امتیاز احمد بٹ

ہوا کا رخ بدل رہا ہے

آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی حالات انتہائی دلچسپ،ہنگامہ خیز اور ڈرامائی راہ پر رواں دواں ہیں۔ ہوا کا رخ بدل رہا ہے سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ان کےقریبی ساتھی کنارا کشی اختیار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ناپسندیدہ ترین رہنماؤں اور شخصیات سے تعلقات استوار کرنے کا نیا رجحان بڑھ رہا ہے۔پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے پہلی بار پی ٹی آئی کے ایک اور آفس جو سوہاں میں قائم ہے کا دورہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے پارٹی میں پہلے سے موجود جنہیں وہ نا پسند کرتے تھے گلے سے لگا لیا ہے۔سب کو ساتھ لیکر چلنے اور سب کو قبول کرنے کی سوچ ہی کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے۔دوسری طرف آزاد کشمیر پی ٹی آئی کی سیاست میں بہتری لانے اور انتخابات میں کامیابی کے لیے عمران خان کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ٹاسک لیکر آنے والے سردار تنویر الیاس سے پی ٹی آئی کے بانی رہنما مصدق خان نے ملاقات کی ہے اور نظریاتی کارکنوں کی طرف سے خوش آمدید کہتے ہوئے حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔کہا جاتا ہے کہ اگلے چند روز میں سردار تنویر الیاس کو آزاد کشمیر پی ٹی آئی میں کسی اہم عہدے کیساتھ میدان میں اتارا جائے گا تاکہ وہ پارٹی کی بہتری کیلئے کھل کر کام کر سکیں۔شنید ہے کہ وہ آزاد کشمیر بھر کا طوفانی دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں یہ پہلا موقع ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے سنیئر سیاستدان پارٹی بدلے بغیر الیکشن میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں گویا اکثریت آزاد حیثیت سے الیکشن میں جانے کی سوچ رکھتی ہے تا کہ حکومت کا حصہ بننے میں آسانی رہے۔اس وقت آزاد کشمیر میں افراتفری کا سا سماں ہے۔مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان تذبذب کا شکار ہیں کہیں وہ پیچھے نہ رہ جائیں۔پہلے آوٴ اور پہلے پاوٴ کی صدائیں بلند ہیں۔ایسے حالات میں الیکشن سے بہت پہلے ہی امیدواروں کی ایک بڑی کھیپ مارکیٹ میں دستیاب ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ نون اور اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی روائیتی حریف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں۔ ان جماعتوں کے بڑوں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتوں کے باعث آزاد کشمیر میں ان پارٹیوں کی قیادت بھی اپنے درمیان فاصلے کم کر رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے سرکردہ رہنما سوچنے پر مجبور ہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں پی پی پی اور ن لیگ آزاد کشمیر سیٹوں ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں تاکہ وفاق میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کی آزاد کشمیر میں کامیابی کے خلاف مشترکہ کردار ادا کیا جا سکے تاہم اس کا امکان بہت کم ہے چونکہ آزاد کشمیر میں انتخابی سیاست اور حلقوں میں ووٹ کا تناسب اس کی راہ میں حائل ہے یہ تناسب برادریوں کی مر ہون منت ہے۔

یہی وجہ ہے پی پی پی آزاد کشمیر کی قیادت نے گزشتہ روز ایک مرکزی اجلاس میں ن یا کسی دوسری بڑی جماعت سے اتحاد کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے بعض چھوٹی جماعتوں سے اتحاد اور ایڈجسٹمنٹ کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کا یہ اجلاس پارٹی کے اندر دراڑیں کم کرنے،پارٹی کو چھوڑنے کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ خفیہ رابطہ رکھنے والوں کو روکنے کی کوشش کے طور پر منعقد ہوا۔پی پی پی کی قیادت کی جانب سے اس کوشش اور منصوبہ بندی کے باوجود نصف درجن سے زائد مرکزی لیڈر،سابق وزراءوممبران اسمبلی پی ٹی آئی میں شمولیت کے لے بے تاب ہیں اور آئیندہ چند روز میں نئے آزاد کشمیر کی تشکیل کے ابتدائی مرحلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے چھلانگ ماریں گے۔

ادھر مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان ورکر کنونشنز منعقد کر کے پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔میرپور، بھمبر،پونچھ اور مظفرآباد کے مختلف مقامات پر کارکنوں کے اجلاس کیے اور نئی صف بندی کی۔فاروق حیدر خان کی یہ کوشش ہےکہ وہ پارٹی کو متحد رکھیں اور اس کو بکھرنے سے بچائیں۔گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان کے بعض اختلافی بیانات اور حکومت پر شدید تنقید سے یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ انتخابات میں ن لیگ سے ہٹ کر فیصلہ کرینگے اور آزاد کشمیر بھر میں اپنے ہم خیال گروپ کیساتھ انتخابی سیاست کریں گے۔

اس بات کا قوی امکان ہے کہ سردارسکندر حیات خان پی ٹی آئی کیساتھ بعض شرائط پر معاملہ کریں اور آئندہ حکومت کا حصہ بنیں۔ابھی انتخابات میں چھ ماہ کا عرصہ ہے مگر حکومت نے سرکاری وسائل سے کارکنوں کو نوازنے کی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔آزاد کشمیر حکومت نے سابق حکومتوں کی طرح تعلیمی اداروں کو سیاسی اکھاڑا بنانے کیلئے سینکڑوں آسامیاں تخلیق کی ہیں تا کہ سیاسی بنیادوں پر اپنے لوگوں کو نوازا جائے۔8 انٹرکالجز کو ڈگری کالجز ،15 ہائی سکولوں کو بطور ہائی سیکنڈری سکول اپ گریڈ کر دیا گیا، 61 مڈل سکولز کو ہائی سکول جبکہ 106 پرائمری سکولوں کو مڈل سکول کا درجہ دے دیا۔ آزاد کشمیر کے کالجز میں لیکچررز سمیت 227 نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔ 15 اپ گریڈ ہونے والے ہائیر سیکنڈری سکولز میں 93 نئی آسامیاں، مڈل سکولز زنانہ میں 130 نئی آسامیاں،مردانہ میں 57 نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔

پرائمری سے مڈل میں اپ گریڈ ہونے والے تعلیمی اداروں میں 424 نئی آسامیاں، ہائی سکولز کی سطح پر 78 نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔گزشتہ روز وزیر اعظم آزاد کشمیر نے تعلیمی اداروں کی اپگریڈیشن کے دوسرے مرحلے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ پی پی پی کے دور میں تعلیمی پیکج کی مخالفت اور اس کے خلاف کورٹ میں رٹ پٹیشن میں جانے والے ن لیگی رہنما کیسے سیاسی رشوت کے کے لےتھو ک کے حساب سے آسامیوں کی تخلیق کر رہے ہیں .آزاد کشمیر میں جہاں موسم سرما کی آمد کے ساتھ لوگوں کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔وہاں کرونا وائرس بھی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہا۔گزشتہ روز 47 افراد اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں۔ کرونا کے باعث آزاد کشمیر کا زیادہ تر حصہ لاک ڈاوٴن کے وجہ سے بند رہتا ہے۔کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں ضلع نیلم،جہلم اور حویلی برف میں ڈھکے ہیں۔جس کی وجہ سے لوگ گھروں میں بند ہیں۔آمدورفت اور دیگر ذرائع محدود ہو چکے ہیں حکومت کو اس پر توجہ دینی چاہئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں