چٹان / عائشہ نور

عنوان ” سائنس اور اسلام کا دوران عروج “ حصہ چہارم !!!

ابو علی الحسین ابن عبداللہ ابن سینا (980ء تا 1037ء) ، جو مسلم ماہرطب اور فلسفی ہیں۔ ابن سینا کی جائےپیدائش موجودہ ازبکستان کا شہر ”بخارا“ جبکہ وہ زندگی کے بیشتر برس ایران میں رہائش پذیررہے۔ابوعلی سینا کو مغرب میں Avicenna کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا لقب ’’الشیخ الرئیس‘‘ ہے۔ ابن سینا نے 450 کتابیں لکھیں جن میں سے قریبا 240 ہی باقی رہ پائی ہیں، ان میں سے فلسفہ پر 150 اور علم طب پر 40 تصنیفات تھیں۔ ان کی سب سے مشہور کتابوں میں “کتاب الشفاء ہے، جبکہ دوسری ”قوانین طب “ہے ۔ ان میں بہت چیزیں 1650 تک قرون وسطی کی یونیورسٹیوں میں ایک معیاری طبی کتب کے طور پر پڑھائی جاتی رہیں۔ 1973 میں ابن سینا کی کتاب ’’ قوانین طب“ نیویارک میں دوبارہ شائع کی گئی۔

فلسفہ اور طب کے علاوہ، ابن سینا نے فلکیات، کیمیا، جغرافیہ اور ارضیات، نفسیات، اسلامی الہیات، منطق، ریاضی، طبیعیات پر بھی لکھا ہے۔ انہوں نے اپنے والدسمیت اپنی دور کے معروف اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ وہ غیر معمولی حافظے اور ذہانت کے مالک تھے یہی وجہ ہےکہ ابن سینا طب کے شعبے میں صرف معلومات کے حصول تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے علاج کے نئے طریقے بھی دریافت کیے۔ 19 سال کی عمر میں ابن سینا کو “طبیب“ کا عنوان دیا گیا ۔ 21 سال کی عمر میں وہ اپنے دور کے معروف ترین حکماء میں شمار ہونے لگے۔

ابن سینا نے قلبی شریانوں سے متعلق جو کچھ لکھا , وہ آج بھی قابل ستائش ہے۔ ان کی بڑی ترین تصانیف میں سے ایک “کتاب الشفاء” ہے۔ یہ کتاب انسانیت کی تاریخ میں کسی فرد واحد کی تصنیف کردہ جامع ترین کتاب ہے جوکہ انسائیکلوپیڈیا کی سی حثییت رکھتی ہے جس میں منطق، فزکس، جیومیٹری، فلکیات، ریاضی، موسیقی اور میٹا فزکس کے شعبوں میں اس دور کی تمام معلومات جمع کر دی گئی ہیں۔

12ویں صدی کے وسط میں ابن سینا کا ”علم روح انسانی “ یعنی میٹا فزکس یورپ میں مستند ماناجاتاتھا ۔ 12ویں صدی میں ارسطو کے فلسفہ روح کے مطالعے کے دوران ہمیشہ ابن سینا کےنظریات کا بھی مطالعہ کیا جاتا تھا۔ ابن سینا کی ایک تحریر میں خدا اور اس کے بندے کے بیچ فاصلے کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ۔ پھر یہی تحقیق اطالوی فلسفی ”سینٹ تھومس اکوائنس “ کے فلسفے کا حصہ بنی۔

ان کی ایک کتاب 14ویں صدی سے 1715 تک یورپ کے ہر میڈیکل کالج کے نصاب میں کسی نہ کسی شکل میں شامل ہوتی تھی۔ ابن سینا کے اہم نظریات میں سے ایک فلسفہ روح ہے۔ ابن سینا کی دلیل کا موازنہ اکثر فرانسیسی فلسفی” رینے دیکارتس“ کے کام سےبھی کیا جاتا ہے۔ اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ” میں سوچتا ہوں۔ شاید اس لیے میرا وجود ہے“۔

ان میں کسی کی خصوصیت اور کسی کے وجود میں فرق کے نظریات ہیں۔ ان سے قبل بھی فلسفیوں نے اس موضوع پر بات کی تھی۔ لیکن کسی نے اتنے وسیع پیمانے پر اسے اپنی علم روح انسانی کی بنیاد نہیں بنایا تھا۔ابن سینا کے لیے کسی کی خوبی اور کسی کے وجود میں فرق سب سے اہم موضوع تھا۔ ان کے مطابق ”کوئی بھی چیز اپنی خصوصیات پر پورا اترتی ہے، جیسے ایک انسان، بلی یا درخت۔ اس سے یہ واضح ہوسکتا ہے کہ یہ چیز کیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا اس کا وجود بھی ہے۔ کسی چیز سے متعلق اگر آپ فیصلہ کیے بغیر یہ سمجھ جائیں کہ یہ کیا ہے تو یہ وہی چیز ہے“۔

ان کا مطلب تھا کہ ہر چیز اپنی خصوصیات کی بنیاد پر پہچانی جاتی ہیں۔ لیکن ممکن ہے کہ یہ چیز خود اپنا الگ وجود بھی رکھتی ہے۔ یہ فرق قائم کرنے پر ابن سینا سوال کرتے ہیں کہ پھر اس چیز کو کیا سمجھا جائے کہ یہ کیا ہے، یعنی کیا اس کی خصوصیات اسے معنی دیتی ہیں یا اس کا وجود۔ان کے مطابق صرف ایسی چیزیں اپنا وجود رکھتی ہیں جنھیں بیان کیا جاسکے۔ یہ جملہ اپنے انداز میں اہم ہے۔ ابن سینا ان فلسفیوں میں سے ہیں جو موجودہ حالات کی بنا پر کسی معاملے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ علت و معلول (یعنی کاز اینڈ افیکٹ) پر یقین رکھتے تھے۔

ان کے مطابق چونکہ یہ دنیا خدا کی طرف سے ضرورت کے تحت تخلیق کردہ ہے اس لیے اگرایک دوسری دنیا ہوتی تو وہ اسی دنیا کی ہر چیز میں مشابہت رکھتی ہوتی۔ دنیا میں ہر چیز کسی دوسری چیز کی بنا پر اپنے اندرایک ضرورت رکھتی ہے۔وہ ہر چیز سے متعلق اس کی خصوصیات اور اس کے وجود کی بنیاد پر بات کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر دنیا بننے کے پیچھے کوئی بڑی وجہ نہ ہوتی تو اس کا وجود نہ ہوتا۔

اگر یہ ثابت ہوجائے کہ دنیا بننے کے پیچھے کوئی وجہ ہے تو یہ بھی خصوصیات اور وجود کے فلسفے کے مطابق ہوگی۔ یعنی کوئی چیز کیا ہے یہی اس کا وجود ہے۔
گویا کہ ”خدا کیا ہے“؟ اس کا جواب خدا کے وجود میں ہے۔ شاید ابن سینا کے فلسقیانہ نظریات کی وجہ سے ہی اس مسلم سائنسدان اور جدید طب کے بانی کو گمراہی کا مرتکب اور مرتد قراردے دیا گیا , جس کی وجہ مختلف مسلم حکمران ابن سینا کے تعاقب میں رہے اور جان بچانے کےلیےابن سینا ادھر ادھر بھٹکتے رہے۔ ابن سینا نے اپنی وہ کتاب جو 6 سو سال تک مشرق اور مغرب کی جامعات میں پڑھائی ‏گئی، یعنی ” القانون فی الطب“ بھی روپوشی میں لکھی تھی ۔
تحریر : ”عائشہ نور “ !!!

اپنا تبصرہ بھیجیں