سہیل اقبال اعوان ایڈووکیٹ

عدلیہ بحران اور سابق منصف اعلی سے ایک نشست۔

یہ ایک بڑا المیہ ہے کے ہمارے ہاں عدل کا نظام ہر گزرتے دن لوگوں کا اعتماد کھو رہا ہے اور اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کے ذمہ داران نہ تو نظام میں بہتری لانے میں سنجیدہ ہیں اور نہ انہیں عوامی اعتماد کی فکر ہے۔لالچ، اختیارات کے ناجائز استعمال کی حوس اور منفی رویوں نے اداروں کو ان کے مقاصد سے نوے ڈگری مخالف سمت پھیر دیا ہے ریاست میں اعلی عدلیہ ایک عرصہ سے تنازعات کی زد میں ہے اور آج تنازعات بحرانوں کی شکل اختیار کیئے ہوئے ہیں۔

قانون اور سیاست کے طالبعلم کی حیثیت سے نظام کی دنبدن ابتری بارے ناچیز کے ذہن میں چند سوالات گردش کر رہے تھے تو ایک دوست نے میری تشنگی محسوس کرتے ہوئے ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے ریاست کے سابق منصف اعلی ابراھیم ضیا سے ایک نشست کا اہتمام کر ڈالا۔
ناچیز محترم ابراھیم ضیا کے دور منصفی میں ان کے ناقدین میں شامل تھا اس لیے یہ اچھا موقع تھا کے اپنی تنقید کو غلط یا درست ثابت کرنے کے لیے بھی ان سے چند معاملات پر بات چیت کی جائے۔ہماری نشست ان کے خوبصورت لان میں ہوئی جہاں وہ ہشاش بشاش اور اپنے اقدامات پر مطمئن نظر آئے ان سے ملاقات اور بات چیت بڑے خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

چونکہ عدلیہ کے حالیہ بحران سے قبل چوہدری ابراھیم ضیا ہی ریاست کے منصف اعلی تھے تو بات چیت کا آغاز بھی اسی موضوع سے ہوا جسکے بارے ان کا کہنا تھا کے میں نے بطور چیف جسٹس اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل اور بروقت اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے حکومت کو مکتوب لکھا تھا کے سپریم کورٹ کے سینئر جج راجہ سعید اکرم کی مستقل چیف جسٹس تعیناتی کی جائے لیکن حکومت نے اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا، ان کا کہنا تھا سینئر جج کی موجودگی میں کسی جونیئر جج کو چیف جسٹس لگانا آئین کی کھلی خلاف ورزی ہو گی اور ایسا اسی وقت ممکن ہے جب کوئی جج موجود نہ ہو، ان کا کہنا تھا اس وقت سپریم کورٹ سے دوسرے جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد اعلی عدلیہ بحران کا شکار ہو گئی جسکی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر ہے اگر حکومت بروقت ثمری ارسال کرتی تو اعلی عدلیہ کو موجودہ بحران کا سامنا نہ ہوتا۔

حکومت کی جانب سے بروقت ثمری پر متحرک نہ ہونے کو بعض قانونی ماہرین سازش قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کے حکومت قائم مقام چیف جسٹس کے روبرو ایک کیس میں اپنی مرضی کا فیصلہ چاہتی تھی یہی وجہ ہے کے ان کی مستقل تعیناتی میں سست روی اختیار کی گئی یہ بات حقیقت ہے یا محض ایک سازشی تھیوری ہے اس بات کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کے مذکورہ مقدمہ میں فیصلہ ہوتے ہی سعید اکرم کے خلاف صدر کے پاس ریفرنس دائر ہو گیا جس کی بنیاد پر انہوں نے وزیراعظم پاکستان کو فوری مکتوب لکھ ڈالا کے سعید اکرم کو ریفرنس کی موجودگی میں مستقل چیف جسٹس تعینات کرنے کے بجائے چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس اظہر سلیم بابر کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا جائے تاہم اس بات کو وکلا تنظیموں نے غیر آئینی قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی اصولوں کے مطابق، کسی بھی جج کے خلاف کارروائی کو ابتداء میں خفیہ رکھا جاتا ہے تاکہ اگر الزام بے بنیاد ہو تو بلاوجہ جج کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچےلیکن یہاں اس کا الٹ ہوا بلکہ یہاں تو ایسا لگتا ہے ریفرنس سے پہلے ہی سعید اکرم کو گھر بھیجنے کی تیاری کے لیے کچھ لوگ تیار بیٹھے ہیں، فرض کریں اگر سعید اکرم کے خلاف ریفرنس کل غلط ثابت ہوتا ہے تو کیا عدلیہ کو ایک اور بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جب سینئر جج جونئر چیف جسٹس کے ساتھ کام پر مجبور ہو گا یا مستعفی ہونے پر۔اس نسبت جب میں نے کچھ سینئر وکلا سے رہنمائی لی تو انکا کہنا تھا کے مناسب طریقہ یہ ہے کے جسٹس سعید اکرم کو فوری مستقل کیا جائے تا کے وہ عدلیہ میں دیگر ججز کی تعیناتی کے لیے نام بھیج سکیں اور سپریم جوڈیشل کونسل تشکیل ہو کر سعید اکرم کے خلاف دائر ریفرنس پر فیصلہ کرے۔

یاد رہے ماضی میں جب جسٹس سپریم کورٹ کے سینئر جج منظور علی گیلانی کو سپر سیڈ کر کے جسٹس ریاض اختر کو چیف جسٹس بنایا گیا تھا تو فاروق حیدر نے ماضی میں وزیراعظم بن کر عدلیہ میں اس خرابی کو درست کیا تھا جسے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں نے سراہا تھا اتفاق سے آج بھی فاروق حیدر ریاست کے وزیراعظم ہیں لیکن ایسا لگتا ہے اس بار بظاہر وہ خود کو اس معاملے سے الگ کر کے اپنی مرضی کرناچاہتے ہیں۔

جب راقم نے سابق منصف اعلی سے جے کے پی پی کے سربراہ سابق ممبر اسمبلی جناب خالد ابراھیم مرحوم کے حوالے سے نوٹس بارے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا خالد ابراھیم اب اس دنیا میں نہیں رہے اس لیے ان کے بارے کچھ کہنا مناسب نہیں تاہم ہم نے اس بات پر وضاحت طلب کی جو اعلی عدلیہ بارے اخبارات میں ان کے نام سے چھپی جبکہ ہم نے اسمبلی کی تقریر منگوائی تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جس سے توہین کا پہلو نکلتا ہو ان کا کہنا تھا چونکہ ججز ہائی کورٹ میں لگنے تھے جنکا برائے راست مجھ سے کوئی تعلق نہیں تھا البتہ بعض لوگوں نے اپنے مفادات کے لیے خالد ابراھیم اور عدلیہ کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا جس سے کسی کو بھی فایدہ نہیں ہوا, ان کا کہنا تھا وہ خالد ابراھیم مرحوم کی وفات پر تعزیت کے لیے جانا چاہتے تھے جسکی ان کے خاندان نے اجازت نہیں دی البتہ ہمیں ان سے کوئی بغض نہیں تھا اور اس نسبت تمام باتیں ریکارڈ پر ہیں، انکا کہنا تھا ججز تقرری معاملے میں چیف جسٹس ہائی کورٹ،حکومت اور صدر ریاست بھی اہم فریق تھے لیکن باقیوں کو چھوڑ کر انہیں اس لیے نشانہ بنایا گیا کے ان کا تعلق ایک کمزور قبیلے سے ہے۔

ابراھیم ضیا بطور منصف عدلیہ میں اصلاحات بارے کوشاں اور متحرک نظر آئے یہی وجہ ہے کے آزاد کشمیر کی وکلا کمیونٹی ان کی معترف ہے، انصاف کی فوری فراہمی کے لیے ان کے اقدامات لائق تعریف سمجھے جاتے ہیں جنکے بارے ان کا کہنا تھا کے لوگوں کو ریلیف دینا ان کا بنیادی مقصد رہا ہے اور اپنی طرف سے خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ کام کیا جسکے لیے ہر وقت جواب دہ ہوں، ان کا کہنا تھا جوڈیشل پالیسی کو پڑھے بغیر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس میں کہیں بھی ہائی کورٹ کے اختیارات صلب کرنے کی کوشش نہیں ہوئی بلکہ ججز میٹنگ جو اس سے قبل نہیں ہوئی ہم نے اسے بھی یقینی بنایا تاکے فراہمی انصاف کے لیے عدلیہ کی کارکردگی بہتر ہو اور عوام میں عدلیہ کے اعتماد میں اضافہ ہو،

انکا کہنا تھا ہم نے جوڈیشل اکیڈمی کے لیے بھی پیش رفت کی مگر تکمیل نہ ہو سکی کیونکہ یہاں قدم قدم پر رکاوٹیں پیدا کرنا بہتر مشغلہ ہے، انکا کہنا تھا عدلیہ کا بنیادی کام بروقت انصاف فراہم کرنا ہے مگر اس طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ہم مے بیس سال پرانے مقدمات کے فیصلے کیئے اور درمیانہ احکام کے خلاف پی ایل اے پر پابندی لگائی ورنہ لوگ ایک ایک آرڈر کے خلاف اپیل کر کے لوگوں کو بلا وجہ زیر بار کرتے تھے انکا کہنا تھا ہمیں اداروں سمیت انفرادی طور پر رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے جس کے بغیر بہتری کے امکانات کم ہیں۔

آزاد کشمیر عدلیہ میں ججز تعیناتی طریقہ کار پر ان کا کہنا تھا ہمارے اس چھوٹے خطہ میں موجودہ طریقہ کار ہی بہترین ہے پارلیمانی کمیٹی کے پاس اختیار کی صورت عدلیہ میں سیاسی مداخلت کئی گناہ بڑھ جائے گی البتہ چیف جسٹس صاحبان کو نام بھیجتے وقت وکلا نمائیندوں سے مشورہ کرنا چاہیے تا کے زیادہ بہتر لوگ عدلیہ میں لائے جا سکیں۔

ہائی کورٹ میں پانچ ججوں کی تعیناتی پر دو سال کے قریب عرصہ مشاورت پر لگانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا چیف جسٹس ہائی کورٹ بارہا ناموں پر اتفاق کرتے رہے مگر دوبارہ فون پر بتاتے کے ابھی سوچنے کا مزید وقت دیں۔

سابق منصف اعلی اپنے پیش رو منصفون کے مقابلے میڈیا کی بھی توجہ کا مرکز رہے جس بارے میرا زاتی خیال ہے کے ان کی متحرک شخصیت کا اثر تھا کیونکہ جو شخص خلوص نیت کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے مشاہدہ یہی ہے کے اسے تنازعات کا سامنا رہتا ہے اور ان کے ساتھ بھی یہی ہوا تاہم انہوں نے ناقدین یا مخالفین کی پرواہ کرنے کے بجائے اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھی اور وقت نے ثابت کیا ان کا اختیار کردہ راستہ ان کے لیے زیادہ سود مند رہا۔

ہمارے ہاں جہاں اختیارات کا ناجائز استعمال ایک بڑا مسلہ ہے وہیں حاصل شدہ اختیار سے مصلحت یا لاعلمی کے باعث دستبرداری بھی تباہی کا باعث ہے کیونکہ حاصل اختیار کا استعمال نہ کرنا بھی اداروں کے بگاڑ اور عدم توازن کا باعث بنتا ہے ایسے میں سالوں بعد اگر کوئی اپنے منصب کے تقاضوں کو سمجھنے اور قانون کے مطابق حاصل اختیار ایکسرسائز کرنے والا شخص کسی عہدے پر فائض ہو تو اسکا تنقید کی زد میں رہنا کوئی بڑی بات نہیں۔

محترم ابراھیم ضیا اب بھی ایک متحرک شخصیت ہیں جو لوگوں کو ریلیف، اداروں کی درست سمت اور ریاست کے بہتر مستقبل بارے فکر مند ہیں جب ناچیز نے انہیں بہتری بارے کردار ادا کرنے کے لیے استفسار کیا تو انکا جواب اثبات میں تھا اب یہ آنے والا وقت بتائے گا کے وہ کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں تاہم ہم ان کے خیالات کو عوامی بہتری میں ڈھالنے کے لیے دعا گو ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں