مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشد گیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

تحریر: سردار آفتاب عارف

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کوئی نئی بات نہیں ہے بھارت نے کشمیریوں کی حق رائے خودارادیت و بھارت سے آزادی حاصل کرنے کی تحریک کو دبانے کے لیے ہر دور میں ہر طرح کے حربے استعمال کئے لاکھوں کشمیریوں کے جان کے نذرانے ہوں یا عفت معاب ماؤں بہنوں کی عزتوں کی قربانی معصوم پھولوں کی مانند بچوں کے چھروں سے زخمی چہرے ہوں یا نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں بھارتی درندوں کا بدتر تشدد ظلم اور جبر مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک کو کمزور کر نہ کر پائیں گے۔

بھارت کے تمام مظالم اقوام عالم پر عیاں ہیں جبری گمشدگیاں یا ماورائے عدالت گرفتاریاں بھی زمانے کے سامنے ہیں بھارتی زندہ معصوم کشمیریوں کو آزادی کی آواز اٹھانے کی پاداش میں رات کے اندھیرے میں گھروں سے گرفتار کر کے لے جاتے ھیں اور پھر ان کی ڈیڈ باڈیز کو پھینک جاتے ھیں ہزاروں کشمیری نوجوان آج بھی گمشدہ ہیں بھارتی نام نہاد سیکورٹی فورسز جو درحقیقت ہونڈا فورسیز کی انہوں نے مختلف ادوار میں ہزاروں نوجوانوں کو کشمیر کے مختلف حصوں سے گرفتاری کے نام پر اغوا کیا اور ان کا کوئی اتا پتا نہیں کہ وہ بھارت کی کس جیل میں بند ہیں کسی عقوبت خانے کی زینت ہیں یا پھر ان کو شہید کر دیا گیا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ برس ہا برس سے مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے ان گمشدہ نوجوانوں کے والدین ان کی واپسی کی راہ تک رہے ہیں جون 2018 میں اقوام متحدہ کے کمیشنر برائے انسانی حقوق نے کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالہ سے اپنی اولین رپورٹ جاری کی جس میں انسانی حقوق کی کمشنر نے کہا کہ کشمیر ایک ایسا تنازعہ ہے جو گزرتے وقت کے ساتھ منجمند یا ٹھنڈا ہونے کی بجائے لاکھوں افراد کے بنیادی انسانی حقوق کے معذولی کے باوجود زندہ ہ تابندہ ہے اور برسوں سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آج تک مقبوضہ کشمیر کے عوام ان کہی و پہاڑ نما مصیبتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق پر زور دیا گیا تھا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے حوالہ سے جامع اور آزاد بین الاقوامی تحقیقات کرانے کے لیے انکوائری کمیشن کے قیام پر غور کریں یاد رہے کہ اس رپورٹ کو ریموٹ مانیٹرنگ کے ذریعہ مرتب کیا گیا تھا کیونکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں واقع اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر کی جانب سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دورے کی اجازت نہیں دی تھی۔

وجہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارتی حکومت کبھی بھی کسی طور بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ڈالا گیا پردہ چاک ہونے سے ڈرتی اور گریزاں ھے کیونکہ ایسے میں دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوری قوت کا ظالم جابر اور فستانی چہرہ اقوام عالم کے سامنے آجاتا اور بھارتی حکومت صرف بے نقاب ہی نا ہوتی بلکہ ننگی ہو جاتی ۔

یہاں قارئین کو یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان نے آزاد کشمیر تک انسانی حقوق کی کمشنر کو بھارتی اجازت کے ساتھ مشروط رکھ کر کھلے عام ان کو آزاد کشمیر آنے آزاد کشمیر کے عوام سے ملنے اور رپورٹس مرتب کرنے کی کھلم کھلا اجازت دی تھی ۔

قارئین کرام بھارت میں 1947 سے آج تک ہر دور میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری ہے جن میں انصاف تک عدم رسائی فوجی عدالتوں كا قیام انتظامی حراستوں فورسز کے ساتھ مقابلوں کی آڑ میں قتل عام گھر گھر تلاشی کے بہانے چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی عصمت ریزی بیلٹ گنز کے استعمال ماورائے عدالت گرفتاریاں ٹارچر جبری گمشدگیوں صحت تعلیم اور اظہار رائے پر پابندیاں بھارتی مظالم پر بات کرنے والے آواز اٹھانے والے مقبوضہ کشمیر کےمقامی بھارتی صحافیوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں نو عمر بچے بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد ۔

غرض یہ کہ بھارت کی ہر حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے حوالے سے ہر پچھلی حکومت کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کی گویا مقبوضہ کشمیر انسانوں کی بستی نہ ہو بلکہ ظلم و جبر آزمانے کی کوئی تجربہ گاہ ھو میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور سکیورٹی فورسز کو جبری گمشدگیوں کے لیے استثناء جبکہ جنسی تشدد کے لیے دائمی استثنیٰ حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں