نقطہ نظر/روزینہ علی

تمباکو سے ملک بچاؤ

تمباکو سے ملک کا مستقبل واقعی خطرے میں ہے، مالم جبہ کی حسین وادیوں میں نوجوان نسل پر تمباکو کے اثرات اور اسکے خطرات پر روشنی ڈالنے کے لیے سپارک نامی تنظیم کی جانب سے ایک سیمینار ہوا اور ماہرین نے کئی رازوں سے پردہ اٹھایا، سیمینار میں ڈاکٹرز، میڈیا نمائندگان اور تمباکو کے خلاف کام کرنے اور باریکی سے اسکے نکات پر کام کرنے والے ماہرین نے شرکت کی،،، سپارک بورڈ آف ڈائرکٹرز چیئر پرسن فلک،کنٹری ہیڈ کمپیئن فار تمباکوفری کڈز ملک عمران احمد،خلیل احمد اور دیگر ماہرین نے تمباکو کے نقصانات ، نوجوان نسل پر اثرات اور معیشت پر اثرات پر بتایا کہ تیزی سے ملک میں تمباکو کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہیں،، ملک کی 37 فیصد آبادی تمباکو سے متاثر ہے، اور تمباکو کا استعمال کرنے والوں میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے، اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہر روز بارہ برس کی عمر کے سینکڑوں بچے سگریٹ نوشی کی بری لت کو اپناتے ہیں۔اور روزانہ کی بنیاد پر 1200 بچے تمباکو کے کسٹمر بنتے ہیں،،،

ویسے ماہرین کی ان تمام باتوں کی جھلک حقیقت میں صبح بھی دیکھی،، صبح سویرے دس بجے آفس کے قریب پنجاب کالج کے نوجوان لڑکے جنہیں بڑے مان سے گھر سے پڑھائی کے لیے بھیجا گیا ہوگا،،، باپ جو محنت اور خون پسینے کی کمائی اپنے جوان پر لگا رہے ہونگے کہ یہ قابل با شعور ہوگا پڑھ لکھ کے کچھ کرے گا مگر نوجوان لڑکے کالج کے باہر گرین بیلٹ پر باپ کی کمائی کتابوں کے بجائے سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا رہے تھے،، اور ان نوجوانوں کی بیٹھک کم از کم یہ پتہ ضرور دے رہی تھی کہ گھر والوں سے چھپ کر دوستوں کے ساتھ ہی دو کش لگتے ہیں،، یہ مناظر دیکھ کر میں یہ سوچنے لگی کہ موجودہ حکومت جس طرح کرپشن کے پیچھے ہے تمباکو کے پیچھے کیوں نہیں ،، ان نوجوانوں کو بچانے کی فکر حکومت کو کیوں نہیں ،،،

بات پھر کہیں اور نکل گئی کیوں کہ اس بات پر پریشانی شدید ہو رہی کہ 37 فیصد آبادی خود اپنے ہاتھوں اپنی جان لینے پر تلی ہے اور بچانے والا کوئی نہیں ،، ماہرین نے تو کہا کہ تمباکو کا بڑھتا رجحان روکنے کی بہت ضرورت ہے اور اسکے لیے ہر سال 30 فیصد سگریٹ مہنگا کرنے کی ضرورت ہے،، لیکن کیا صرف 30 فیصد سگریٹ مہنگا کرنے سے قابو پایا جا سکے گا،، آجکل تو بچوں کی جتنی پاکٹ منی ہے اس میں کچھ بھی خریدنا بہت آسان ہے ان کے لیے ،، خیر مزید تشویش ہوئی جب ماہرین صحت نے شرکا کو آگاہ کیا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں تیرہ سے پندرہ برس کے بچوں کی تعداد دس اعشاریہ سات فیصد ہے اور اس میں سب سے خطرناک رجحان اسموک لیس ٹوبیکو کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ہے جس میں روایتی نسوار کے ساتھ ای سگریٹس اور نکوٹین پائوچ کا ہے…

نسوار ہر چوک چوراہے پر عام فروخت ہوتی جسے شاید اس معاشرے میں زیادہ برا نہیں سمجھا جاتا ، دیگر نشہ آوور اشیا کیسے پہنچ رہی ہیں ملک کے مستقبل تک؟، ہمارے ہاں تمباکو پر ٹیکس بڑھانے کے علاوہ تو سخت قانون بنانے کی ضرورت بھی ہے،، قانون سے یاد آیا پڑوسی ملک بھارت کے بارے میں وہیں کے دوستوں سے پتہ چلا کہ بھارت میں کھلے عام سگریٹ پینے پر پابندی ہے خلاف ورزی پر جرمانہ ہے لیکن ہمارے ہاں قانون ہے نہیں اور آفسز یا اداروں کے اندر یہ قانون ہے کہ اندر بیٹھ کر سگریٹ نہیں پینا باہر پی سکتے ہیں باہر کے ماحول کو آلودہ کر سکتے ہیں ،،کیوں نہیں ہے قانون ،، کیوں حکومت تمباکو کے معاملے پر خاموش ہے ہمارے ہاں تو چینلز پر تمباکو کے خلاف اشتہار ہی نہیں چلتا کہ کس قدر مضر صحت ہے پڑوسی ملک کی پھر مثال دینی پڑ رہی ہے ٹی وی ڈرامہ فلم ہر چیز سے پہلے تمباکو کے خلاف اشتہار چلتے ضرور دیکھا گیا ہے ،، یہی نہیں کئی یورپی ممالک کے چینلز پر بھی اشتہار چلتا ہے ہمارے ہاں تو یہ عالم ہے اشتہارات پر بھی قدغن ہے ،،

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ٹوبیکو مافیا اس قدر طاقتور ہے کہ اعلان کے باجود حکومت کو سگریٹ کی ڈبیا پر تصویری وارننگ 85 سے کم کر کے ساٹھ فیصد کرنا پڑی،اس کا کیا مطلب لیا جائے کہ ایوانوں میں بیٹھنے والے ہی عوام کے بارے سنجیدہ نہیں ہیں ،، ماہرین نے حکومت وقت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے تمباکو مافیا کے نمائندے نہ صرف موثر قانون سازی بلکہ قانونی کارروائیوں کی راہ میں بھی رکاوٹ ڈالتے ہیں،،کیوں یہ رکاوٹیں ؟؟؟؟دیکھا جائے تو جن ممالک سےتمباکو کا سگریٹ نوشی کا ٹرینڈ آیا وہاں پر کچھ ایسی حقیقی کہانیاں منظر عام پر آئیں کہ وہاں بھی کچھ سخت اقدامات کیئے گئے ،، برائن کرٹس کی کہانی کون نہیں جانتا گوگل پر یہ نام لکھئیے تو بہت تکلیف دہ کہانی سامنے آئے گی …

برائن کرٹس نے 13 سال کی عمر میں ہی سگریٹ نوشی کی عادت اپنائی کم عمری کا شوق پختہ عادت بنا اور پھر برائن کرٹس ایک دن میں دو ڈبی سگڑیٹ پینے لگے جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہوگئے جگر بھی سگریٹ نوشی سے متاثر تھا برائن کرٹس کو جب احساس ہوا کہ یہ سگریٹ نوشی کی لت انکی زندگی کو خطرے میں ڈال رہی ہے تو سگریٹ ترک کرنے کی کوشش کی مگر دیر ہو چکی تھی اور بہت جلد 34 برس کی عمر کو پہنچنے والے تھے کہ ڈیتھ ہوگئی اور تب دو سال کا بچہ اپنی بیوہ کے ساتھ چھوڑ گئے ،، برائن کرٹس کی اس کہانی کو دیکھتے ہوئے سگریٹ کی ڈبیوں پر انکی تصویر بھی لگی مگر ہمارے ہاں نظام کیا ہے تمباکو مافیا طاقتور ہوتا جا رہے اس روکنے کی جراءت کسی میں کیوں نہیں
برائن کرٹس کی مثال ہی کیوں میرے خود نانا ابو سگریٹ نوشی کے باعث ایسے بیمار ہوئے کہ سانس لینا انکے لئے مشکل ہوتا تھا…

کون اپنے پیاروں کو یوں تکلیف میں دیکھ کے خوش ہوتا ہے کئی دوستوں نے کچھ عرصہ قبل اپنے پیاروں کی کہانیاں شیئر کیں اور پھر سب نے مل کر آواز اٹھائی ٹویٹر ٹرینڈ چلا لیکن یہاں چند آوازوں کا کام نہیں سب کو آواز اٹھانا ہوگی ،پالیسی بنانا ہوگی ،، ۔وقت کی ضرورت ہے کہ سخت سے سخت قانون تمباکو کے خلاف بنا کر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،اور نوجوانوں کو کھیلوں کی سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے اور بہتر تو یہی ہے کہ حکومت کو خود بھی سروے کرنے چاہیئے،، حکومت کا نعرہ صرف کرپشن فری پاکستان نہیں تمباکو فری پاکستان بھی ہونا چاہئیے،

تمباکو مافیا نشے کا کاروبار کرنے والے سر عام اور چھپ چھپ کر موت بیشنے والوں کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونا چاہئیے ، قانون بنانے والے اداروں میں بھی سختی ہونی چاہئیے تمباکو کے خلاف،، تمباکو جو اسٹیٹس سمبل بنتا جا رہا ہے اس کو روکنے کے لیے لائحہ عمل ہونا چاہئیے ،، اس شعر کے ساتھ بات ختم کرونگی اور امید کرونگی کہ تمباکو کے خلاف بھی حکومت کام کرے گی ،،

زندگی سمجھا تھا جس سگریٹ کو میں
بن کے سرطان جاں میری لے گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں