نقطہ نظر/بلال انجم

صدر آزاد کشمیر کا دورہ کراچی

میرا نہیں خیال کہ صدر آزاد کشمیر نے صدارت سنبھالنے کے بعد آج تک کسی ایک دن بھی اپنے سرکاری امور کی سر انجام دہی سے رخصت لی ہو،وہ مسلسل کام کرتے ہیں اور ان کے دل میں مقبوضہ کشمیر کی عوام کے لیے بہت ہی زیادہ محبت پائی، میری یہی کوشش رہی ہیکہ میں جناب صدر آزاد کشمیر کے تمام تر اقدمات سے آپ کو آگاہ رکھوں حال ہی میں جناب صدر آزاد کشمیر نے ایک انتہائی اہم دورہ کراچی کیا، میری کوشش ہیکہ کے میں آپ کے سامنے تمام تر تفصیل رکھوں ۔

آزادکشمیرآزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ہ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بُلٹ نہیں بلکہ بیلٹ کی ضرورت ہے، کشمیریوں کو ووٹ کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کی خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی ۔ پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور پاکستان نیوی نے اپنے بحری بیڑے میں پی ایم ایس کشمیر نامی جہاز شامل کر کے جموں و کشمیر کے عوام کے دل جیت لیے ہیں ۔ یہ بات انہوں نے کراچی میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز اور بحریہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام نویں مشترکہ عالمی میری ٹائم کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

کانفرنس سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل امجد خان نیازی، بلیو اکانامی کے بانی گنٹر پاولی، ڈائریکٹر جنرل نیما، وائس ایڈمرل عبدالحلیم اور دیگر مقررین نے خطاب کیا جبکہ کانفرنس میں بین الاقوامی شرکاء کی بڑی تعداد شامل تھی ۔ صدر آزاد کشمیر نے بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس کے شرکاء پر زور دیا کے وہ کشمیریوں کو نسل کشی سے بچانے، بھارتی حکومت کے انسانیت کے خلاف بد ترین جرائم اور کشمیریوں کی زمین پر بھارتی ہندوؤں کی غیر قانونی آباد کاری کے خلاف اپنی آواز بلند کریں کیوں کہ کشمیر یوں کو ان کا پیدائشی حق دیئے بغیر علاقائی امن و سلامتی ہمیشہ خطرات سے دو چار رہے گی ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ارد گرد پھیلا گہرا نیلا سمندر سونے کی ایسی کان ہے جس کا درست استعمال ملک کو معاشی ترقی کی بلندیوں پر لے جا سکتا ہے ۔ ہماری ایک ہزار کلو میٹر طویل ساحلی پٹی اور دو لاکھ نوے ہزار مربع کلومیٹر سمندری علاقہ جہاں ہمارا دفاعی حصار ہے وہاں درست اور دانشمندانہ منصوبہ بندی سے قدرت کے اس بیش بہا خزانے کو سمندری تجارت کے لیے استعمال کر کے ہم زمینی اور سمندری معیشت کو ترقی دے کر اس عشرے کے آخر تک ملک کی مجموعی معاشی پیداوار کو ایک کھرب ڈالر تک لے جا سکتے ہیں ۔ صدر آزاد کشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہ میں پاکستان کی معیشت کے بارے میں اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا کیونکہ ہمارا ملک کوئی لینڈ لاک ملک نہیں بلکہ ایسا خطہ ہے جس کے صحن میں بحر ہند بہتا ہے جو پاکستان کو خطہ کے کئی دوسرے ممالک سے جوڑتا ہے جن سے تجارتی روابط بڑھا کر ملک کو معاشی ترقی کے معراج مل سکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس دو بندر گاہیں ہیں ایک کراچی پورٹ اور دوسرا گوادر پورٹ ۔ گوادر پورٹ اگرچہ بڑی بندر گاہ ہے لیکن وہ ترقی کی ابتدائی مراحل طے کر رہی ہے ۔ سمندر تجارت کو فروغ دینے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ہم جیوانی، گڈانی، اومارا اور پسنی جیسے علاقوں میں نئے پورٹس اور بندر گاہیں تعمیر کریں کیونکہ جب پاکستان اور مغربی ایشیا کی معیشتیں ترقی کریں گی تو ہ میں ایسے پورٹس اور بندر گاہوں کی شدید ضرورت محسوس ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ساحلی پٹی اور علاقائی سمندر کے علاوہ پاکستان کے خصوصی معاشی زون اور گہرے سمندری وسائل سے مالا مال ہیں اور ان وسائل کو ملک کی معاشی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک خوش خیالی نہیں بلکہ ایسی حقیقت ہے جو جلد وقوع پذیر ہونے والی ہے ۔ ہمارے سمندر تیل، گیس، معدنیات، سلیٹی پتھر، حیاتیاتی تنوع، خوراک اور دوسرے وسائل سے بھر پور ہیں ۔ انہوں نے تجویز کیا کہ قومی سطح پر ایک کمیشن یا ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو خصوصی معاشی زون اور اس سے باہر سمندری وسائل کے استعمال اور بلیو اکانامی کے فروغ کا ایک واضح نقشہ اور منصوبہ تیار کرے ۔ انہوں نے کہا کہ جب بلیو اکانامی فروغ پائے گی تو پاکستان کی خوب صورت ساحلی پٹی میں سیاحت سے جڑی کئی صنعتیں وجود میں آئیں گی ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ پاکستان کی پچانوے فیصد بین الاقوامی تجارت سمندر کے راستے سے ہوتی ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان شپنگ کارپوریشن کے ذریعے صرف دس فیصدیہ تجارت ہوتی ہے اور باقی دوسرے ملکوں کے جہازوں کے ذریعے ہوتی ہے ۔

اس سیکٹر میں نج کاری اور نجی شعبے کی شمولیت سے ہم جہاز رانی کے شعبہ کو ترقی کی ایک نئی جہت دے سکتے ہیں ۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ جب ہمارا تجارتی حجم بڑھے گا سیاحت کو فروغ ملے گا اور مجموعی معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی تو مزید زیادہ اور بہتر بحری جہازوں کی ضرورت محسوس ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ فروغ پذیر بلیو اکانامی کی ضرورت کے پیش نظر ہماری مرچینٹ نیوی کو اپنی ترجیحات کا از سر نو تعین کرنا ہو گا ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بلیو اکانامی کو مزید وسعت دینے کے لیے ہ میں چین اور روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے سے منسلک ممالک کے ساتھ تعلقات اور اعتماد سازی کو بہتر بنانا ہو گا اور شعوری سفارتی کوششوں سے سی پیک کے حوالے سے مغربی ممالک کے تحفظات کو دور کرنا ہو گا کیونکہ بلیو اکانامی کی اٹھان کے لیے ہ میں مشرق، مغرب، شمال اور جنوب کے ممالک اور کاروباری اکائیوں کی حمایت درکار ہو گی ۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ ہم گوادر بندر گاہ کو چہاہ بہار، بندر عباس، دوبئی پورٹ اور دیگر بندرگاہوں کی جڑواں بندرگاہ کے طور پر متعارف کروانا ہو گا اور اس تعاون کو جبوتی، سری لنکا اور سنگاپور تک لے جانا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری سمندری معیشت ترقی کرے گی تو سمندری تحفظ اور سلامتی کی ضروریات بھی بڑھ جائیں گی کیوں کہ سمندری سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ہ میں سمندری تجارتی راستوں اور تجارتی اثاثوں کو بھی ہر قسم کی جارحیت، دہشتگردی، بحری ڈکیٹیوں ، منشیات کی سمگلنگ جیسے بین الاقوامی جرائم سے محفوظ بنانا ہو گا اور اس مقصد کے لیئے ہماری نیوی پہلے ہی مناسب اقدامات کر رہی ہے ۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام نئے امریکی صدر جو بائیڈن سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ عالمی مدبر کا کردار ادا کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کی وجہ سے علاقائی اور عالمی امن کو درپیش خطرات کو بھانپ کر اس کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے ۔

کراچی پریس کلب کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مسئلہ کشمیر کے پر امن اور منصفانہ حل کے لیے کسی بھی تیسرے فریق کی پیشکش کو قبل کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ ثالثی کے عمل میں کشمیریوں کو تنازعہ کے بنیادی فریق کی حیثیت سے شامل رکھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کشمیر پر ثالثی کر سکتی ہیں یا نہیں لیکن ہم جو بائیڈن انتظامیہ سے یہ ضرور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قتل عام کو بند کرائے اور مودی حکومت پر دباؤ ڈال کر مقبوضہ ریاست میں انسانی حقوق کی پامالی اور کشمیریوں کی نسل کشی کا گھناؤنا کھیل رکوائے ۔

صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ ریاست پاکستان مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ کرے گی اور نہ کر سکتی ہے کیوں کہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کے دل اپنے کشمیری بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ ہ میں اصل تشویش یہ ہے کہ ہماری کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہیں کیونکہ امریکہ خاموش ہے، برطانیہ کی پارلیمنٹ بول رہی ہے لیکن اس کا وزیراعظم خاموش ہے، روس کشمیر کے حوالے سے کوئی بات نہیں کر رہا ہے ۔ لیکن ہ میں یہ بھی یقین ہے کہ بین الاقوامی حالات جو بھی ہوں اور بھارت کچھ بھی کر لے، جموں و کشمیر کے عوام آزادی حاصل کر کے رہیں گے ۔

کشمیریوں نے مہاراجہ کی حکومت کی غلامی کا طوق اتار کر پھینکا تھا اور وہ بھارت کے خلاف 73 سال سے لڑ رہے ہیں ، خون دے رہے ہیں اور انہیں آزادی حاصل کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی ۔ دنیا نے برطانیہ کا عروج بھی دیکھا ہے جس کی سلطنت مشرق و مغرب میں پھیلی ہوئی تھی جس کے اوپر سے کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا وہ برطانیہ آج کہاں ہے ۔ ہندوستان بھی نہیں رہے گا ۔ اس کا بھی شیرازہ ایک دن ضرور بکھرے گا ۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے نریندر مودی نے کشمیریوں کے خلاف نہ صرف ایک با ضابطہ جنگ چھیڑ رکھی ہے بلکہ وہ ہندوستان بھر سے لاکھوں ہندوؤں کو لا کر مقبوضہ کشمیر میں آباد کر رہا ہے ۔ ان کا منصوبہ ہے کہ ایک کروڑ چالیس لاکھ کی آبادی میں ساٹھ ستر لاکھ ہندوؤں کا اضافہ کیا جائے تاکہ مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے ۔

بعد ازاں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے انڈس ہسپتال کراچی کا دورہ کیا اور وہاں غریب اور نادار افراد کو جدید ترین علاج معالجے کی سہولتوں کا جائزہ لینے کے علاوہ ہسپتال کے عملے اور مریضوں سے ملاقات بھی کی ۔ انہوں نے کہا کہ انڈس ہسپتال نے آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں اپنے شفا خانوں کا ایک نیٹ ورک بنایا جہاں غریب اور مستحق افراد کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ ملک بھر میں متعدی اور غیر متعدی امراض کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے جو ایک بہت بڑی قومی خدمت ہے ۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ریاست سے محبت، اسکی خدمت اور ملک کے مفاد کو اپنی ترجیحات میں سر فہرست رکھیں کیونکہ جب ملک اور ریاست خوشحال ہو گی تو ہم میں سے ہر ایک خوشحال ہو گا اور ترقی کے ثمرات سے مستفید ہو گا ۔

میں نوجوانوں کی آنکھوں کی چمک میں پاکستان کے روشن مستقل کو دیکھتا ہوں ۔ ہم میں سے ہر ایک کی کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کی آنکھوں میں امید اور یقین کی چمک کو قائم و دائم رکھیں اور ان کی امید کو نا امیدی میں نہ بدلنے دیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے مشہور جگن ناتھ نرائن ویدیا سکول کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب میں اخوت فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن نذیر احمد توینو، سیکرٹری تعلیم سندھ حکومت احمد بخش ناریجو، سکول کے اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ریاست پاکستان ایک بڑی ریاست ہے جس کے بہت مسائل بھی ہیں جن کو ہم سب نے مل کر حل کرنا ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کی بڑی ذمہ داری نوجوانوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اس ملک کی بھاگ ڈور سنبھالنی ہے ۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ محنت و مشقت کو اپنی عادت ثانیہ اور امانت و دیانت اور سچائی کو اپنا شعار زندگی بنائیں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں کامیابی سے نہیں روک سکتی ہے اور جب نوجوان کامیاب ہوں گے تو سارا پاکستان اور ہمارا معاشرہ کامیاب ہو گا ۔

ہمارے نوجوان آج اگر یہ عہد کر لیں کہ نہ صرف اپنی زندگیاں سنواریں گے اور ریاست کو درپیش مسائل بھی حل کریں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کو موجودہ مسائل کے دلدل سے نہ نکالا جا سکے ۔ صدر آزاد کشمیر نے نوجوان طلبہ کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ ملک کی خدمت کا جذبہ نہ صرف اپنے اندر پیدا کریں بلکہ آگے بڑھ کر یہ جذبہ دوسروں کے اندر بھی پیدا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں نرائن جگن ناتھ جیسے معیاری تعلیمی ادارے میں علم کی پیاس بجھانے کا موقع مل رہا ہے ۔ اس نادر موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے آپ کو علم، دانش اور آگاہی کے زیور سے آراستہ کر کے ملک و قوم کی خدمت کریں ۔ صدر آزاد کشمیر نے ملک کی نامور سماجی تنظیم اخوت فاؤنڈیشن کے بانی امجد ثاقب اور دیگر عہدیداران کو نرائن جگن ناتھ سکول جیسے معیاری تعلیمی ادارے کے بہترین انتظام و انصرام پر مبارک باد دی ۔ بعد ازاں صدر سردار مسعود خان نے ملک کی مشہور سماجی تنظیم سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کیا جہاں تنظیم کے چیئرمین مولانا بشیر فاروقی اور تنظیم کی سینئر مینجمنٹ کے ارکان نے ان کا خیر مقدم کیا ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے ملک بھر میں اپنے تنظیمی نیٹ ورک کے ذریعے سماجی خدمات پر سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے اور اس سلسلے میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ سماجی شعبہ میں کام کرنے والی تنظیموں اور افراد کے لیے ایک رول ماڈل ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں