کشمیر گلوبل کونسل نے بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیریوں کیلئے موثر آواز بلند کر دی

نیو یارک(سٹیٹ ویوز) کشمیر گلوبل کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے سربراہ فاروق صدیق کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ میں بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کشمیر گلوبل کونسل کی ترجمان پروفیسر ڈاکٹر حمیرہ گوہر کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے 74 سال سے کشمیریوں کی آزادی سلب کی ہوئی ہے اور نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کرنے سمیت مظالم ڈھائے ہوئے ہیں۔

5 اگست 2019ء کو بھارت نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر جموں کشمیر کو اپنا آئینی حصہ بنایا۔ اس یکطرفہ عمل کا مقصد ہندوتوا کے منشور پر عمل کرنا ہے ۔ سینئر رہنماء الطاف قادری اور حمیرہ گوہر نے کہا کہ بھارتی حکومت کی ایماء پر اب تک 1 لاکھ 10 ہزار افراد شہید کیے گئے اور 7 ہزار 8 سو افراد غایب کیے گئے۔ ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی اور ہزاروں مرد ۔ خواتین اور بچے زخمی کیے گئے۔

کشمیر گلوبل کونسل کے نایب صدر مفتی شوکت فاروقی نے کہا کہ اس تاریخی خبر اور ظلم کے باوجود کشمیری عوام کو آزادی کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکا۔ مکمل آزادی کا مطالبہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق ہے۔ پوری دنیا میں مقیم کشمیری اور انکے ہمدرد اس موقع پر بھارتی زیر قبضہ جموں کشمیر کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

بورڈ ممبران کا کہنا ہے کہ کشمیری کسی بھی طور پر آرٹیکل 370 اور 35 اے کے یکطرفہ خاتمے کو آئینی تبدیلی کو نہیں مانتے۔ اس حوالے سے انسانی حقوق کیلیے سرگرم کارکن۔ صحافی۔ وکلاء اور سیاسی قیادت اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ راجہ مظفر و دیگر کا کہنا ہے کہ بھارت نے زیر قبضہ علاقے میں غیر ریاسای افراد کو ڈومیسایل دینے شروع کیے ہوئے اور باہر کے لوگ زمینیں بھی خرید رہے ہیں ۔ یہ ایک خطرناک اور غیر آئینی مشن ہے جس کو بھارت نے جاری رکھا ہوا ہے۔ بھارت ایسے اقدامات سے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں