75.9 فیصد موبائل فون کے ذریعے استعمال شدہ انٹرنیٹ کی بدولت تھا۔ نیوزو (Newzoo)گلوبل موبائل مارکیٹ رپورٹ2019 کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں 19 ویں نمبر کاحامل ایسا ملک ہے جہاں سمارٹ فونزاستعمال کنندگان کی تعداد زیادہ ہے اور ملک میں سمارٹ موبائل فون صارفین کی تعداد 32.5 ملین ہے ۔لیکن سمارٹ فون کی حامل آبادی کی فیصد کے حوالے سے دنیا کے50 ممالک (جن کے اعداوشمار دستیاب ہیں) میں سے پاکستان 49 ویں نمبر پر ہے اور ملک کی صرف 15.9 فیصد آبادی سمارٹ موبائل فون کی مالک ہے۔

ملک میں سوشل میڈیااستعمال کرنے کی بنیادی ضروریات انٹرنیٹ، موبائل فون اور کمپیوٹر کے اعدادوشمار کا ایک اور پہلو پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے18 -2017 کے ان اعدادوشمار سے بھی اجاگر ہوتا ہے جس کہ مطابق ملک کے97.5 فیصد گھروں میں موبائل فون موجود ہے۔ شہروں میں یہ شرح 93.9 فیصد اور دیہہ میں91.6 فیصد ہے۔اسی طرح ملک کے 26.4 فیصد گھروں میں کمپیوٹر موجود ہے۔ دیہہ کے 8.1 اور شہروں کے15.1 فیصد گھر اس سہولت کے حامل ہیں۔ انٹرنیٹ کے حوالے سے صورتحال یہ ہے کہ ملک کے22.9 فیصد گھروں میں انٹرنیٹ کنکشن موجود ہے ۔ دیہہ کے4.9 اور شہروں کے11.8 فیصد گھر انٹرنیٹ کنکشن کی وجہ سے دنیا سے جڑے ہوئے ہیں۔پاکستان اگرچہ ابھی بھی انٹرنیٹ تک رسائی، سمارٹ موبائل فونزکے استعمال ، کمپیوٹرزکی ملکیت اور انٹرنیٹ کی قیمتوں کے حوالے سے اپنے ہم عصر دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی محرومیوں کا شکار ہے ۔ لیکن ہر نیا سورج ان محرومیوں کو کم کرنے کی نوید لیکر طلوع ہو رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایک سال کے دوران ملک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں17 فیصد، موبائل فون کنکشن کی تعداد میں6.2 فیصد اور سوشل میڈیا کے فعال صارفین کی تعداد میں 7 فیصد اضافہ ہوا جو ہماری آبادی میں 2 فیصد اضافہ سے کہیں زائد ہے۔ یہ تمام پیش رفت اُس منظر نامہ کی واضح عکاسی کر رہی ہے جو اس وقت ملک میں سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے موجود ہے۔یہ تمام تر پیش رفت اپنی جگہ لیکن حکومت اب ملک میں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کی وفاقی کابینہ نے28 جنوری 2020 کو سوشل میڈیا کے حوالے سے ’’ سٹیزن پرٹیکشن رولز(اگینسٹ آن لائن ہارم)2020 ‘‘کے نام سے نئے ضوابط کی منظوری دی ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے ان ضوابط کے جائزہ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔

سوشل میڈیا جہاں تفریح اور معلومات فراہم کر رہا ہے، وہیں اس کے ذریعے سے پروپیگنڈہ ، جھوٹ اور ڈس انفارمیشن بھی پھیلائی جا رہی ہے جس سے ملکی سالمیت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ہمیں اس خطرے سے بچنے کے لئے الرٹ رہنا ہوگا۔ اسی طرح ہماری سماجی اور اخلاقی مذہب اقدار کے حوالے سے عدم برداشت کی وجہ سے تصادم کا اندیشہ بڑھ رہا ہے ۔میڈیا نے کنفلیکٹ کو ہمیشہ ہی ہوا دی ہے یہاں تک کہ اسے جنگی ہتھیار کے طور پر بھی بھر پور استعمال کیا گیا اور اب انفارمیشن ٹیکنالوجی میںتھری جی، فورجی اور فائیو جی کے آنے سے آئندہ دنوں میں افراد اور قوموں کے درمیان تصادم اور فساد میں سوشل میڈیا کا کردار نمایاں طور پر سامنے آئے گا۔ لہذا اس قانون کے ذریعے نیشنل کوآرڈینیٹر کا قیام ایک خوش آئند اقدام ہے، مثبت پہلو یہ ہے کہ اس میں اسٹیک ہولڈرز کی معاونت کو بھی یقینی بنایا گیا ہے ۔انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل19 کے مطابق’’ ہر کسی کو آزادی اظہار کا حق حاصل ہے۔دنیا بھر میں لوگوں کی جانب سے تبدیلی ، انصاف ، مساوات ، طاقتوروں کے احتساب اور انسانی حقوق کے احترام کی حمایت میں تحاریک سامنے آئی ہیں۔

یعنی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا لوگوں میں یکجہتی کا احساس پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جہاں یہ معاشرتی اصلاح اور آگاہی کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو رہا ہے، وہیں یہ غلط معلومات پھیلانے، دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے، مذہبی لسانی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینے،آن لائن ہراساں کرنے، لوگوں کی ساکھ متاثر کرنے،بلیک میلنگ ، نفرت انگیز تقاریر و موادکی تشہیراورذاتی ڈیٹا چوری کرنے کے عمل کا بھی حصہ ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی قطعی نہیں ہوتی، اس کے ساتھ خصوصی فرائض اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ شہری اور سیاسی حقوق پر بین الاقوامی معاہدہ 1966 کے آرٹیکل19 (3) مندرجہ ذیل بنیادوں پرآزادی اظہار پر پابندیاں عائد کرتا ہے۔

(الف )دوسروں کی ساکھ کے حقوق کے لئے(ب) قومی سلامتی ، یا عوامی نظم ، یا عوامی صحت یا اخلاقیات کے تحفظ کے لئے۔آزادی اظہار کے ساتھ منسلک فرائض اور ذمہ داریاں کیا سوشل میڈیا پر بھی لاگو ہوتی ہیں؟ اور ان ذمہ داریوں کا تعین اور اطلاق عوامی سطح پر کیسے ہوسکتا ہے؟۔انڈیا نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ سے چند روز قبل جزوی طور پر پابندیاں تو اٹھائیں لیکن سوشل میڈیا بدستور بند ہے، اور صرف محدود سست رفتار 2جی موبائل انٹرنیٹ چل رہا ہے -15 اگست کو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ ساتھ انڈیا نے ریاست پر سخت مواصلاتی پابندیاں نافذ کر دی تھیں۔

اس کے بعد میڈیانے یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ ایسا سمجھیں کہ جیسے کشمیر میں مہنگے سمارٹ فونز اب سمارٹ نہیں رہے اور انٹرنیٹ پر طویل پابندی نے لوگوں کی رائے میں ان فونز کو محض ایک مہنگی گھڑی بنا کے رکھ دیا ہے اور لوگوں نے سمارٹ فونز کی خریداری معطل کردی ہے جس سے تقریباً 500 کروڑ انڈین روپے کی سمارٹ فون کی تجارتی صنعت کو خاتمے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔سوشل میڈیا نے جہاں لوگوں کی زندگیوں کے معمولات تبدیل کرکے رکھ دیے ہیں وہیں سماجی اور معاشی ترقی میں بھی بہتری آئی ہے ضرورت اس امر کی ہے ہم سوشل میڈیا کی ترقی کو حق خودارادیت کی جدوجہد مزید تیز کرنے اور ملکی سلامتی کی مضبوطی کے لئے موثر طور پر استعمال کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں