ڈائیلاگ / ڈاکٹر سردار محمد طاہر تبسم

نظریاتی اساس، قومی حمیت پر ضرب کیوں ؟

پاکستان کی نظریاتی اساس اور قومی وحدت کے خلاف کچھ ناپسندیدہ مہرے ہر دور میں اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے لایعنی گفتگو کرتے آ رہئے ہیں قوم اور ہماری سلامتی کے اداروں نے انکی باتوں پر دھیان نہیں دیا لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ اب انکی ہرزہ سرائی کو سنجیدہ لیا جائے۔ یہ گروہ اور افراد اگر پانچ دہائیوں میں اپنی اصلاح نہیں کر سکے تو انکو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔
جاگیردار، سرمایہ دار طبقے نے انگریزوں کی چاکری کر کے منصب، مراتب، جاگیریں اور مراعات حاصل کیں وہ اب تک اقتدار کے ایوانوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ ایسی کالی بھیڑیں بھی ہیں جو اسلام اور پاکستان کے مغائر سرگرم عمل ہیں اور خود کو ہر چیز کا ٹھیکیدار بنا ئے ہوئے ہیں انکے اجداد کا ماضی انگریز سرکار کی غلامی اور حال اقتدار پرست اشرافیہ سے جڑا ہوا ہے۔

باچا خان، عبدالصمد اچکزئی، اور اس قبیل کے افراد کی بدبودار تاریخ سے ہر کوئی واقف ہے جو انگریزوں کی نوکری کے بعد ہندوؤں کی تابع داری میں ہی دفن ہو گے تمام مفادات پاکستان میں حاصل کرنے کے باوجود پاکستانی کہلانے سے ہچکچلاتے رہے انکی نسل بھی انہی کے نقش قدم پر گامزن ہے اور ان میں کچھ بھارت اور باقی افغانستان کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔ باچا خان کو مرنے کے بعد نصیحت کے مطابق افغانستان میں دفن کیا گیا۔

لیکن سب سے زیادہ افغانیوں کے غم گسار محمود اچکزئی بنے ہوئے ہیں انہیں ہمیشہ پنجابیوں اور سندھیوں سے بغض اور عناد رہا ہے اور افغانستان کی محبت کے مروڑ انکے پیٹ میں ہر وقت پڑتے رہتے ہیں حالانکہ انگریز جب افغانیوں پر حملہ آور ہوئے تو انکے قبیلہ نے اچکزئی رجمنٹ قائم کر کے انگریز بہادر کی ہر ممکن مدد کی اور جب امریکہ افغانیوں پر حملے کرتا رہا تو موصوف گونگے اور بہرے ہو کر خواب خرگوش میں گم رہے لیکن آجکل انکے پیٹ میں افغانستان کی محبت کے مروڑ کافی طمطراق ہیں کیوں نہ ایسے بدبو دار افراد کو وہیں بھیج دیا جائے جہاں کے لئے وہ تڑپتے رہتے ہیں۔

کانگریسی ذہنیت کے مولوی بھی اس ملک میں اسلام کے ٹھیکیدار ہیں جو قیام پاکستان کی تحریک کے دوران ابوالکلام آزاد کے ہمنوا رہے اور پاکستان بنتے ہی ادھر آ کر منبراور مصلے پر براجمان ہو گے۔ انکی ذہنیت ابھی تک وہی ہے اور وہ جمعیت علمائے ہند کی طرح اب بھی ہندوستان کے گن گاتے ہیں اسکی بڑی مثال مولانا فضل الرحمن ہیں جو 15 سال تک کشمیر پارلیمنٹری کمیٹی کے چیرمین رہے اور ایک بیان بھی بھارت کے خلاف نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ مسلہ کشمیر کے حل ہونے سے پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آج مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اور باقی کئی پارٹیوں نے مولانا کو اپنا مسیحا سمجھ لیا ہے۔ سیاسی اشرافیہ کی ناکامی کی بڑی وجہ مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی بنیں گے کیونکہ دونوں میں ایک عادت مشترک ہے کہ وہ اقتدار اور مفاد کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں ورنہ انکی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں ہے۔ایسے لگتا ہے کہ ان پارٹیوں میں قحط الرجال ہے- اب تو وہ فوج جیسے منظم ادارے کو دھمکا رہے ہیں اور منافقت و عصبیت کو ہوا دے رہے ہیں اگر حکومت دینی مدارس کے معصوم بچوں پر سیاسی جلسوں میں جانے کی پابندی لگا دے تو پھر دیکھیں کہ مولانا کی کیا حیثیت ہے۔

قوم پرستی کا زہر گھولنے والے ان پرتعفنُ ناپسندیدہ ناسوروں کی آڑ میں منظور پشین محسن داوڑ، ماروی سرمد اور کئی دیگر لوگ بھی ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ آخر کب تک یہ کھلواڑ ہوتا رہے گا کسی کو ان کے خلاف اٹھنا ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان اور مقتدر ادارے کس انتظار میں ہیں ایسے ملک مخالف عناصر کے خلاف فوری گرینڈ آپریشن کی ضرورت ہے ان کو سبق سکھائے بغیر معاملات مزید پچیدہ ہو ں گے ان کے زہریلے بیانات ملک اور قوم کے لئے بہت نقصان دہ ہیں۔

مجھے مقتدر اداروں کی خاموشی پر افسوس ہے جو ان مزموم حرکات پہ آنکھیں موندھے بیٹھے ہیں انہیں علم ہے کہ پانی سر سے گزرنے کو ہے۔ پروفیسر حافظ سعید جیسے خیر خواہ اور تعمیری سوچ والے قومی رہنما کو تو امریکہ کی خواہش پر پابند سلاسل کیا ہوا ہےاور ملک کی نظریاتی اساس اور قومی حمیت کے مخالفین سر عام دندناتے پھر رہے ہیں۔

اس وقت ملک میں قومی مفاہمت، برداشت، بردباری اور افہام و تفہیم کی ضرورت ہے انار کی پھیلانے والے لانگ مارچ، استعفوں اور فوج اور حکومت میں اختلافات کی مزموم مہم چلانے والوں کو ملک کے خلاف اندرونی اور بیرونی خطرات اور سازشوں کی پرواہ نہیں نہ ہی پاکستان کی شہ رگ کشمیر میں ہونے والے بھارتی جبر و ظلم اور قتل عام کا کوئی دکھ ہے انہیں اقتدار کی ہوس نے اندھا اور بہرا کر دیا ہے

فوج کے خلاف ہرزا سرائی دشمن کو کمک پہنچانے کے مترادف ہے ان پر بھی اربوں کی دولت سمیٹنے اور ناجائز جائیداد بنانے کے شواہد ہیں پھر نیب کے منہ پر تالے کیوں لگے ہوئے ہیں۔
قوم ایسے کینہ پرور مکار اور چالباز لوگوں کی پلید سوچ کو کیوں برداشت کر رہئی ہے۔ جو اقتدار اور مفادات ہی کو اپنا دین ایمان اور مقصد سمجھتے ہیں اور 74 سال کے بعد بھی ہندو نواز پالیسی کے ہمنوا ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کے گروپ کے سنیر رہنماؤں نے اس کی آمرانہ اور موروثی سوچ کی وجہ سے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔حضرت قائد اعظم نے بجا طور پر فرمایا تھا کہ پاکستان قائم رہنے کے لئے بنا ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی انہوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ان لوگوں کو پاکستان کی فکر ہے نہ کشمیر انکے ایجنڈے میں ہے۔ ایسی سیاست پر تف ہے پھر تو واضح ہے ان کا منشور صرف اقتدار، مفادات انتقام اور ملک کو کھوکھلا کرنا ہے ایسے مقاصد ملک سے متصادم ہیں ان کی پاکستان میں قطعی گنجائش نہیں ہے ایسے کب تک چلے گا حکومت اور اپوزیشن کو اپنے ایجنڈے موخر کر کے ملک کی بہتری اور عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے ہم قدم ہونا چائیے مہنگائی کرپشن اور نا انصافی کا خاتمہ ملک کی فوری ضرورت ہے اور فوج کے خلاف آوازیں بلند نہیں ہونی چاہیے، سیاستدانوں، بیوروکریسی، صحافیوں اور علماء کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چائیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں