افادات/ڈاکٹر پیر علی رضا بخاری۔ -ایم ایل اے

برادری ازم کے نقصانات

انسانیت کا درس دینے والا دنیا کا سب سے بڑا مذہب اسلام ہے اور اسلام یہ درس دیتا ہے  کہ عصبیت حرام ہے عصبیت تھوک دو ، قبائلی تفاخر کو پرے پھینک دو،  برادریاں اور قبائل تعارف کے لئے ہیں ،اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ۔ اخوت و بھائی چارگی کا درس دینے والا اسلام ہمارا دین ہے تو پھر یہ ذات پات و عصبیت کی شدت پسندی چہ معنی دارد؟

‎اسلام نے اپنے ماننے والوں کو زندگی کی کسی شعبہ میں رہنمائی حاصل کرنے کے لئے غیروں کا محتاج نہیں رکھا۔ روح و جسم کی تمام ضرورتیں پوری کی ہیں۔ معاش و معاد کے تمام مسائل کا شافی حل بتا دیا ہے۔ ذہنوں میں اٹھنے والے وسوسوں اور دماغوں میں پیدا ہونے والی الجھنوں کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا ہے۔ اب یہ امت پر منحصر ہے کہ وہ اس خزینہ علم و حکمت سے کہاں تک فیض یاب ہونے کی سنجیدہ کوشش کرتی ہے۔

البتہ ایک بات طے ہے کہ انسانیت کا مستقبل دین اسلام سے وابستہ ہے۔ تہذیب حاضر نے مادی ترقی کے عوض انسان سے جو کچھ لیا ہے اس سے انسان کو جو ذہنی انتشار، نفاق، کھچاؤ اور ظلم و بربریت اور سیاسی و اقتصادی غلامی ملی ہے وہ بڑی بھاری قیمت ہے جو انسان نے ادا کی ہے۔ نئی سائنسی ترقی سے مخلوق خدا کو جو فوائد حاصل ہو سکتے تھے وہ کم اور اس کی مکمل تباہی کا جو سامان مہیا کر دیا گیا ہے اس کی ہلاکت آفرینی کا خوف زیادہ ہے۔قرآن کریم میں برادری سسٹم (tribalism )کے بارے میں جامع ہدایات دی گئیں ہیں۔ اس کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے بگاڑ کے اسباب و نتائج سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔

’’اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ با عزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہو، بیشک اللہ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے۔‘‘الحجرات، 49 : 13
اس آیت کریمہ میں ایک بڑی اور عالمگیر گمراہی کی اصلاح کی گئی ہے جس سے دنیا میں ہمیشہ گمراہی پھیلی ہے اور جس سے ظلم و زیادتی کی جڑیں مضبوط ہوئی ہیں۔ یعنی نسلی، لسانی اور رنگ کا تعصب۔ قدیم زمانے سے انسانوں نے انسانیت کو چھوڑ کر اپنے اردگرد کچھ دائرے کھینچے ہیں جن کے اندر بسنے والوں کو اس نے اپنا اور باہر والوں کو بیگانہ سمجھا ہے۔ یہ دائرے کسی عقلی یا اخلاقی بنیاد پر نہیں بلکہ اتفاقیہ پیدائش کی بنیاد پر کھینچے گئے تھے –

آزاد کشمیر کا مجموعی نظام برادری ازم کی لعنت جکڑا ہوا ہے جس کے باعث میرٹ کی دھجیاں بکھرتی چلی آ رہی ہیں حق دار کو اس کا حق نہیں مل رھا امیر امیر تر اور غریب غریب غریب تر ہوتا جا رھا ھے بد قسمتی یہ ہے کہ سیاسی لیڈر اپنے سیاسی مقاصد کے لئے برادری ، کنبے قبیلے کا نام استعمال کرتے ہوئے ان کا استحصال کرتے ہیں ان لیڈر وں کو برادری سے کوئی محبت نہی ہوتی یہی وجہ ہے اقتدار میں اکر نمائندہ یا لیڈر کی مالی و معاشی حالت بہتر ہو جاتی ہے جبکہ برادری مزید غربت و افلاس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے آزاد کشمیر کےبسنے والے سیاسی جماعتوں کہ جملہ لیڈران،کارکنان، نماٸندگان اور ووٹرز سپورٹرز بہنو بھائیو الیکشن کی آمد آمد ھے ضمیروں کی بولیاں لگنے کو ہیں , تو آپ نے اپنے ضمیر کا اپنے ایمان کا اپنے ووٹ کا سودا نہیں کرنا ,

آپ نے بکنا نہیں , آپ فی الواقع عظیم لوگ ہیں.ڈنکے کی چوٹ پر دو ٹوک انداز میں اپنے مطالبات کو سامنے رکھتے ہوۓ برادری کے تعصب سے نکل کر اپنی آزادانہ مرضی سے جسکو بھی ووٹ دیں اس سے مطالبات کے حل کی نسبت عہد لیں اور جس نے ماضی میں عہد معاہدہ کی پاسداری نہ کی ہو اس کو ہرگز دوبارہ مت آزمائیں اور ایسے کسی شخص کے چکر میں نہ ائیں ووٹ لینے کے بعد جب یہ کرسی اقتدار پر جلوہ افروز ہوتے ہیں تو پھر نظریں بدل جاتی ہیں ،چونکہ ہر شخص کے پاس موباٸل ھے ووٹ مانگنے کے لٸیے تشریف فرما سیاست دان کے مطالبات کے حل کی نسبت دعووں کی ویڈیو ضرور بناٸیں تاکہ سند رھے اور بوقتِ ضرورت کام آ سکے۔

بیس کیمپ کے انتخابات کا ایک پہلو یہ بھی ہے یہاں نظریات کے بجائے مفادات اور برادریوں کے انتخابات ہوتے ہیں اگر یہ کہا جائے کہ انتخابات میں برادری ازم حاوی رہتا ہے تو غلط نہیں ہو گا اور ستم ظریف ہے.برادری ازم کی وجہ سے ہم تقسیم در تقسیم ہو چکے ہیں،یہ لعنت اضلاع سے ہوتی ہوئی شہروں، دیہاتوں،بازاروں اور اب گلیوں محلوں تک بھیل چکی ہے اس شر کی وجہ سے سکون تباہ ہو چکا ہے میرٹ کا جنازہ نکل چکا ہے انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

آزاد کشمیر سے برادری ازم کی لعنت کو ختم کرنے میں اعلیٰ تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی معیار دونوں بری طرح ناکام ہو کر بے بسی کی علامت بنے ہوئے ہیں،حالانکہ جہاں تعلیم ہوتی ہے وہاں معاشرے کی خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں معاشرے کی خوبصورتی مینارہ نور کی مانند ہو تی ہے، پتہ نہیں کیوں آزاد کشمیرکے اندر تعلیم کا اعلیٰ معیار بھی برادری ازم کی لعنت کو سپرد خاک نہیں کر سکا۔

ووٹ نظریات یا اجتماعی مفاد کو نہیں دیا جاتا بلکہ اپنی برادری کے امیدوار کو دیا جاتا ہے۔ تعلیمی شرح سب سے زیادہ ہونے کے باوجود قیادت کے انتخاب میں ہم خود سے دھاندلی کرتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں برادری ازم کی وبا کے ہوتے ہوئے شفاف اور آزاد الیکشن کے انعقاد ممکن ہی نہیں۔ ایک ووٹرکو مخالف برادری کے امیدوار کو ووٹ دینے کا سوچنے بھی نہیں دیتی خواہ امیدوار کتنا ہی اہل، باصلاحیت اور ایماندار آدمی ہو۔

سیاسی جماعتیں بھی برادری کی بنیاد پر ہی کسی امیدوار کوٹکٹ جاری کرتی ہیں۔۔ چھوٹی برادری کا کارکن چاند تارے لاکر بھی دکھائے تب بھی پارٹی قیادت اس پر مہربان نہیں ہوسکتی۔ یہ معیار بدلنا چاہیے پڑھے لکھے نوجوانوں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور سب کو مل کر قبائلی تعصب کے بت کو پاش پاش کرنا چاہیے۔ آزاد کشمیر کی باشعور عوام کو آئندہ انتخابات میں برادری ازم کی لعنت سے نکل خود کو قومی دھارے میں لانے کے لئے ووٹ کی طاقت کو آزمانا چاہئے تاکہ خطہ کو حقیقی معنوں میں صحیح قیادت مل سکے اور یہ ترقی بھی کر سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں