نقطہ نظر/نجیب الغفورخان

جمہوریت کے قا تل کا یوم جمہوریہ

مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی جارحیت،بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اورجمہوریت کی دھجیاں بکھیرنے والے بھارت کا یوم جمہوریہ منانا سمجھ سے بالا تر ہے.26جنوری بھارت کے یوم جمہوریہ کو دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔جس کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور بھارت کے تسلط کی طرف مبذول کروانا ہے۔ بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر مختلف پروگرامات، ریلیوں اور مظاہروں کے ذریعے کشمیری عالمی برادری کو یہ باور کرواتے ہیں کہ بھارت جو دنیا کے سامنے اپنے آپ کو سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے وہ درحقیقت جمہوریت کے نام پر سیاہ دھبہ ہے۔

جس نے جموں و کشمیر پر کشمیریوں کی خواہشات کے خلاف قبضہ کر رکھا ہے۔ اس لئے اس کو یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق نہیں ہے۔بھارت کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں غیر جمہوری طرز اپنائے ہوئے ہے۔ جہاں معصوم کشمیریوں پر رائج ہندوستانی کالے قوانین ٍمکمل طور پر جمہوریت کے متضاد ہیں۔5اگست 2019ء کے بعدبھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر کے جمہوریت کا بڑے پیمانے پر قتل کیا اور اس کے بعدسے مسلسل غیر جمہوری اقدامات کے ذریعے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے، کہیں جعلی پولیس مقابلے ہیں تو کہیں نام نہاد سرچ آپریشن کئے جاتے ہیں۔ 2020ء میں بھی کشمیر کا رابطہ دنیا بھر سے منقطع رہا ہے۔.

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 2020 ء میں قابض بھارتی فورسزنے 260 کشمیریوں کو شہید کیا، اکثر نوجوانوں کو سرچ آپریشن کی آڑ میں گولیوں کا نشانہ بنایا۔ 20افراد نے دوران ِ حراست جان دی، غاصب فوج نے اس سال 750 سے زائد افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔بھارتی فورسز نے پیلٹس گن کے چھروں سے 150 افراد کو زخمی کیا، 10 افراد کی ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی، 22 افراد ایسے تھے جن کی ایک یا دونوں آنکھیں زخمی ہو ئیں۔ جبکہ 28 سو افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سیاسی کارکنوں کے علاوہ عام لوگ بھی شامل تھے، 920 گھروں کو جان بوجھ کر جلا دیا گیا۔ بھارتی فوج کے مظالم سے 13خواتین بیوہ ہو گئیں، 29 بچے یتیم کر دیئے گئے، 58 خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔کشمیری صحافیوں پر بھی بھارت کا جبر جاری رہا، کہیں انٹرنیٹ پر پابندی اور کہیں خبروں کو سنسر کیا جاتا رہا، کئی صحافی کوریج کے دوران زخمی کر دیئے گئے۔ کشمیری قیادت مسلسل نظر بند اور جیلوں میں قید رہے، بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی علیل اور مسلسل گھر میں نظر بند ہیں۔

اس سال حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق بھی گھر میں قید رہے۔ حریت لیڈر یاسین ملک، آسیہ اندرابی، مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔اس سال غاصب درندوں نے وادی میں متعدد سیب کے باغات اجاڑ دیے، بڈگام کے باغبانوں کے مطابق سیب کے ہزاروں درخت کاٹ دئیے گئے جس سے سینکڑوں خاندانوں کا روزگار ختم ہو گیا۔لاک ڈاؤن اور کرفیو کی وجہ سے ٹرانسپورٹ، صنعت، سیاحت اور زراعت بری طرح متاثر ہوئی، کشمیری تاجروں کے مطابق کشمیری معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ جبکہ دوسری طرف بھارتی فوج نے صرف ماہ جنوری میں 40سے زائد بار سیز فائرلائن معاہدے کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں ایک اندازے کے مطابق بھارتی فورسز نے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہیدکیا۔ ”مقبوضہ وادی میں آئے دن ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریوں کا سلسلہ انسانی حقوق کی اتنی واضح خلاف ورزی ہے کہ اس پر کسی طریقے سے پردہ ڈالنا ممکن نہیں لیکن اقوام متحدہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کرانے کے بارے میں اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے سے گریزاں ہے۔ سوال یہ بنتا ہے کہ اتنے معتبر ادارے کی پالیسی میں ایسا شرمناک تضاد کیوں ہے؟“۔ہر سال بھارت اپنے یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے طاقت کا اندھا دھند استعمال کرتا ہے۔

کشمیری عوام بھارتی جمہوریت کو جو فسطائیت کا روپ دھار چکی ہے کو مسترد کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر پر جابرانہ تسلط برقرار رکھنے کیلئے بھارت نے فوجی طاقت کا سہارا لیاہے جبکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں بھارت کو وہاں صرف اتنی ہی فوج رکھنے کا حق حاصل ہے، جو قیام امن کے لیے نا گزیر ہو، لیکن آج یہ تعداد 10 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے قبرستانوں میں ہزاروں نئی قبروں کا اضافہ ہوا ہے، جن پر شہداء کے نام اور پتے درج ہیں۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی فوج نے کشمیر میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اپنی رپورٹس میں واضع طور پر ہندوستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ٹھہرایا ہے جبکہ حال ہی میں برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیرکی تازہ صورتحال پر بحث کااہتمام بھی کیا گیا.

جس میں 10 ممبران پارلیمنٹ نے حصہ لیااور کشمیریوں کی حالت زارپر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ بھارت کسی غیر ملکی صحافی کو مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں دیتا، یو این ایچ آر کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی حاصل نہیں اس لئے احکومت کو آزادی رائے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ان تمام تر اقدامات کے باوجودنہ توکسی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کا بھارت پر کوئی اثر ہوتا ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کے اداروں کا۔اب یہ اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل پر ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور کشمیریوں کو ان کا پیدا ئشی حق حق خودارادیت دلائیں۔

آج مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو540دن ہو چکے ہیں، وادی کشمیرمیں خوراک، ادویات اور ایندھن کاسنگین بحران ہے۔ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجودمسلسل موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کی وجہ سے کشمیریوں کا آج کے جدید دور میں دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ مگر انتہاپسندمودی کے سفاکانہ اقدامات کیخلاف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی جاری ہے۔ دور حاضر میں کشمیریوں کے لئے سوشل میڈیا ہی واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعیوہ اپنی آواز عالمی سطع پربلند کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں جموں و کشمیر لبریشن سیل کے سوشل میڈیا پیجز مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بھرپور انداز میں اجاگرکر رہے ہیں اور بھارت کا غیر جمہوری چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے جمہوریت کے دعویدار بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی لگا رکھی ہے، ایسے حالات میں جمہوریت کی دھجیاں بکھیرنے والے بھارت کا یوم جمہوریہ منانا سمجھ سے بلا تر ہے۔درحقیقت بھارت جمہوریت کے نام پر سیاہ دھبہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں