افادات/ڈاکٹر پیر علی رضا بخاری۔ -ایم ایل اے

کرپشن، ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ

کسی بھی ملک و قوم کی تباہی میں کرپشن کا بنیادی کر دار ہو تا ہے۔ جب ذاتی مفادات ملک و قوم سے مقدم ہو جاتے تباہی یقینی ہوتی ہے۔ اسی لیے کرپشن کو ”ام الخبائث“ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کرپشن ,بد عنوانی پاکستان اور آزاد کشمیر کا مسئلہ ہی نہیں ہے، بلکہ یہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ کیونکہ بے بہا برائیاں اس کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ کرپشن اعلیٰ اقدار ,ترقی و خوشحالی کی دشمن ہے، جو معاشرہ کو دیمک کی طرح چاٹ کر اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ چاہے یہ کسی بھی صورت میں ہو، جس قوم میں جتنی زیادہ کرپشن ہو وہ قوم اتنی ہی جلدی زوال و بربادی کے گڑھے میں جاگرتی ہے اج کرپشن ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ زکوۃ و عشر سے لے کر تعلیم تک، آمد و رفت سے لے کر احتساب تک کوئی ایک محکمہ بھی ایسا نہیں جسے کرپشن سے مبرا قرار دیا جا سکے۔ اسی کرپشن کے باعث 80 ملین پاکستانیوں کودو وقت کا کھانا بھی میسر نہیں۔

اسی کرپشن کی وجہ سے غربت میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ،یہ کرپشن، نا انصافی کا شکار ہونے والوں کو بر وقت انصاف مہیا نہیں ہونے دیتی کرپشن کے اثرات نے غریب معصوم بچوں سے ان کابچپن چھین کر انہیں مزدور بنا دیا ہے اور اسی کرپشن نے بے روزگاری میں اضافہ کر کے نوجوانوں کو جرائم کا راستہ دکھایا ہے۔کرپشن ہی وہ زہر ہے جس نے معاشرے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ زندہ قومیں کرپشن کے خلاف جنگ کرتی ہیں۔اگر کسی قوم کے رگ و پے میں کرپشن سرایت کرجائے تو وہ اپنی شناخت ،ساخت اور مقام و مرتبے سے یوں ہاتھ دھو بیٹھتی ہے، جیسے کوئی بلند مقام کبھی اس قوم کو ملا ہی نہیں تھا۔

آزاد کشمیر کے خطہ کو اللہ تعالی نے بے پناہ نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے مگر یہاں پر ان وسائل کے باوجودعوام کی زندگیوں پر کو اثر نہیں پڑ رہا اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں ایک بدعنوان لوگوں اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنا اور دوسرا وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم۔ جن کو ہم انتخابات میں کنبہ قبیلہ اور علاقہ کی بنیاد پر اپنا نمائیندہ منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں وہی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، مزکورہ دونوں وجوہات کے تدارک اور حقیقی معنوں ترقی کے لئے از بس ضروری ہے کہ آزاد کشمیر کے 43 لاکھ لوگ اپنے ووٹ کا پوری ذمہ داری سے سوچ سمجھ کر اور قوم کی امانت سمجھ کر استعمال کریں ۔ غور کیا جائے تو ہر بننے والی حکومت میں ہماری آبادی کا صرف 11فیصدلوگ ریاستی وسائل سے مستفید ہوتے ہیں ،30 سال سے بلدیاتی الیکشن ہوئے نہ طلبہ یونین بحال ہوئیں ،صرف 49 ممبران اسمبلی اور چند یوروکریٹس کے ہاتھ میں 43لاکھ لوگوں کی قسمت دیدی جاتی ہے،یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ کرپشن کے مرتکب لوگ تقریباً ہر جماعت میں موجود ہوتے ہیں یہ کوگ ایک دوسرے سے “بدی اور بدعنوانی “ پر تعاون کرتے ہیں ان میں سے جو لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں وہ اقتدار سے محروم لوگوں کی مدد کرتے ہیں..

سو بد عنوانوں کا یہ “مافیا “ یا برادری، خوف خدا اور فکر آخرت سے عاری ہو کر کرپشن اور بد عنوانی میں بری طرح ملوث ہوتی ہے محتاط اندازے کیمطابق سالانہ 10 ارب کی کرپشن اس “مافیا “ کے حصے میں آتی ہے یہ کوئی الزام نہیں بلکہ ناقابل تردید حقیقت ہے ،آزادکشمیر میں اگر کرپٹ افراد کی معلومات حاصل کرنا چاہیں تو کسی بھی عہدے پر تعینات لوگوں کی آمدنی اور خرچ کا فرانزگ آڈٹ صرف 10 منٹ میں سامنے آجاتاہے،سب سے بڑی ذمہ داری امدہ انتخابات میں عوام کی ہے خدا راہ اس برادری ازم اورجماعتی بے راہ روی سے باہر نکلیں تاکہ اپ ووٹ کا درست استعمال کر کے کرپٹ عناصر سے نجات حاصل کر سکیں کس قدر ظلم ہے کہ جو عوامی نمائندے جو آپ کے ووٹوں سے منتخب ہوئے مگر بعد میں اصول اور نظریہ کو چھوڑ کر صرف اور صرف اپنے مفاد کےلئے اپ کے ووٹوں کا سودا کرتے ہیں ۔

آزادکشمیرکے بعض سیاستدان بے روز گار ہیں لیکن ان کے اس اثاثے کروڑوں میں ہیں ،بیوروکریٹس ایک لاکھ تنخواہ لیتے ہیں لیکن ان خراجات اڑھائی لاکھ سے زائدہیں،بحریہ ٹاﺅن ،،ڈی ایچ اے ،سکیم تھری ،ایف ٹین آر ایف الیون ،پارک پلازہ ،سلور اوسک ،بنی گالہ میں جائیداد اور فلیٹس ،کرپشن کا واضع ثبوت ہیں،احتساب کا نظام نہیں،کرپشن کے خاتمہ کے نام پر قائم ادارے کروڑوں سالانہ بجٹ ہڑپ کر رہےاور کوئی پوچھنے والانہیں،خدا راہ جس کو آئندہ ووٹ دیں اس سے یہ حلف ضرور لیں کہ آئندہ کرپشن کے خاتمہ کیلئے کیاکریگا،ویسے کرپشن کاخاتمہ،خلاف میرٹ اقدامات،اقرباءپروری،برادری ازم کے فروغ کیخلاف برسرے پیکارمہم میں جس کو نقصان پہنچا وہ حقیقی شہیدیاغازی کہلانے کاحقدار ہے۔

اِن مسائل کو کنٹرول کرنے کے لئے سنجیدہ حکمت عملی نہ بنائی گئی تو 2025 تک ہمارے خطے کا شمار اخلاقی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی لحاظ سے دنیا کے سب سے زیادہ زوال زدہ خطوں کی اوّل صف میں ہوجائے گا، لیکن عوام ہمت کر کے اپنے خطے کو اس تباہی سے بچا سکتے ہیں ،کرپشن کے خاتمہ کا بہترین حل خوفِ خدا ہے۔ ووٹ کے درست استعمال خاص طور برادری اور علاقہ سے ہٹ صرف اور صرف میرٹ ، قابلیت ، صلاحیت اور دیانتداری پر ہمیں اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے اور عوام میں اس کے لئے شعور پیدا کرنا چاہئے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنا احتساب کرے اور اپنی اصلاح کر لے۔ ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم کیوں خوف خدا سے عاری ہیں۔ ووٹ کے درست استعمال کے حوالے سے ،تقریبات ، سیمینارز اور میڈیا کے ذریعہ سے کرپشن کے نقصانات کے حوالہ سے شعور بیدار کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں