نقطہ نظر/پروفیسر خالد اکبر

پرنسپل شوکت حسین بوائز ڈگری کالج تراڑکھل

اُس کی امیدیں قلیل اُس کے مقاصد جلیل
نرم دم گفتگو،گرم دم جستجو
سرخ اورسپید چہرہ،کشادہ پیشانی،دراز قد،گرجدار آواز، چہرے پرتمکنت ،اُجلا لباس اور ہجوم میں نمایاں دکھائی دینے والے باغ وبہاراں شخصیت کے مالک پرنسپل شوکت حسین ا لمعروف ڈی پی شوکت صاحب کے بارے میں ایک نظر یا ایک ملاقات میں رائے قائم کرنا مشکل ہوتی ہے۔ چند روز کی رفاقت کے بعد اُن کے شخصیت کی پرتیں کھلتی ہیں تو آپ انہیں انتہائی خوش باش،مہمان نواز، ہمدرد،ہم احساس،محنتی اور سنجیدہ شخصیت پائیں گے۔ آپ 1960 میں تراڑکھل کے نواحی گاؤں نڑیو لہ کے ایک متمول گھرانے میں متولد ہوئے۔ تاہم بعد ازاں تراڑکھل کے صدیوں سے مشہورتاریخی اورخوب صورت چارچناروں سے اس قد ر مسحوراور متاثرہوئے کے انکےعین رُوبرواپنے آشیانہ ایستاد کر دیا۔

ا نٹ میڈیٹ تک تعلیم تراڑکھل سے حاصل کی۔ گریجویشن اورفزیکل ایجوکیشن کی ماسٹر ڈگریاں پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کیں۔زمانہ طالب علمی میں فٹ بال اور والی بال کے عمدہ کھلاڑی رہے اور طلبہ تنظیموں میں بھی فعال کردا ر ادا کیا۔ بطورڈائریکٹرفزیکل ایجو کیشن شعبہ کالجز کوجوائن کیا اور یوں اپنے مادرعلمی انٹر کالج تراڑکھل سے ا پنے کیریئر کا آغاز کیا۔ سروس کے دوران خوش بختی کا بھر پورساتھ رہا۔پورے 63سال کے عرصہ میں صرف ایک دفعہ تبادلہ ہوا۔ وہ بھی گرلزانٹر کالج ترٓاڑکھل کے پرنسپل کے طور پر. یوں اپنا نشیمن سے دونوں جائے کارصرف Stone’s throwکے فاصلہ پر واقع ہوئی.

بس ہاتھ کوذرا سا twist دینے کی ضرورت رہی۔ گرلز کالج کا پرنسپل بننے کے بعد اُنھوں نے اس ادارہ کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ تراڑکھل اورنواح میں گرلز کی Strength کے بل بوتے پربڑھتے ہوئے کئی کالجز کے قدم رک گئے۔ ایک غیر معروف کالج کو انتہائی کامیاب ادارہ میں ڈھالنے کا سہرا یقیناً انہیں کے سر ہے۔ بعد ازاں 2016 میں ان کی ٹرانسفر بوائز ڈگری کالج تراڑکھل میں بطور سر براہ ادارہ ہوئی جہاں انہوں نے اپنی بقایا سروس مکمل کی اور20 فروری2021کو ملازمت سے سبک دوش ہو ئے۔

بے شک آپ نے بوائز دگری کالج تراڑکھل کو آزاد کشمیر کا صف اول کا ادارہ بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ انھو ں نے جب سے چا رج سنبھا لا اس ادارہ کے تما م شعبو ں میں اصلا ح او ر بہتری لا نے کی پو ری کو شش کی اوریقناً وہ بڑی حد تک اسے Turn around کر نے اور مطلو بہ اہداف حا صل کر نے میں کا میا ب ہو ئے۔انھو ں نے انفرا سٹر یکچر کی تعمیر، بہتر سہولیا ت کی فر اہمی،نظم نسق کی بہتر ی،عمو می ما حول کو آموزش پرو ردہ بنا نے اور سب سے بڑھ کرتعلیم کی مقداری حا لا ت کو کفیتی حا لت یعنی کوالٹی ایجو کیشن میں بد لنے کی ہمہ جہتی کو ششیں کیں۔

اپنی proactive افتاد اور شخصی تعلقا ت کا فا ئدہ ا ٹھا تے ہو ئے انھو ں نے تما م ذرائع سے اس ادارے میں سہو لیا ت کے فر وغ کے لیےکا و شیں کیں. مخیر حضر ات اور اداروں سے بھی تا ل میل پیدا کیا اور مدد حا صل کی.ادارہ کے ا حا طہ میں خو ب صو رت مسجد کی تعمیر،پا نی کی سہولیات کی فر اہمی اوراعلی قسم کے پودوں کی افزائش اس کی نمایا ں مثا لیں ہیں۔ اس کے سا تھ سا تھ کا لج کی تزئین و آ را ئش اور صفا ئی ستھر ائی پر خصو صی تو جہ دی۔یہی وجہ ہے کہ بو ائز ڈگر ی کا لج کا شما راب آ زاد کشمیر کے خو ب صو ر ت تر ین کا لجز میں ہو تا ہے۔

ان کا سب سے اہم قدم اور حا صل محدو د سٹا ف کے سا تھ ادارہ میں ما ڈل سائنس کلا سز کا اضا فی آ غا زاور اس کے نتیجے میں حا صل ہو نے والی شا ند ارکا میا بی تھی . یقیناً پہلے تعلیمی سا ل کے غیر معمو لی نتا ئج اس جو ہر ی تبد ہلی کا منہ بو لتا ثبو ت ہیں۔پری میڈ یکل کی ایک طا لبہ نے ضلع بھر میں پہلی اوربور ڈ میں نما یا ں پو ز یشن حا صل کی۔اس کے علاوہ با رہ طلبہ نے A+ اور آٹھ نےA گریڈ میں کا میا بی حا صل کی۔اس کے سا تھ سا تھ دیگر سا ئنس سیکشنزاوعلم وادب گرو پ کے نتا ئج بھی صد فیصد ی رہے۔ اسی وجہ سے وہ ذہین طلبہ جو دیگر شہروں خصوصاً پاکستان کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لیتے تھے اس کا لج کا رخ کر نے پر مجبور ہو ئے۔

اس کے ساتھ ساتھ انتہائی محدود وسائل کے باوجود BS کے چارشعبوں کی شروعات کی اور یوں عام ذہین طلبہ کی بھی ماسٹر ڈگری کی سطح تک تعلیم تک رسائی مقامی طور پر ممکن ہوئی۔
لا ریب بو ائز ڈگر ی کا لج ہمیشہ تر اڑکھل کے تعلیمی ادا رو ں میں سب سے نما یا ں رہاہے بلکہ اس کا شما رآ زاد کشمیر کے اچھے تعلیمی ادارو ں میں ہو تا رہا ہے۔ اس ادارہ کی کا ر کردگی ما ضی میں ہر دور میں نما یا ں رہی۔ اس ما درعلمی نے کئی اسا تذہ،پرو فیسرز،انجنیرز، بیورو کر یٹس،بز نس مین، سما جی اور سیا سی شخصیا ت کو جنہم لیابلکہ زند گی کے تما م شعبو ں کے لئے قا بل قدر انسا نی سر مایہ تیار کیا.

سردار شوکت حسین سے قبل کئی علمی اور ادبی شخصیات اس کالج کے سر براہ ادارہ رہے .جنھو ں نے اپنی بساط کے مطابق اس ادارہ میں بہتری کے لئے کاوشیں کی مگر جس جا ن فشانی،حکمت ،تدبر اور منصوبہ سا زی سے انھو ں نے اس ادارہ کو بہتر کیا،اسے چار چاند لگائے،اسے ایک کامیاب اورصف اول کی درس گا ہ بنایا وہ صرف انھی کا خاصہ رہا۔ اس حوالے سے ان کا نا م سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے اور یقیناً لکھا جائے گا۔

پبلک سیکٹر میں ownershipکے احساس کا فقدان ہمار ا بڑا المیہ ہے جس کی وجہ سے ہماری کارکردگی من حیث القوم ایک سوالیہ نشان ہے۔ اسی کے سبب ہمارے ہاں روز افزوں حالات میں ابتر ی،شخصی اور نجی اجار داریوں کا فروغ اور مابعدا ستحصال فی زمانہ فروغ پاتا آیا ہے ۔سردار شوکت کی بحثیت منتظم سب سے بڑی خوبی اور قابل تقلید مثال ادارہ کو پوری روح کے ساتھOwnکرناہے۔ اوقات کار کی بندش سے آ زاد اپنے زاتی دولت خانہ کی طرح ادارہ کی ساکھ اور اچھے imageکے فروغ کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنا ان ہی کاامتیاز رہا ۔ ان کے اس جذبہ اور غیر معمولی کار کردگی کے سبب بہت کم عر صے میں بوائز ڈگری کالج تراڑکھل آزاد کشمیر کے صف اول کے اداروں میں اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ اور اس میں کام کرنا اورخدمات انجام دینا سب احباب کے لئے باعث افتخار اور طمانیت کا باعث بنا۔
شوکت خان صاحب کی کمیونٹی سے روابط اور رسوخ بھی اتنہائی گہرا اور و سیع رہا۔وہ تمام طلبہ اور ان کے پور ے پس منظر سے مکمل متعارف اور آگاہ رہتے ۔ اس حوالے سے ان کا حافظہ بھی با کمال تھا۔۔ ان کے انتہائی کامیاب منتظم رہنے میں ان کی اس خوبی کا بڑا عمل دخل تھا۔ طلبہ کی تربیت اور نمو اور اداروں کے انتظام و انصرام میں یہی خوبی سب سے حاوی اور بھاری شمار کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں پبلک تعلیمی ادارے معاشرہ کے درمیان میں جزیرہ بننے اور رہنے کے متمنی رہتے ہیں حالانکہ کسی بھی تعلیمی ادارہ کا مقصد معاشرے کے لیے تربیت یافتہ، تہذیب یافتہ ،متمدن اور تخلیقی صلاحیت سے بھر پور نسل نو کی تیاری ہوتاہے ۔بے شک تعلیمی و تربیتی عمل میں کمیونٹی کی شمولیت کی خواہش اور عملاََ شراکت داری کو ممکن بنانا بطور منصرم ادارہ سردار شوکت صاحب کا مابہء امتیاز رہا اور یہی مثال تمام تعلیمی اداروں کے منتظمین کے لیے ایک تحریک اور مینارہ نور بھی ہے۔سردار شوکت کی ایک بڑی خوبی انکی مردم شناسی تھی۔ ہو سکتا ہے مینجمنٹ کے لیے انہوں نے بڑی کتب کا مطالعہ نہ کیا ہو لیکن اُن کو جبلی طور پر معلوم تھا کے کون سا کھلاڑی کس فن میں طاق اور کس پوزیشن کے لیے مناسب ہے ۔
احباب اور رفقاء کار کے مطابق وہ تمام تعصبات سے بالا، منظور نظروں اور خوشامدیوں سے مر عوب نہ ہونے والے، انتقام مزاجی سے دور، دل کے صاف،من کے کھرے ،اغلاط کی بروقت نشاندہی کرنے والے،حسن کارکردگی پر دل کھول کر کمک دہی اور تحسین کرنے والے اور اچھی تجاویز اور مشوروں کو سچے دل سے قبول کرکے ان کو ہرممکنہ طریقے سے روبہ عمل لانے والے اوصاف حمیدہ سے مزین تھے۔

شخصی طور پرآپ پکے دین دار اخلاقی روایا ت کے پرتُو ،علم کے قدردان اورعزت و توقیرکے معیارات کے آمین رہے۔آفیسری کے جو کوائف کتابوں میں درج ہیں شوکت حسین اُن سب خوبیوں سے بھی مسلح تھے۔ وہ فیصلے بروقت کرتے اور آفیسران بالا کے حکم کو من وعن مانتے تھے۔وہ By bookچلنے کے روادار تھے۔وہ اپنے فیصلوں کے درست ہونے پر یقین کامل بھی رکھتے تھےمگر بہت زیادہ خداترسی اورحساس پن کے جذبات جو انسانی کوائف کی فہرست میں سب سے عالی اور نادر انسانی خوبیاں شمار کی جا تی ہیں اُن کی ایڈمینسٹریشن کی خصوصات کو کسی حد تک گہنابھیِ کرتیں رہی۔

انہی خوبیوں کے سبب کچھ دوستوں کی محبتوں کے سبب وہ کچھ عرصہ زیر عتاب بھی رہے۔ حساس طبعیت کے سبب انہوں نے اس کو دل پر بھی لیا ہے اگرچہ انہوں نے کبھی احساس نہیں ہونے دیا لیکن ان کی نجی گفتگو سے ہمیشہ لگا کہ وہ اس واردات سے زک ہوئے۔ وہ فطرتاََ مصلح واقع ہوئے ہیں۔ وہ اصلاح اورتر بیت کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے د یتے تھے۔ وہ ہر دن اسمبلی،کلا سزیا کالج کے احاط میں طلبہ کی مختلف ٹولیوں سے مخاطب رہتے تھے ۔ ان کے پندونصائح اورواعظات کتنے زود اثر تھے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتامگراس باب میں ان کے دل نشیں انداز بیاں، خلوص اور نیک نیتی میں کوئی کلام نہیں۔

وہ انتہائی نفیس اوراعلی جمالیاتی فہم کے حامل ہیں۔ کالج کی تزئیں و آرائش میں ہر دم مگن رہے۔ آخری ہفتہ بلکہ آخری دن تک مکمل مصروف کار رہے۔ لائبریری کی تجدید نو،نئے پرا سپکٹس کے بنانے،پودوں کی شجرکاری اور دیگر معمولات میں پہلے سے زیادہ سرگرداں اور پرجوش رہے۔چہرہ پر ایسی طما نیت اور سکون جیسے ایک شہ سوار اپنے سارے سنگ میل حاصل کر چکا ہو یا کوئی کامیاب فرداپنی زندگی کے سارے گو لزاوراہداف تک پہنچ کر اُنھیں تسخیرکرچکا ہو۔ آج کےمادہ پرستی کے اس دور میں ایسا منظراورجذبہ نا پید اورعنقا ہے۔
انکی ملازمت سے سبک دوشی سے یقینا اُن کے بہت ہی یاد گار کیریئربلکہ ایک عہد کا اختتام ہو ا۔ انھوں نے ایسے benchmarks قائم کئے جن کو برقراررکھنا ان کے جانشینوں کے لئے اگرچہ نا ممکن نہیں لیکن دشوار اورجانکاہ ضرور ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان کی ملازمت سے سبک دوشی اور مابعد زندگی کواور زیادہ خوشگوار،توانااور پُر اثر بنائے۔ امین!
جو رُکے تو کوہ گراں تھے ہم
جو چلے تو جاں سے گزر گئے

اپنا تبصرہ بھیجیں