/پیام یورپ علی بابا کے قلم سے

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

پیارے دوستو:
کورونا کے حملے جاری و ساری ہیں کبھی تم جیتے کبھی ہم ہارے، کورونا کی ویکسین لگانا شروع کردی گئی ہیں پہلا سنٹر برسلز میں قائم کیا گیا ہے جناب یوسف کوبو سوشل انٹرپرونر نے بتایا ہے کہ میڈیکل کے شعبے سے منسلک کثیر تعداد کورونا ویکسین لگوانا نہیں چاہتے لیکن کو بو کا خیال ہے کہ ویکسین لازمی قرار دیدی جائے، پہلی ڈوزمتعدد ر افراد کو لگائی جاچکی ہے..

کام آگے بڑھ رہا ہے
صدیوں سے ہر مذہب، معاشرہ اور ملت کی یہ روایت رہی ہے کہ اپنے گذرے ہوئے، بزرگوں، معاشرہ کے سر بر آوردہ لوگوں یا ذمہ دار افراد کے وعدے، عہد نامے، یا روایات آنے والوں، ان کی جگہ لینے والوں کیلئے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہو تے ہیں اور باعث تقلید ہوتے ہیں لیکن امریکن صدر جناب جو بائیڈن جو گذشتہ برسوں میں نائب صدر کی کرسی پر براجمان تھے اور عددی اعتبار سے اٹھتر سال کے ہونے کی بنا پر گذشتہ روایات کے امین ہونا چاہئے تھے لیکن انہوں نے اس کے برعکس تباہی مچادی طالبان سے دستخط شدہ مسودہ بیک قلم منسوخ، ڈھائی ہزار امریکن فوجیوں کی زندگیاں داؤ پر لگادیں جن میں سے غالبا بیس موت کو گلے لگا چکے ہیں واہ رے امریکہ بادشاہ
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
ہندوستان کے فرمانروا نریندر مودی کسانوں سے نبرد آزما ہیں جن میں کثیر تعداد سکھ ہیں خالصتان زندہ باد کا نعرہ لازم بلندد ہوگا ہندوتوا اکثری تعداد میں ہونے کی وجہ سے مودی کی سپورٹ پر آگئے ہیں مکیش امبانی اور اڈوانی کسانوں کے نشانے پر ہیں ان کی مصنوعات اور ہر چیز جو ان سے جڑی ہوئی ہے تباہی کا شکار ہے سرمایہ داروں کی لسٹ میں امبانی نمبر ایک سے نمبر تیرہ پر آگیا ہے ابھی مزید؟؟؟؟؟ وزیراعظم مودی کو ٹھنڈے پسینے شروع ہوگئے ہیں.

مولانا فضل الرحمن مصروف پیکار ہیں مختلف لوگوں کی طرف سے اظہار رائے کیاجاتا ہے سیاسی پینترے بدلے جاتا ہیں لیکن زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔متعدد ساتھی دارمفارقت دے گئے نیب نے نوٹسوں کے انبار لگادئے مگر مولانا کی پائے استقامت تاحال قائم ہے کپتان کی تقریریں جاری و ساری ہے ہر روز کوئی نہ کوئی ایسا موقع آجاتا ہے جب کپتان کی ویڈیو انٹر نیٹ پر آجاتی ہے گرانی کیلئے کوئی ائٹم نکل آتا ہے جو غریبوں کی کمر توڑنے کا موجب بن جاتا ہے ..

کپتان اچھی طرح واقف ہے کہ پاکستان کی آدھی سے ذیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں وہ اس قابل بھی نہیں ہیں کہ اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرسکیں یا کہیں دھرنا دے سکیں وہ خاموشی سے ہر ظلم، مہنگائی کا وار اور سرمایہ داروں کی ہر حرکت خاموشی سے دیکھتے اور سہتے رہتے ہیں ان کا بس صرف اپنے آپ اور اپنے بچوں پر چلتا ہے ان کا چولہا ایک مزید وقت کیلئے ٹھنڈا ہوجا تا ہے اور اسی امید پر بیٹھے رہتے ہیں کہ شاید آنے والا کل کوئی بہتر حالات لے آئے اور یہ بات کپتان کی سمجھ میں نہیں آتی..

تقریروں سے کسی بھوکے کا پیٹ بھرا جا سکتا تو ہمارے ملک میں مقررین کی کمی نہیں ہے لیکن نظام قدرت پیٹ کا دوزخ صرف روٹی سے بھرا جاسکتا ہے کپتان نے یورپ امریکہ کی چمکتی ہوئی تہذیب، شاندار ریسٹورنٹ اور پرتکلف ڈنر دیکھے ہیں اور آج بھی وہی دیکھ رہے ہیں سسکتی ہوئی انسانیت اور بلکتے ہوئے بچوں کی آہیں اور کراہیں نہیں سنیں، ایک ماں کینسر سے ہلاک ہوئی تو نورجہاں اور دلیپ کمار کا سہارا لیکر شوکت خانم میموریل ہسپتال بنادیا لیکن انہی شہروں میں سڑک کنارے بچوں کو جنم دیتی، یا پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتال کے باہر فٹ پاتھ پر بچے جنتی عورتیں نظر نہیں آتیں

وزیراعظم صاحب: آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کے دور حکومت میں بائیں بازو کی کوئی جماعت نہیں ہے، نیشنل عوامی پارٹی اور پیپلز پارٹی اپنے نظریات سے یکسر منحرف ہوچکی ہیں کیونکہ خان عبدالغفارخان المعروف باچا خان، خان عبدالولی خان اور ذوالفقار بھٹو بائیں بازو کے لوگ تھے ان کے بعد یہ پارٹیاں بھی جاگیرداروں کے ہتھے چڑھ گئیں اور آپ جیسے لیڈران اپنے اندازمیں غریبوں کی دادرسی کررہے ہیں اور داد اکٹھی کررہے ہیں خدارا ان پچاس فیصد لوگوں کی بھی سنیں جن کی کوئی آواز نہیں کوئی فریاد نہیں جن کے پاس کوئی میڈیکل کارڈ نہیں پہنچ سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں