عارضی پتہ پر ووٹ نہ ڈالنے کی شق کیخلاف متاثرین نےہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز)عارضی پتہ پر ووٹ نہ ڈالنے کی شق کیخلاف عدالت العالیہ میں متعدد رٹ پٹیشنز دائر‘ آزادجموں کشمیر الیکشنز ایکٹ ترمیمی 2021ء بنیادی انسانی حقوق کے متصادم ہے کالعدم قرار دیاجائے۔

پٹیشنرزکی استدعا۔ عدالت العالیہ کے دو رکنی بینچ جس کی سربراہی قائم مقام چیف جسٹس جسٹس اظہر سلیم بابر کررہے ہیں جبکہ بینچ میں جسٹس صداقت حسین راجہ بھی شامل ہیں نے رٹس ہاء کو منظور کرتے ہوئے فریقین 24فروری جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ 25فروری کو حتمی بحث ہوگی۔

آزاد جموں کشمیر الیکشنز ترمیمی ایکٹ 2021ء جو حال ہی میں قانون ساز اسمبلی سے منظور ہوا جس میں سابقہ ایکٹ کی دفعہ 24کو حذف کرکے آزادکشمیر کے باشندگان سے عارضی پتہ پر ووٹ پول کرنے کا حق چھین لیاگیا تھا کیخلاف آزادکشمیر کے متاثرہ عوام الناس نے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیاہے۔

پٹیشنرز نے رٹ پٹیشنز میں موقف اختیار کیا کہ آزادکشمیر زیادہ تر آباد ی دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے جو روزگار اور ملازمت کے سلسلے میں شہروں میں آباد ہیں تاہم ان میں سے اکثر کے مستقل پتے پرمکانات موجود نہیں ہیں وہ عارضی پتے پر ہی مستقل رہائش پذیر ہیں لیکن قومی شناختی کارڈ میں مستقل پتہ آبائی علاقوں والا ہی ہے۔

مگر حکومت نے نئے ایکٹ کے تحت اب این او سی پر ووٹ ڈالنے کی سہولت ختم کردی ہے جس سے خدشہ ہے کہ رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد اپنا بنیادی حق رائے دہی استعمال کرنے سے محروم ہو جائے گی۔ نیز دیہی علاقوں میں پولنگ سٹیشنز دور دراز علاقوں میں ہونے اور سڑکوں‘ٹرانسپورٹ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے معمر‘مریض‘ خواتین اور معذور افراد حق رائے دہی سے محروم رہے گے۔

موجودہ مہنگائی کے دور میں جب ایک عام شہر ی جو دو وقت کی روٹی بمشکل کماتا ہے وہ ایک ووٹ دینے کی خاطردور دراز اپنے آبائی علاقہ میں کثیر رقم خرچ کرکے کیسے پہنچے گا۔ پٹیشنرز نے مزید موقف اختیا رکیا کہ جمہوری نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے ووٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ آزادنہ مرضی سے حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنی مرضی کا نمائندہ منتخب کرے۔

عارضی پتہ سے ووٹ کاحق ختم ہونے سے ٹرن آؤٹ بھی نہایت کم رہے گا۔ پٹیشنرز نے رٹ ہا ء میں یہ بھی موقف اختیار کیا کہ آزادجموں کشمیر عبوری آئین کے آرٹیکل 4(15) کے تحت تمام ریاستی باشندگا ن کو برابری کاحق حاصل ہے متذکرہ ترمیم علاقائی تعصب کے زمرے میں بھی آتی ہے لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں