پاکستان میں تعلیمی نظام

تعلیم کا مقصد اور غرض و غایت لوگوں کی زندگی میں بہتری اور انہیں علم اور صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہے جو کہ بالآخر شخصیت کی تکمیل اور ترقی پذیر معاشرے کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ قومی ترقی کیلئےاہمیت اور افادیت کے اعتبار سے ہمارے نظام تعلیم کو سب سے پہلے ہماری قوم کی معیشت کا انجن ہونا چاہئے ، ثانیاً تعلیم کو ہمارے مذہب اور ثقافت کی اساس ہونا چاہئے او ر ثالثاً تعلیم کو نوجوانوں کے مستقبل کی زندگی کی تیاری میں معاون ہونا چاہیے۔ ان تینوں مقاصد سے بڑھ کر پاکستانی تعلیمی نظام ایسا ہونا چا ہیے کہ وہ نوجوانوں میں قومی شعور اور بیداری کو جنم دے جو بالآخر پاکستان میں معاشرتی انصاف کی فراہمی کا یقینی سبب بن سکتا ہے ۔

میر ی تجویز ہے کہ پاکستان میں تعلیمی نظام، بہت ہی پروفیشنل انداز میں، سب سے پہلے نوجوانوں کو علم و ہنر کی سمجھ اور ادراک فراہم کرے اور پھر اس بات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ پاکستانی نوجوان پروفیشنل تعلیم حاصل کریں ۔ پاکستانی تعلیمی نظام کا بنیادی عنصر ہمارے نوجوانوں میں “خود سیکھنے کی آمادگی پیدا کرنا ” ہونا چا ہیے ۔ جس سے ان میں اس چیز کو جنم ملے گا کہ وہ اعتماد اور پوری طاقت کے ساتھ اپنی ذاتی ، پیشہ ورانہ زندگی ، قومی اور بین الاقوامی معاملات میں درپیش چیلنجز کے فیصلے لے سکیں گے۔

بطور قوم ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اگلی پاکستانی نسل کو اس طرح تعلیم دیں کہ وہ باخبر شہری کی حیثیت سے زندگی گزاریں اور انھیں اپنی پوری قوت اور وسائل کے مطابق بہترین سوچ اور سائنسی ، معاشرتی اور معاشرتی نظریات سے متعارف کروائیں ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم طلبہ میں علم و ثقافت سے محبت پیدا کریں۔ تعلیم کو اس لحاظ سے بھی کارآمد ہونا چاہیے کہ وہ بچوں کو “مستقبل کے عملی کاروبار” کے بارے میں بھی شعور دے تا کہ نوجوانوں کو اچھی ملازمت اور ایک پورا کیریئر حاصل کرنے کیلئےآسانی ہو۔ پاکستانی تعلیمی ماحول کو ہمارے نوجوانوں میں قوت مقابلہ اور اخلاقی کردار کی خصوصیات کو بڑھانا ہوگا تاکہ مستقبل کے پاکستانی قومی اور علاقائی چیلنجوں پر قابو پاسکیں جو انہیں پاکستانی قوم کی حیثیت سے در پیش ہو نگے۔

میں یہاں پر کچھ عالمی حقائق پیش کرنا چاہتا ہوں۔ 2018 میں یونائیٹڈ نیشنز انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجنسی فنڈکے بچوں کے حقوق پر کنونشن کا آرٹیکل 28 اور 29 نہ صرف بچوں کی تعلیم کے حقوق پر روشنی ڈالتا ہے بلکہ یہ واضح کرتا ہے کہ تعلیم کا معیار کیا ہونا چاہیے۔ آرٹیکل 28 یہ واضح کرتا ہے کہ بچوں کے تعلیمی حقوق کیا ہیں اور ریاستی اداروں کو کس طرح انسانی تعظیم کو برقرار رکھتے ہوئے بچوں کے تعلیمی حقوق پورے کرنے چاہئیں۔ آرٹیکل 29 اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ تعلیم کو کس طرح بچے کی شخصیت کو اجاگر کرنا چاہیے ، تعلیم کو کس طرح بچوں کو انسانی حقوق سکھانے چاہئیں اور تعلیم کو کس طرح بچوں کے مذہب اور کلچر کی شناخت سکھانی چاہیے۔

ان معیارات کو مد نظر رکھتے ہوئےمیرے نظریے اور تجربہ کے مطابق پاکستان میں نظام تعلیم کی روح یہ ہونی چاہیے کہ طلباء میں خود سے سیکھنے کی طلب اور چاہت پیدا ہو سکے۔ اپنے پیشہ ورانہ تجربے میں، میں ایسے ہزاروں طلبہ کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بہت اچھا پرفارم کیا اور ملکی ترقی میں اچھا کردار ادا کیا ،صرف اس وجہ سے کہ ان میں خود سے سیکھنے کی طلب فطری طور پر موجود تھی۔ ان طلبہ نے اُن طلبہ سے بھی اچھا پرفارم کیا جو ان سے بہت زیادہ ذہین تھے لیکن ان میں سیکھنے کی فطری طلب موجود نہیں تھی۔اچھے نظام تعلیم میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ آنے والی نسلوں کو اتنا شوق اور تعلیم دے سکے کہ وہ اپنے اردگرد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو اعتماد اور خوشی سے پرکھ اور سمجھ سکیں۔ پھر کبھی کہیں جا کر یہ فطین اور پر اعتماد نسلیں ، سائنس و ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنا اور اپنے ملک کا مستقبل سنوار سکتی ہیں۔

2019 میں یونائیٹڈ نیشنز ایجوکیشنل سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن نے ایک فریم ورک پبلش کیا جس کے مطابق تعلیم میں علم اور پیشہ ورانہ مہارت دونوں شامل ہونی چاہئیں تاکہ کسی بھی ملک کے نوجوان اچھی طرح سے اپنی زندگی گزار سکیں اور وہ ملک طب و سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی اختیار کر سکیں۔میری تجزیاتی سوچ کے مطابق قوم کی شناخت انہی لوگوں سے ہوتی ہے جو لوگ اس قوم کا حصہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا تعلیمی نظام میں علم ، پیشہ ورانہ مہارت اور لوگوں کی ذاتی ترقی کسی بھی قوم کی تعمیر میں ضروری ہوتے ہیں۔ ہمارے آج کے بچوں کی حاصل کی گئی تعلیم کا معیار اس بات کا تعین کرے گا کہ ہمارے قوم و ملک کا مستقبل کیا ہوگا۔

ایک ماہر تعلیم ویمر نے 1996 میں ایک پیپر پبلش کیا۔ اس کے مطابق اپنی ذات کی پہچان اور خود اعتمادی ہی کسی انسان کی کامیاب زندگی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ معیاری تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہی نوجوان اپنے دل و دماغ کی خواہشات اور مستقبل کے ذاتی اور قومی تقاضے سمجھ سکتے ہیں ۔ آگہی ، ذاتی اعتماد اور قومی اعتماد معیاری تعلیم سے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جن کے دانشمندانہ استعمال سے قومیں اچھے فیصلے لے سکتی ہیں۔

پاکستانی قوم کو غیرضروری بیرونی معاشی اور معاشرتی اثرات سے بچنا ہوگا۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستانی قوم علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر غیر ضروری معاملات میں الجھی ہوئی ہے اور یہ سارا کچھ غیر معیاری تعلیم کے فقدان کی وجہ سے وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ کیونکہ معیاری تعلیم ہی قوموں کو اس پائے کا شعور دیتی ہے کہ وہ غیر ضروری معاملات میں الجھے بغیر اپنے ملک کو آگے لے کر چلتے ہیں۔

میں اس موقع پر پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے پر زور اپیل کروں گا کہ پاکستانی قوم کیلئے ہنگامی بنیادوں پر معیاری تعلیم مہیا کی جائے۔ پاکستانی ٹیلنٹ دنیا کا بہترین ٹیلنٹ ہے جو کہ بدقسمتی سے غیر معیاری نظام تعلیم کی وجہ سے ضائع ہو رہا ہے۔ میں متعلقہ اداروں اور حکمرانوں سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ بہت جلد پاکستانی قوم کیلئے ان کی تعلیمی ضروریات پوری کی جائیں تاکہ پاکستانی قوم مستقبل میں درپیش علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجز کا دانشمندی سے مقابلہ کر سکے اور مملکت پاکستان پوری دنیا میں باعزت پہچان کے ساتھ ابھر سکے۔

تحریر:شاہ شعیب ہاشمی لکھاری ایک ماہر تعلیم ہیں اور پاکستان اور یوکے کی یونیورسٹیز اور اداروں سے کئی امتیازات کے حامل ہیں ،حال میں تعلیم کے فروغ کیلئے ملک و بیرون ملک خدمات دے رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں