متاع نظر/ سردار ساران خالق

سیاسی پٹاخے کارکن

سوشل میڈیا سے پہلے چھوٹے چھوٹے گاؤں محلے میں ہر جگہ ایک،دو چار پٹاخہ کارکن ہوا کرتے تھے جو ذاتی پر اپنے فائدے بھی سمیٹ کر محلے میں یہ کہتے پھرتے نظر آتے تھے کہ میرا ذاتی کام خواہ وہ نوکری ہوئی یا پانی کی گھر کی سکیم یا پھر ہوٹل پر بیٹھ کر لیڈر کی ہاں میں ہاں ملائی وہ اپنی ان سارے ذاتی کاموں کو محلے کی تعمیرو ترقی کا نام دے کر لوگوں کو بیوقوف بناتا تھا۔خود جھگڑے کروا کر تھانے میں بند کروانے کے عمل سے لے کر واپس لانے تک کے عمل کو لیڈر کی کامیابی اور پیار ثابت کیا جاتا تھا۔لوگوں کے فون نمبر الیکشن کے دنوں میں لیڈر کو اور اُس کے قریبی رائٹ لفٹ کو دے کر فون کال کروا کر سادہ طبعیت لوگوں کو سمجھایا جاتا تھا کہ لیڈر محترم آپ کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور ہر دفعہ آپ کا حال بھی پوچھتے ہیں۔آج کل بھی پرانے سیاسی ٹھگوں کے یہ چھوٹے چھوٹے پٹاخے جب لوگوں کے اندر چینج دیکھتے ہیں تو راستے میں چلتے ہوئے لیڈر کو گاڑی کا روکنے کا کہتے ہیں اور اُس کو پہلے بات سمجھا دی جاتی ہے کے آپ نے ان سے کہانی کیا چھیڑنی ہے، پھر وہ لوڈر وہی کہانی گھڑتا ہے اور بے چاری سادھی روح ووٹر یہ سمجھتا ہے کے لیڈر صاحب میرے پورے حال سے واقف ہیں اب ترقی آئی ہی آئی اور الیکشن میں اسی سادھا روح سے ووٹ لے کر لیڈر صاحب بھی رفو چکر اور محلے کا پٹاخہ پھر گفتگو تبدیل کرتا ہے کہ لیڈر نے میرے ساتھ بھی دھوکہ کیا۔

یہی وہ ہنر ہے جسے تہتر سالوں سے آزمایا جارہاہے اور ووٹرز بے چارے کوخبر ہی نہیں ہوئی کہ اصل واردات ڈالنے والا پٹاخہ تھا جو آج بھی لیڈر کے ساتھ مکمل رابطہ میں ہے اور آنے والے الیکشن کے لیے پھر ذہن میں گندی سوچ سوچ کر اپنے محلے کے غریبوں کو چونا لگانے کےلیے پھر بے تاب ہے پھر الیکشن آتا ہے، پھر پٹاخہ گاڑی رکواتا ہے اور پوری کہانی فوتگی سے لے کر مرغی کے مرنے کی کہانی تک لیڈر کو یاد کرواتا ہے اور لیڈر گاڑی روک کر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور پھر فاتحہ کے لیے اپنے قیمتی ہاتھ فضا میں بلند کرتا ہے ساتھ ایک آدھ قاری صاحب کی خدمات بھی مستعار لی جاتی ہیں، اور پھر ووٹر کو پٹاخہ سمجھاتا ہے کے اصل میں جنازے میں لیڈر صاحب نے مجھے کال کرکے افسوس کیا تھا مجھے یاد ہی نہیں آئی کہ وہ افسوس میں آپ کے سپرد کرتا۔

 قارئین اس قوم کے ساتھ کیا کیا تماشہ ہوتا ہے اور پھر کہنے والے کہتے ہیں ووٹر بڑا سیانا ہے جناب سیانا ووٹر نہیں بلکہ گلی محلے کا پٹاخہ ہے جو ہر دفعہ ایک ہی قسم کی واردات ڈال کر لوٹتا رہتا ہے اور کہانیاں سُنا کر ووٹ لے کر لیڈر سے واہ واہ وصول کرتا ہے،اس پٹاخہ سیاسی کارکن نے اپنے کسی عزیز کا تبادلہ کروانا ہوتا ہے وہ خفیہ انداز میں یہ کروا لیتا ہے،لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑا کر ایک کا بھی ہمدرد اور دوسرے کا بھی ہمدرد۔قارئین بتانے کا یہ مقصد ہے کہ ان سیاسی پٹاخوں سے بچیں اور آج اگر اس حلقہ بلوچ کے اندر غریب کے حقوق کی جو آواز عرصہ دراز سے جموں کشمیر پیپلز پارٹی لگا رہی ہے اُس آواز کا ساتھ جو فاروق ارشد آپ کے ساتھ ہر گرمی سردی میں موجود رہتا ہے بجلی کی بندش ہو یا بس کی کالج کو ضرورت یا آٹے کی مہنگائی ہو یا پھر بیتراں سڑک سمیت حلق کی تمام سڑکوں کے کھنڈرات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرنے والا کہیں مظلوم کو دبایا جا رہا ہو تو ظالم کے آگے فاروق ارشد کھڑا ہوتا ہے۔

یاد رکھو اگر آپ نے اپنی روش نہ بدلی اور غلامی کے پہیے کے ساتھ گھومتے رہے تو آنے والے وقت میں بھی یہ لیڈر ہارنے والا اور جیتنے والا دونوں غائب ہی  نظر آئیں گے اور سیاسی پٹاخے آپ کو بیوقوف بنا کر ہنستے رہیں گے۔ خود کو سیانا کہنے والے ووٹرز کو حقیقی معنوں میں سیانا ہونے کی ضرروت ہے تا کہ یہ سیاسی پٹاخوں کو پتہ چلے کے وہ کیسے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہے، ساڑھے چار سالو ں کے بعد فاتحہ خوانی پر موم ہو جانے والوں کو اب تھوڑا نہیں بہت سوچنا ہو گا۔موجودہ وقت میں آپ جو ڈیمانڈ کرو گے یہ آپ کے ساتھ وعدہ ضرور کریں گے لیکن وقت آنے پر آپ کے ساتھ وہی واردات ڈالتے رہین گے۔خدارہ اپنی ضمیر کی قیمتی آواز ووٹ کا خیال کریں چھوٹے چھوٹے لالچ پر ضمیر کی خرید فروخت سے پرہیز کریں اور جھوٹے وعدوں پر یقین مت کریں کیوں آپ ہر دفعہ خود ہار جاتے ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کے ان ساری چالبازیوں کا ہوش سے مقابلہ کریں قلم کے ذریعے ہم آپ کو ساری چلاکیاں سیاسی پٹاخوں کی سمجھا رہے ہیں ہم اپنا فرض پورا کرتے ہیں آگے قوم جانے اور اُس کا حال جانے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں