لوح ایام/شکیل احمد ترابی

آزادی کے بیس کیمپ میں نئی سیاسی بساط

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آبپارہ کو دنیا طاقت کا مرکزگردانتی ہے۔میں بظاہر آب پارہ کے قریب واقع اپنے دفتر میں بیٹھاہوں مگر خیالات کی دنیا میں سری نگر کا لال چوک گھوم رہا ہے۔جہاں ایک نہیں ہزار ہا نوجوانوں کے بہتے گرم خون نے تحریک آزادی کشمیر کو مہمیز بخشی۔جہاں بڑھاپا اور مضمحل قویٰ قائد تحریک سید علی گیلانی کے عزائم کو متاثر نہ کرسکے۔ جہاں عاشق فکتو جو قاسم فکتو کے نام سے جانے جاتے ہیں انتیس سال سے جیل میں بند،ان کی اہلیہ آسیہ اندرابی خود بھی پس دیوار زنداں ہیں۔یسین ملک شدید بیماری کی حالت میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔مگر بھارت کا کوئی ہتھکنڈہ ان قائدین کو جدوجہد آزادی سے باز نہ رکھ سکا۔ظالم و قاہر ہندوستانی جنتا اور دس لاکھ کے قریب فوج جس قوم کے عزم کو متزلزل نہ کرسکی وہ قوم جب پاکستان و آزادی کے بیس کیمپ سے کوئی بری خبر سنتی ہے تو ان کی روح کانپ جاتی ہے۔

کشمیر کا یہ باسی طاقت کے مرکز کے قریب بیٹھ کر تماشے دیکھتا ہے تو پریشانی اسے گھیر لیتی ہے۔کشمیر کا یہ قلم کار 1985میں گورنمنٹ کالج میرپور کا طالب علم تھا،آزادکشمیر اسمبلی کے تیسرے انتخابات میں سردار سکندر حیات پہلی بار وزیراعظم بنے تھے اور صدارت کا منصب سردار عبدالقیوم خان صاحب کے پاس تھا۔نوے کے انتخابات میں چوتھی اسمبلی بنی، فقیر منش راجہ ممتاز حسین راٹھور وزیراعظم بنے مگر ایک سال بعد انہوں نے منصب سے استعفیٰ اور اسمبلی توڑ کر میرپور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ دو درجن وزراء اعظم اور ایک اکیلا میں وزیر،مزید بلیک میلنگ برداشت نہیں کرسکتا تھا۔شرفا ایسا ہی طرزعمل اختیار کرتے ہیں جیسا اجلے کردار کے راٹھور نے کیا۔اللہ ان کی بخشش کرے۔

پانچویں اسمبلی91میں معرض وجود میں آئی،سردار عبدالقیوم خان وزیر اعظم بنے اور سردار سکندرحیات صدر ریاست منتخب کئے گئے۔صدر کے بھی خاصے مزے ہوتے ہیں مگر جو”سواد”وزارت عظمیٰ میں ہے اس کے تو کیا کہنے۔سکندر صاحب کو اپنی پارٹی کا قائد وزارت عظمی کے منصب پر ایک آنکھ نہ بہاتا تھا۔اس دور میں بے نامی جائیدادیں ہوتی تھیں نہ اکاؤنٹ۔دولت اور اسلام آباد میں بنگلے آپ کو میرپور کے ایک گاؤں سیاکھ کے کسی خواجہ کے نام کروانے پڑتے تھے۔90تک سکندر صاحب کی پانچوں گھی میں تھیں اور اب صرف جھنڈے والی گاڑی اور محض ہوٹر۔ دوسری طرف وزارت عظمی کے اصل مزے سردار قیوم خان کا بیٹاعتیق خان لیتا تھا۔سکندر صاحب کے بنگلے شاید اسلام آباد تک محدود تھے مگر تیز رفتار عتیق خان نے نہایت سرعت سے”جدوجہد ”کی اور مختصر عرصے میں دبئی تک میں ہوٹلز اور دیگر جائیدادوں کی ملکیت کے حوالے سے مشہور ہوگئے۔ایسے منظر میں سکندر صاحب نجی مجالس ہی نہیں بڑی بڑی تقریبات میں دل کی بھڑاس نکالتے تھے۔

یہ قلم کار اُس تقریب کا میزبان تھا جس میں سکندر صاحب نے فرمایا تھا کہ قیوم خان کی مثال دیسی حکیم سی ہے کہ وہ مرتا ہے تو میراث اور تراکیبِ علاج ساتھ ہی لے جاتا ہے۔عتیق خان کا ”ساڑ” (جلن) سکندر صاحب کے معدے سے ہوتے ہوئے زبان پر آتی تھی ایک بار فرمایاکہ عتیق امیرمعاویہ کے گھر یزید کی مِثل ہے۔مسلم کانفرنس باہم دست و گریباں تھی کہ 96میں چھٹی اسمبلی کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا اور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری وزیراعظم اور غازی ملت سردار ابراہیم خان صدر ریاست بن گئے۔سردار قیوم صاحب ان نتائج پر بہت سیخ پاہوئے اور پریس کانفرنس میں پاکستان کے ایک حساس ادارے کا نام لیکر کہا کہ اس نے بھارتی ایجنسی”را ”سے زیادہ نقصان تحریک آزادی کو پہنچایا۔اقتدار بھی کیا ظالم چیز ہے کھو جاتا ہے تو بندہ کیاسے کیا کہہ جاتا ہے۔ساتویں اسمبلی کے انتخابات 2001میں منعقد ہوئے۔ مسلم کانفرنس”ق” اور”س” گروپس میں منقسم تھی۔

عتیق خان کے پاس 26اور سکندر صاحب کے پاس تین نشستیں آئیں ۔ ان آنکھوں نے ایسا عجوبہ ماضی میں نہ دیکھا تھا کہ آمر پرویز مشرف نے مری میں تعینات ایک نیک نام جنرل کو کہا کہ عتیق نہیں سکندر وزیراعظم ہونگے۔بھائی نعیم نے سردار سکندر کے لئے نشست خالی کی۔”ق ”اور ”س ”پھر مل گئیں ۔سکندر صاحب کے انتخاب جیتنے کے بعد نئی حکومت میں انہیں وزیر اعظم اورایک حاضر سروس میجر جنرل سردار محمد انور خان کو آزاد کشمیر کا صدر بنانے کے لئے آزاد کشمیر کے عبوری ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔2006میں اسمبلی کے آٹھویں انتخابات میں سردار عتیق وزیراعظم بنے مگر عدم اعتماد کے نتیجے میں فارغ کر دئیے گئے۔

عدم اعتماد کی منصوبہ بندی میں جوڑ توڑ کے شہنشاہ سکندرحیات کا اہم کردار تھا۔عتیق صاحب کے بعد سردار یعقوب خان اور پھر راجہ فاروق حیدر وزیراعظم بنے اور یہ دونوں بھی عدم اعتماد کے نتیجے میں فارغ ہو گئے اور بقیہ ایک سال کی مدت کے لئے سردار عتیق ایک بار پھر وزیراعظم بنے۔2011میں نویں اسمبلی نے پیپلز پارٹی کے چوہدری عبدالمجیدکو وزیراعظم اور سردار محمد یعقوب خان کو صدر منتخب کیا۔2016میں دسویں اسمبلی میں مسلم لیگ ن نے توقع سے زائد نشستیں حاصل کیں، پسِ چلمن قوتوں کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے اور آزاد کشمیر سے تحریک انصاف ایک نشست حاصل نہ کر سکی۔مہاجرین کے حلقوں سے ملنے والی دونوں نشستیں بھی چوہدری برادران کیوجہ سے ملیں۔اس اسمبلی نے راجہ فاروق حیدر کو وزیراعظم اور سابق سفارتکار سردار مسعود خان کو صدر منتخب کیا۔

گیارہویں اسمبلی کے انتخابات رواں سال جولائی میں متوقع ہیں ۔وہ جنہوںنے تحریک انصاف کو پاکستان میں اقتدار پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا تھا اور جو گلگت بلتستان میں کھُل کھیل چکے ہیں آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کو اقتدار بخشنے کی تیاریاں بہت پہلے سے کر رہے تھے۔پچھلی بار بیرسٹر، عتیق گٹھ جوڑ ہزیمت کا شکار ہوا تھا۔یار لوگوں نے اس بار کئی ماہ پہلے سے منصوبہ بندی شروع کر دی تھی اور سردار سکندر کی ملاقات کئی ماہ پہلے وزیراعظم عمران خان سے کروائی گئی تھی۔راجہ فاروق حیدر نے،سکندر صاحب کا از بس خیال رکھا۔ان کے بیٹے کو وزیر ہی نہ بنایا بلکہ سردار صاحب کی کئی خواہشات پوری کیں۔مگر
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے ختمِ درد عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
فاروق حیدر الفت کے تقاضے پورے نہ کر سکے اورجس کی شکل دیکھنے کے سردار سکندر صاحب روادار نہ تھے اسی عتیق خان کو ایک بار پھرسینے سے لگا لیا۔
سکندر صاحب کی سیاست ”راجپوت ازم ”کو ہوا اور بڑے حریف جاٹ قبیلے کو گالی دیکر چلتی تھی۔اب کی بار زمانہ سیاست کے نئے چلن آزاد کشمیر میں دیکھے گا۔آبپارہ اسلام آباد کے مستری حاجی عبدالقدیر نے پرانی مسلم کانفرنس کے”ق ”اور”س”کو ایک بار پھر جوڑ دیا،جو آگے جا کر تحریک انصاف کی اتحادی ہو گی۔

آزادکشمیر میں آمدہ انتخاب میں عمران خان کی پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لئے جوڑ توڑ شروع ہے۔کشمیر کے اس پار آگ اور خون کا کھیل جاری ہے اور آزادی کے بیس کیمپ میں بے شرمی کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔حاجی قدیر آبپاروی اپنے اصل کام کرنے کی بجائے تمام توجہ مظفرآباد کے اقتدار کے”سنگھاسن”پر کون بیٹھے گا،پر مرکوز کر چکا ہے۔آنے والے دنوں میں بہت سے پرندے گھونسلے بدلنے والے ہیں۔اقتدار کی مالا انصافیوں کے گلے میں ڈالی جائے گی مگر سوال یہ کہ”یہ آزادی کا بیس کیمپ ہے یا اقتدار کا ریس کیمپ”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں