چٹان / عائشہ نور

تلخیاں !!!

سنہ 2000 میں مشرف حکومت نے ” براڈ شیٹ ” نامی کمپنی کی خدمات حاصل کیں تھیں۔ مشرف حکومت براڈشیٹ کےساتھ معاہدےکی روسے نواز شریف ،بینظیر بھٹو، آصف زرداری سمیت دو سو شخصیات کے y ملک اثاثہ جات کا سراغ لگا کر لوٹی ہوئی دولت وطن واپس لانے کی خواہاں تھی ۔ نیب نے براڈشیٹ سے کہا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ، پیسے آپ خود خرچ کریں ، اور لوٹی گئ دولت واپس لانے میں ہماری مدد کریں تو کل رقم کا 20 فیصد آپ کو بطور معاوضہ دیا جائےگا۔ براڈ شیٹ کمپنی کےسربراہ کاوےموسوی کےمطابق جن اثاثہ جات کا سراغ براڈشیٹ نے ڈھونڈا ، اس سے قبل کہ وہ ان اثاثوں کو منجمد کرواتے , دھوکہ دہی سے وہ اثاثہ جات غائب کردئیے گئے۔ 2003 میں نیب نے براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ بھی ختم کردیا۔ نیب کا مئوقف تھا کہ براڈشیٹ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی حالانکہ یہ الزام غلط تھا۔

کاوے موسوی کے مطابق براڈ شیٹ نے لاکھوں ڈالرز مالیت کے بینک کھاتوں کا سراغ لگا کر ثبوت فراہم کئے اور حکومت پاکستان سے کہا کہ متعلقہ حکومتوں سے قانونی چارہ جوئی کی درخواست دیں اور درخواست تحریر بھی فراہم کی مگر نیب نے عمل نہیں کیا۔ اگلے ہی روز نیب کی طرف سے ہمیں کہا جاتا کہ آپ اس ہدف کا نام فہرست سے نکال دیں ۔ کاوے موسوی نےدعویٰ کیاکہ نیب نے خود ہی اہداف کے بارے میں معلومات افشاء کردیں ۔ کاوے موسوی کا کہنا ہے کہ نیب نے دھوکہ دہی سے کام لیا ، ہم ایک ہدف کےپیچھےجاتےتوپتاچلتاکہ وہ پہلےہی پیسےنکلواکر بینک کھاتہ بندکرکےنکل گیاہے ۔ کیونکہ نیب کےاندرسےہی کوئی انہیں خبردار کردیتاکہ ہم آرہےہیں ۔

جب ہم نیب سے سوال کرتےتوکہاجاتا کہ اس شخص کانام فہرست سےنکال دیں۔ کاوےموسوی کےمطابق 3برس کےدوران انہوں نے لاکھوں ڈالراثاثہ جات کاسراغ لگانےکےلیےخرچ کیے۔ 2004 میں انہوں نےرقم حاصل کرنےکےلیےمصالحتی عدالت سےرجوع کیا تو نیب کے نمائندےنے 5 لاکھ پاونڈ لےکرچلےجانےکاکہاتوانہوں نےانکارکردیا۔ ہم نےکہا اس میں 2صفراورلگالیں کیونکہ جتنی رقم کاہم نےسراغ لگایا ، اس کا 20 فیصد اتناہی بنتاہے مگرانکارکردیاگیا ۔ تا ہم اب تک نیب کی جانب سے کوئی جواب سامنے نہیں آسکا۔

حال ہی میں براڈشیٹ کے سربراہ کاوے موسوی اور ان کی کمپنی کی طرف سے سامنے آنے والے حالیہ انکشافات نے پاکستان کی سیاست میں جو ہلچل برپا کررکھی ہے ، وہ کسی صورت پانامہ سے کم نہیں ہے۔ براڈشیٹ نے جہاں سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت کئ اہم شخصیات کےکئ بینک کھاتوں کے ٹھوس شواہد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے ، اس سے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ براڈ شیٹ کے پاس واقعی ٹھوس شواہد موجود ہیں ۔ جس کی وجہ سے 2012میں “انجم ڈار ” نامی شخص جس نےخودکو نواز شریف کا بھتیجاظاہرکیا ،شریف خاندان کی جانب سے انہیں 25ملین ڈالررشوت کی پیشکش کی تھی جبکہ شریف خاندان کی جانب سےاس دعوے کی تردیدکی گئ ہے ۔

تاہم سوال یہ ہے کہ شریف خاندان کو کیسے علم ہوا کہ براڈ شیٹ ان کے حوالے سے مبینہ شواہد اور ان نوعیت کےبارےمیں معلومات اکٹھی کرچکا ہے۔ اس سلسلے میں براڈشیٹ کے سربراہ کاوے موسوی کا کہناہےکہ “یہ معلومات نیب حکام میں سے ہی کسی نے شریف خاندان کو فراہم کی ہوں گی کیونکہ جب شریف خاندان کی جانب سےہم سےرابطہ کیاگیاتوہم نےسوچا کہ کیایہ محض اتفاق ہوسکتا ہے مگر یہ محض اتفاق نہیں تھا ” کاوے موسوی نے مزید کہا کہ نیب اور مشرف حکومت کی بددیانتی شروع سے ہی واضح تھی ۔

جب ہم نوازشریف کی بیرونِ ملک رکھی گئ دولت کا کھوج لگارہے تھے تو اس دوران جنرل (ر ) مشرف نے انہیں طیارے میں بٹھا کر سعودی عرب بھیج دیا۔ کاوے موسوی نے مزید بتایا کہ 2018میں جب انہوں نےپاکستانی حکام کےساتھ مل کرکام کرنےکاارادہ کیاتو پی ٹی آئی حکومت کےاندر سےہی بات چیت کرنےوالوں میں سے چندنےانہیں پیشکش کی کہ وہ دوبارہ معاہدہ کروا دیں گے بشرطیکہ ان کوحصہ دیاجائے, جس پرکاوے موسوی نے انکارکردیاگیا۔ 2019 میں لندن کے ایک کیفے میں پاکستانی حکومت کے چند نمائندوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے ایک ارب ڈالر مالیت کے ایک مشتبہ بینک کھاتے کے بارے میں بتایا تاہم ان میں سے ایک نے کہا کہ اس میں ان کا کمیشن کتنا ہوگا؟ تو میں نے کہا کہ ہم اس طرح کام نہیں کرتے اور اپنے وکلاء کے ذریعے حکومت پاکستان کو بھی مطلع کردیا۔ہمیں جواب ملا کہ لکھ کردیں ۔تو میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ واقعی لکھوانا چاہتے ہیں؟ کیونکہ یہ تو آپ کو اڑا کررکھ دے گا ”

چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے ایک بیان میں کہا کہ ” براڈ شیٹ نے بتایا ہےکہ ایک پاکستانی سیاسی شخصیت نے سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر برطانیہ منتقل کیے ہیں ، پاکستانی حکومت سےپوچھیں ، انہیں مذکورہ شخصیت کانام معلوم ہے۔ کاوے موسوی نے مزید کہا کہ میں عمران خان کو جانتا ہوں کہ وہ ایماندار شخص ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ وہ سنجیدہ ہیں ۔

تاہم میں نہیں جانتا کہا کیا وہ یہ کام کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ ان کی حکومت کے لوگوں کے ساتھ حالیہ تجربے کے بعد میں کچھ زیادہ پرامید نہیں ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اس وقت ہی پاکستانی حکومت کے ساتھ کام کرنے پر راضی ہوں گے ، جب انہیں یقین ہوجائے کہ نیب کے اندر موجود بدعنوان عناصر کو نکال دیا گیا ہے اور حکومت لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کےلیے سنجیدہ ہے۔براڈ شیٹ کی رپورٹ یہ سوچنےپرمجبورکرتی ہےکہ جس ملک کے احتسابی ادارے اندر سے اس قدر کھوکھلے ہوں , وہ بدعنوان عناصر کا سدباب کیسے کریں گے ؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں