مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا سہراوزیراعظم عمران خان کے سر جاتا ہے،مختار عباسی

مظفرآباد (سٹیٹ ویوز) وزیر اعظم عمران خان نے جس انداز سے مسلہ جموں و کشمیر اجاگر کیا اس کے ثمرات آہستہ آہستہ سامنے آنا شروع ہو گے ہیں۔ اقوام متحدہ نے پانچ اگست 2019  میں مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے اقدامات کو بنیادی حقوق کی پامالی سے تعبیر کرتے ہوئے حقیقت میں عمران خان کے مسلہ کشمیر پر دو ٹوک موقف کو تسلیم کر لیا۔ وزیر اعظم  عمران خان نے جنرل اسمبلی میں واضع طور پر کہا تھا   کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کر کے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کی طرف مسلہ کشمیر پر آواز اٹھانا پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا ثبوت ہے۔ مسئلہ کشمیر کی گونج اقوام متحدہ سے لیکر امریکی ایوانوں تک پہنچانے میں وزیر اعظم عمران خان کا ایک تاریخی کردار ہے جس پر کشمیری عوام ان کے شکر گزار ہیں۔ 

ان خیالات کا اظہار ممبر کشمیر کونسل سردار مختار  عباسی نے سینئر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔  مختار عباسی نے کہا عمران خان ایک مستحکم اور کرپشن سے پاک پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں ۔ پاکستان کے لوگ اور کشمیری عوام عمران خان کو ایک نجات دہندہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔  آزاد کشمیر میں موجودہ حکومت کی کار کردگی صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اللہ نے انہیں موقع دیا تو وہ دار الحکومت  مظفر آباد کو اسلام آباد کی طرح بنانا چاہتے ہیں ۔ مختار عباسی نے کہا کہ اس شہر کی سڑکیں کشادہ ہوں تاکہ ٹریفک کا دباو کم ہو۔

انہوں نے واضع کیا کہ  حکومت سرکاری وسائل استعمال میں لاکر  عام  انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوششوں سے باز رہے۔ موجودہ حکومت نے  بد انتظامی کو فروغ دے کر سرکاری ملازمین کو دیوار کے ساتھ لگانے کی مسلسل کوشش کی جس کا ثبوت آئے روز ملازمین کی ہڑتالیں ہیں۔ لیکن وہ سرکاری ملازمین کو وفاقی حکومت کے برابر مراعات دلوانے کے لئے ہر قدم اٹھایں گے۔ مختار عباسی نے کہا کہ انہیں کسی حکومتی عہدے  کا لالچ نہیں ہے بلکہ وہ آزاد کشمیر کو ایک مثالی اور ترقی یافتہ خطہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ آزاد کشمیر کو ترقی کی راہ پر ڈال کر وہ ہر ایک شہری کو معاشی طور پر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ مختار عباسی نے کہا کہ وہ نوجوانوں کے حوالے سے ایک انقلابی پروگرام رکھتے ہیں جس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کو ہنر مند بھی بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  اس وقت دنیا میں ہنر مند افراد کی مانگ سب سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ وہ زیادہ سے زیادہ  نوجوانوں کو تیکنیکی تعلیم  دے  کر انہیں سرکاری نو کریوں کے بجائے اپنا کاروبار  کرنے یا انہیں باہر ممالک جاکر روز گار کمانے کی تر غیب دیں گے۔   آزاد کشمیر میں کاروبار کرنے والے نوجوانوں کے لئے سیاحتی شعبہ کو میں ایک مثالی شعبہ بنا یں گے۔ مظفرآباد شہر کا ہر گھر میرا اپنا گھر ہے اور اس شہر کو دنیا کا خوبصورت شہر بنایں گے۔ اس شہر کو مانسہرہ اور اسلام آباد کے ساتھ کشادہ موٹر ویز کے ذریعے  منسلک کر کے رہوں گا۔ مجھے یقین ہے آزاد کشمیر میں حکومتی سطح پر وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے بلکہ کمی اگر ہے تو وہ شفافیت، احساس ذمہ داری اور احتساب کی ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران حکومت کو جو پیسہ ملا اس پیسے سے آزاد کشمیر میں بڑی تبدلی لائی جا سکتی تھی مگر بدقسمتی سے زمین پر وہ پیسہ بہت کم نظر آرہا ہے ۔۔سسٹم کو بہتر اور عوام دوست بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ ،

دار الحکومت کو سب سے پہلے سوئی گیس لاکر دوں گا اور اس شہر میں کھیل کے  میدانوں کی تعداد بڑ ھا یں گے۔ شہر کے اندر ہسپتالوں کو مثالی بناوں گا تاکہ لوگ  مریضوں کو پنڈی اور ایبٹ آباد جانے پر مجبور نہ ہو ں  ۔ موجودہ حکومت  کی کار کردگی پر سوال کا جواب  دیتے ہوئے مختار عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے  اصلاحات  کے نام پر انتظامی ڈھانچہ  تباہ کر کے  رکھدیا لیکن اس کا میرے پاس ایک بہترین حل ہے جو وقت آنے پر عوام کے سامنے رکھوں گا۔ اس وقت آزاد کشمیر حکومت کی یہ حالت ہے کہ آئے روز کوئی نہ کوئی محکمہ اور ادارہ ہڑتال پر ہوتا ہے۔ میرا مرنا اور جینا اس شہر کے لئے ہے۔۔ پیر چناسی روڈ بناکر میں نے اس شہر کو ایک تحفہ دیا اور انشا اللہ اسی طرح کے سیکڑوں تعمیراتی منصوبوں کی شکل میں پورے آزاد کشمیر کو پیر چناسی روڈ کی طرح تحائف دوں گا۔۔ لیکن مظفرآباد سب سے زیادہ ترقی اور بنیادی انفرا اسٹریکچر کی بہتری کے حوالے سے سب سے زیادہ مستحق ہے ۔

شہر کے اندر ترقیاتی ادارہ جات کو سیاست سے پاک کر کے ان کو عوام کا خادم بناوں گا۔۔ترقیاتی اداروں میں تعینات لوگوں کو عوامی فلاح کے منصوبوں کی نگرانی اور لوگوں کی خدمت پر لگانا میری سیاست ہے اور اس کے لئے میں مظفرآباد کے ہر شہری کے پیار کا مقروض ہوں ۔ مختار عباسی نے کہا کہ جو محبت انہیں  مظفرآباد کے ساتھ ہے وہ  کسی اور جگہ سے نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر نے ہر ایک کو عروج دیا مگر جواب میں عروج پانے والوں نے اپنے محلات بنائے لیکن اس شہر کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کسی نے کچھ نہیں کیا۔ شہر کے اندر اربوں روپے کا جدید واٹر سپلائی کا نظام موجود ہے لیکن  محکمہ آب رسانی کے پاس انسانی وسائل موجود نہیں  کہ وہ اس منصوبے کو کامیابی سے چلا سکیں۔۔مختار عباسی نے کہا کہ شہر کے اندر زلزلے کے بعد  جو بھی عوامی منصوبہ جات تعمیر ہوئے ہیں جن میں  پلازے اور دیگر عمارات  بھی شامل ہیں ان کو اصل مقصد کے لئے استعمال میں لایں گے اور  زلزلہ متاثرین کو ا ن کا حق دیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں مختار عباسی نے کہا شہر کی آبادی بڑھ رہی ہے اور اس مقصد کے لئے ہنگامی بمیادوں پر سٹیلائٹ ٹاون میں پانی کا مسلہ حل کر کے مظفرآباد کے شہریو ں کو ایک اچھی رہائش بھی دیں گے۔  انہوں نے کہا کہ وہ مظفر آباد کے شہریوں کو مایوس نہیں کریں گےبلکہ اس شہر کے نوجوانوں کو آگے لیکر چلیں گے تاکہ مظفرآباد وفاقی دار الحکومت کی طرح بن جائے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں